ایندھن ریلیف اسکیم : پیٹرولیم ڈیلرز کے پیکیج پر عملدرآمد سے انکار کے بعد حکومت کا ہنگامی اجلاس آج طلب
- پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا اسکیم کے آغاز سے قبل 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کی ادائیگی کا واضح طریقہ کار سامنے لانے کا مطالبہ
وزارتِ پٹرولیم نے حکومتی پٹرول ریلیف پیکیج کے تحت سبسڈی کی رقم کی واپسی کے طریقہ کار کی وضاحت اور پٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات دور کرنے کے لیے جمعرات (آج) کو ڈیلرز کے ساتھ ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔
وزارتِ پٹرولیم نے یہ آن لائن اجلاس پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) کی جانب سے واضح ادائیگی کا طریقہ کار سامنے آنے تک حکومتی پٹرول ریلیف پیکیج پر عملدرآمد سے انکار کے بعد طلب کیا ہے۔ پی پی ڈی اے نے شفاف طریقے سے سبسڈی کی رقم کی ادائیگی کا طریقہ کار حتمی بنانے کے لیے فوری مشاورت کا مطالبہ کیا تھا۔
پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ جی ہاں، وزارتِ پٹرولیم کے سیکریٹری نے پی پی ڈی اے سے رابطہ کیا ہے اور جمعرات کو آن لائن اجلاس ہوگا، جس میں ڈیلرز کو سبسڈی کی رقم کی واپسی کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے گا اور ان کے دیگر تحفظات بھی دور کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے بعض نمائندے اسلام آباد میں اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ دیگر ارکان کراچی سے آن لائن شریک ہوں گے۔
اس سے قبل دن میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی ڈی اے کے چیئرمین ملک خدا بخش، وائس چیئرمین طارق حسن اور نائب صدر انور کمال نے واضح طور پر کہا کہ پی پی ڈی اے کی مشاورت سے قابلِ قبول سبسڈی ادائیگی کا طریقہ کار اعلان کیے جانے تک پٹرول اسٹیشنز حکومت کے اعلان کردہ ریلیف پیکیج کے تحت پٹرول فروخت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر پی پی ڈی اے سندھ زون کے صدر امیر خان، کراچی پی پی ڈی اے کے صدر سعید خان اور دیگر ارکان بھی موجود تھے۔
وفاقی حکومت نے ریلیف اسکیم کے تحت یکم جنوری 2011 کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں، چنگ چی، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم پی پی ڈی اے کا کہنا ہے کہ حکومت نے نہ تو ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لیا ہے اور نہ ہی سبسڈی کی تقسیم کا کوئی واضح طریقہ کار بتایا ہے۔ یہ اسکیم 17 ستمبر 2026 سے ملک بھر میں شروع کی جانی ہے۔
ملک خدا بخش نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے زبردستی اسکیم نافذ کی تو ہم اپنے پٹرول پمپس چلانے کے قابل نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے ڈیلرز کی رقم کو اس عمل میں شامل کرنے کے بجائے اپنے وسائل سے یہ ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وزارتِ پٹرولیم کے حکام، بالخصوص پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک سے رابطے کی کئی کوششیں کی ہیں، لیکن اسکیم کے اعلان کے بعد سے انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
وفاقی حکومت کے پٹرول ریلیف پیکیج کو مسترد کرتے ہوئے ملک خدا بخش نے کہا کہ پیکیج کے اعلان سے قبل ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پٹرولیم ڈیلرز کو ان کی رقم کس طرح واپس کی جائے گی، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے سابقہ وعدے بھی تاحال پورے نہیں ہوئے۔
پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 14 ہزار پٹرولیم ڈیلرز ہیں اور وہ آج رات سے ریلیف پیکیج کے تحت پٹرول فروخت نہیں کریں گے، لیکن انہوں نے کہا کہ حکومت کمپنیوں کی ملکیت والے پٹرول پمپس کے ذریعے یہ اسکیم نافذ کرسکتی ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026