✕
کاروبار اور معیشت

ڈیزل کی قیمت میں 3.47 روپے فی لیٹر اضافہ، پیٹرول 43 پیسے سستا

  • نئی قیمتیں جمعہ، 18 ستمبر کئلئے مؤثر رہیں گی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے جمعرات کو پٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 3.47 روپے فی لیٹر اضافہ جبکہ موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 43 پیسے فی لیٹر کمی کردی۔

وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نئی قیمتیں جمعہ، 18 ستمبر 2026 تک مؤثر رہیں گی۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 421.45 روپے سے بڑھا کر 424.92 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔

دریں اثنا، موٹر اسپرٹ (ایم ایس) کی قیمت 391.22 روپے سے کم کرکے 390.79 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ قیمتوں میں ردوبدل وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ پٹرولیم قیمتوں کے طریقہ کار کے تحت کیا گیا ہے۔

ڈویژن کے مطابق قیمتوں میں تبدیلی عالمی عوامل کے باعث ضروری ہوئی، جن میں پلاٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات میں اتار چڑھاؤ شامل ہے۔

گزشتہ جائزے میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت 68.8 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد 391.22 روپے فی لیٹر کردی تھی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 421.45 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔

دریں اثنا، جمعرات کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی ہوئی اور قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئیں۔ عمان کے راستے سعودی خام تیل کی اضافی کھیپ روانہ کیے جانے کی اطلاعات کے باعث رسد سے متعلق خدشات میں کمی آنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہا، تاہم مشرق وسطیٰ میں تنازع پھیلنے کے خدشات کے باعث قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں۔

گرینچ مین ٹائم کے مطابق صبح 10 بجے برینٹ خام تیل کے سودے 3.85 ڈالر یا 3.64 فیصد کمی کے بعد 101.98 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ اس سے قبل قیمت 10 ستمبر کے بعد کم ترین سطح تک گر گئی تھی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے بھی 3 ڈالر یا 2.93 فیصد کمی کے بعد 99.43 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جو 11 ستمبر کے بعد کم ترین سطح ہے۔ دونوں معاہدوں کی قیمتوں میں بدھ کو بھی تقریباً 3 ڈالر کی کمی ہوئی تھی۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کی جانب سے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو جلد دوبارہ فعال کیے جانے کے اشارے کے بعد خام تیل کی قیمتیں ہفتہ وار بلند ترین سطح سے نیچے آگئیں، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے قریب اضافی لوڈنگ کے ذریعے تیل کی ترسیل برقرار رکھنے کی کوششوں سے بھی رسد سے متعلق خدشات کم ہوئے۔