✕
دنیا

مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون حملہ ناکام بنادیا، سعودی اتحاد کا دعویٰ

  • حوثی عہدیدار نے مکہ پر حملے کے سعودی دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا
شائع اپ ڈیٹ

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے یمن سے حوثی گروپ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا گیا ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم فوجی اتحاد کے ترجمان نے بدھ کو بتایا کہ سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو اس وقت تباہ کردیا جب وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے والا تھا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں لڑائی کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔

ترجمان ترکی المالکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مکہ المکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش کی تھی۔ ان کے بقول پہلی کوشش 27 جولائی 2017 کو مکہ پر بیلسٹک میزائل داغ کر کی گئی تھی۔

ترکی المالکی نے واضح کیا کہ مسجد الحرام سمیت مقدس مقامات کا تحفظ سعودی عرب کے لیے ریڈ لائن ہے اور ایسے مزید حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

تاہم حوثی حکام نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

سعودی عرب پر ہونے والے حملوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو پہلے ہی چھ ماہ سے جاری امریکا۔ایران جنگ کے باعث شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت انتہائی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحل کے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے جہاں سے باب المندب پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس پیش رفت سے آبنائے ہرمز کے راستے سے منتقل ہونے والی سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

سعودی عرب نے منگل کو مکہ مکرمہ کے حوالے سے سکیورٹی الرٹ جاری کیا، تاہم حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اس الزام کو کھلا جھوٹ قرار دیا۔

حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے صبا نیوز نے ان کے حوالے سے یہ بیان جاری کیا۔

حوثیوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب پر کئی بڑے حملوں کا اعلان کیا ہے جن میں پیر کو ایک ایئربیس پر کیا گیا حملہ بھی شامل ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے یمن پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے حکام کے مطابق ایئربیس پر حملے کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے۔

سعودی عرب نے جمعہ کو ہونے والے ایک حملے کا الزام عراق میں قائم ایک الگ ایران نواز گروپ پر عائد کیا ہے جس کے نتیجے میں مملکت کے تیل کی نقل و حمل کے اہم ترین راستوں میں سے ایک، صحرائے عرب سے گزرنے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، متاثر ہوئی۔

1,200 کلومیٹر (745 میل) طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے خلیجی علاقوں میں واقع آئل فیلڈز کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے اور گزشتہ تقریباً سات ماہ سے جاری جنگ کے دوران مملکت کی تیل برآمدات کا بنیادی راستہ رہی ہے۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہے جبکہ اس جنگ میں خطے بھر میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جمعہ کے حملے کے بعد پائپ لائن کی بندش کے باعث تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ بندش طویل ہوگئی تو عالمی تیل سپلائی کا 4 فیصد تک متاثر ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ پائپ لائن سے آپریشن کب بحال ہوسکتے ہیں۔

تاہم امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے منگل کو سی این بی سی کو بتایا کہ چند روز میں پائپ لائن کے ذریعے خام تیل کی ترسیل بحال ہوجانی چاہیے۔

سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف برسرپیکار اتحاد کی قیادت کررہا ہے۔

حالیہ برسوں میں جنگ بندی کے باعث یہ تنازع بڑی حد تک پُرسکون ہوگیا تھا تاہم رواں ماہ حوثیوں کی جانب سے یمنی حکومت کے حامی فورسز کو پسپا کیے جانے کے بعد دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے فوجی مدد طلب کی تھی، تاہم اب تک امریکی تعاون صرف انٹیلی جنس معاونت تک محدود رہا ہے۔