✕
اداریہ

پاور مارکیٹ: کاغذ سے عملی میدان تک

شائع اپ ڈیٹ

پاور ریگولیٹر نیپرا کی جانب سے یکساں یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) کی منظوری پاکستان کی طویل عرصے سے التوا کا شکار مسابقتی بجلی مارکیٹ کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اس فیصلے کا مقصد اوپن ایکسس نظام کی بنیادی ضرورت کو پورا کرنا ہے کہ صارفین کو ایک ہی قومی بجلی کے گرڈ کے استعمال کی لاگت میں غیرمنصفانہ فرق کا سامنا کیے بغیر اپنے بجلی فراہم کنندہ کے انتخاب کی آزادی حاصل ہو۔

یہ وقت خاص اہمیت رکھتا ہے۔ کمرشل مارکیٹ آپریشنز ڈے کا اعلان جنوری میں کیا گیا تھا اور پہلی مسابقتی نیلامی جون میں ہونے والی تھی، تاہم اس کے معاون ٹیرف فریم ورک میں اب تک تبدیلیاں جاری ہیں۔ قابلِ پیش گوئی اور غیر امتیازی وہیلنگ چارج کے بغیر، جس کا کافی چرچا کیا جاتا رہا ہے، مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) محض پالیسی کی خواہش ہی رہتی، ایک فعال مارکیٹ کی شکل اختیار نہ کر پاتی، لہٰذا نیپرا کے فیصلے نے ایک اہم ریگولیٹری خلا کو پُر کردیا ہے۔

اصولاً اس مؤقف سے اختلاف کرنا مشکل ہے۔ کوئی بڑا صارف بجلی کسی ڈسٹری بیوشن کمپنی سے خریدے یا متبادل سپلائر سے، استعمال ہونے والا ترسیلی اور تقسیمی نیٹ ورک بنیادی طور پر ایک ہی ہوتا ہے۔ محض مختلف سپلائرز کا انتخاب کرنے کی بنیاد پر نیٹ ورک کے مختلف صارفین سے الگ الگ چارجز وصول کرنا مسابقت کے مقصد ہی کو ناکام بنا دے گا۔ لہٰذا نیپرا کا یہ مؤقف درست ہے کہ یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) سپلائر سے غیر وابستہ اور یکساں بنیاد پر لاگو ہونے چاہئیں۔

تاہم، ریگولیٹر کی جانب سے منظور کردہ ڈھانچہ اس امر کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی بجلی مارکیٹ اب بھی پرانے انتظامات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ یو او ایس سی محض گرڈ کے ذریعے بجلی کی ترسیل کی لاگت کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس میں ترسیل و تقسیم کے چارجز کے ساتھ ساتھ کراس سبسڈیز بھی شامل ہیں، جبکہ پھنسے ہوئے اخراجات اور ڈیبٹ سروسنگ سرچارج بھی بل میں مزید اضافی بوجھ کا باعث بن سکتے ہیں۔ مسابقتی وہیلنگ نیلامی میں حصہ لینے والے صارفین کے لیے متغیر چارجز 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ تک ہیں جبکہ مسابقتی نیلامی سے باہر اوپن ایکسس اختیار کرنے والے صارفین کو پھنسے ہوئے اخراجات کے باعث نمایاں طور پر زیادہ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔

یہیں سے تھوک بجلی مارکیٹ کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ مسابقت کا مطلب محض یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صارفین کو سپلائر تبدیل کرنے کی اجازت دے دی جائے جبکہ نظام میں موجود تقریباً تمام پرانے اخراجات بدستور برقرار رہیں، اگر متبادل سپلائر صرف بجلی کے بل کے اس باقی ماندہ حصے پر مقابلہ کرسکے جو کراس سبسڈیز، کیپیسٹی واجبات، قرضوں کی ادائیگی اور پھنسے ہوئے اخراجات وہیلنگ صارف پر عائد کیے جانے کے بعد بچتا ہے تو حقیقی قیمت کے تعین کی گنجائش محدود ہی رہے گی۔

کے الیکٹرک کے معاملے میں اختیار کیا گیا طریقہ کار بھی اہم ہے۔ پاور ڈویژن چاہتا تھا کہ یکساں یو او ایس سی کے اطلاق سے کے الیکٹرک کو پیدا ہونے والے کسی بھی مالی خسارے کو وہیلنگ صارفین پر اضافی چارج عائد کرکے پورا کیا جائے۔ نیپرا نے اس تجویز کو مسترد کردیا جو درست فیصلہ ہے، کیونکہ اوپن ایکسس صارفین پر مخصوص طور پر اضافی بوجھ ڈالنے سے یکساں حالات رکھنے والے صارفین کے درمیان خود امتیاز پیدا ہوجاتا۔ اضافی چارج کو اوپن ایکسس اور سپلائر آف لاسٹ ریزورٹ، دونوں طرح کے صارفین پر عائد کرنے کا فیصلہ یکسانیت کے اصول سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔

