ننگبو گرین لائٹ انرجی پاکستان میں ایس پی اے سی کے ذریعے پہلی لسٹنگ کیلئے تیار
- پاکستان کی آئی پی او مارکیٹ میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے
قابلِ تجدید توانائی کی کمپنی ننگبو گرین لائٹ انرجی پاکستان میں بلینک چیک کمپنی کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ میں عوامی سطح پر آنے والی پہلی کمپنی بننے جا رہی ہے، جبکہ اس کی بیک ڈور لسٹنگ چند ہفتوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ بات کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے بلومبرگ کو بتائی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قاسم ننگبو نے بتایا کہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے سولر آلات درآمد کرنے والی کمپنی ننگبو گرین لائٹ انرجی، ایل ایس ای ایس پی اے سی-ون لمیٹڈ کے ریورس ٹیک اوور کے لیے عدالت کی منظوری کی منتظر ہے۔
ایل ایس ای ایس پی اے سی-ون، ایل ایس ای کیپیٹل لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، جس نے مئی میں ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے 25 کروڑ روپے حاصل کیے تھے۔ کمپنی نے حاصل شدہ رقم سے ننگبو گرین لائٹ انرجی میں 19.04 فیصد حصص خریدے، جس کی جزوی ملکیت ننگبو گرین لائٹ انرجی گروپ کمپنی لمیٹڈ کے پاس ہے۔
پاکستان کی آئی پی او مارکیٹ میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے اور 2026 میں بھی یہ مضبوط رفتار کے ساتھ جاری رہی ہے، جبکہ نئی لسٹنگز نے عمومی طور پر لسٹنگ کے بعد مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس بحالی کی بڑی وجوہات میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت معاشی استحکام میں بہتری، مارکیٹ میں مثبت جذبات، بلند لیکویڈیٹی، شرح سود میں کمی اور سیاسی استحکام شامل ہیں، جو مجموعی طور پر ایکویٹی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ایل ایس ای کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آفتاب احمد چوہدری نے بلومبرگ کو بتایا کہ پاکستان میں روایتی آئی پی اوز پختہ اور طویل عرصے سے قائم کمپنیوں کے لیے ہوتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ترقی کے مرحلے میں موجود اور آئی پی او کے حجم پر پورا نہ اترنے والی کمپنیاں بھی کیپیٹل مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کر سکتی ہیں۔ اس سے فنانسنگ کے انتخاب میں تنوع پیدا ہوا ہے۔
پاکستان میں متبادل توانائی کے ذرائع، خصوصاً شمسی توانائی، کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے، جو رہائشی اور تجارتی شعبوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔
تقریباً 22 کروڑ 40 لاکھ آبادی کا حامل جنوبی ایشیائی ملک درآمدی تیل اور مائع قدرتی گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، جس کے باعث وہ عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے حساس ہے۔
جاری امریکا یران جنگ اور آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایندھن کی قلت نے حکومت کو متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش کے لیے فوری اقدامات پر مجبور کر دیا ہے، جبکہ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