شاید اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نیپرا نے ایک ایسے رجحان سے گریز کیا ہے جس نے بارہا بجلی شعبے میں اصلاحات کو نقصان پہنچایا ہے: یعنی یکسانیت کی لاگت نسبتاً کم تعداد میں موجود ان صارفین پر منتقل کرنا جو ریگولیٹڈ مارکیٹ سے نکلنے کے خواہاں ہیں۔ پاور ڈویژن نے تجویز دی تھی کہ ڈسکوز کے درمیان نرخوں کے فرق کو سابقہ مدت کی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے وہیلنگ صارفین سے وصول کیا جائے۔ نیپرا نے اس کے بجائے صارفین کے لیے یکساں ٹیرف کے موجودہ طریقہ کار کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ زیادہ قابلِ دفاع طریقہ ہے کیونکہ بصورت دیگر مسابقتی صارفین کو مسابقت کا انتخاب کرنے پر عملاً سزا دی جائے گی۔

تاہم ترسیلی اور تقسیمی نقصانات کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ نیپرا نے 11 کے وی صارفین کے لیے 8.04 فیصد اور 132 کے وی سے منسلک صارفین کے لیے 1.51 فیصد کے یکساں لاس فیکٹر کی منظوری دی ہے۔ تاہم مختلف ڈسکوز میں حقیقی نقصانات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ چنانچہ یکساں لاس فیکٹر کے اطلاق سے نسبتاً زیادہ مؤثر ڈسکو میں بجلی کی اضافی مقدار جبکہ زیادہ نقصانات والے علاقے میں شارٹ فال پیدا ہوسکتا ہے۔ ریگولیٹر نے ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کار مؤخر کردیا ہے کیونکہ آئی ایس ایم او (انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر) کی تجویز پر خاطر خواہ غور نہیں کیا گیا تھا۔

اس معاملے کو ایک اور غیر حل شدہ ایڈجسٹمنٹ نہیں بننے دینا چاہیے جو نظام میں خاموشی سے موجود رہے اور بالآخر سابقہ مدت کے چارج کی صورت میں سامنے آئے۔ پاکستان کے بجلی شعبے کو ٹیرف فیصلوں میں تاخیر، اخراجات کو مؤخر رکھنے اور بعد ازاں یہ بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا کافی تجربہ ہے۔ مسابقتی مارکیٹ کے لیے صرف وہیلنگ چارج کی بنیادی شرح ہی نہیں بلکہ انحرافات، نقصانات اور پرانے اخراجات کو ایڈجسٹ کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے بھی واضح اور یقینی نظام ضروری ہے۔

ریگولیٹر کی جانب سے یہ وضاحت قابلِ فہم ہے کہ یو او ایس سی میں وقتاً فوقتاً ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی کیونکہ نیٹ ورک کی لاگت کو مستقل طور پر منجمد رکھنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ تاہم ایڈجسٹمنٹ کا طریقہ کار شفاف، فارمولے پر مبنی اور بروقت ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مسابقتی مارکیٹ بھی روایتی بجلی ٹیرف نظام کو درپیش تاخیر سے ہونے والی ایڈجسٹمنٹس کی اسی روش کا شکار نہ ہو۔

بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سی ٹی بی سی ایم (کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹس مارکیٹ) کو محض ایک اور ٹیرف اصلاحات کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ پاکستان کے بجلی شعبے کے تنظیمی ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ کئی دہائیوں سے صارفین کے پاس بجلی کے ذریعے یا ذریعۂ فراہمی کے انتخاب کے حوالے سے کوئی بامعنی اختیار نہیں تھا۔ عمودی طور پر مربوط نظام، ریگولیٹڈ ٹیرف، کراس سبسڈیز اور لاگت کی یقینی وصولی کے طریقہ کار اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیے گئے تھے۔ اس کے برعکس، تھوک مارکیٹ کے لیے ضروری ہے کہ صارفین کو تجارتی بنیادوں پر انتخاب کرنے کی آزادی حاصل ہو اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں اور سپلائرز قیمت اور خدمات کے معیار کی بنیاد پر ایک دوسرے سے مسابقت کریں۔

یہ منتقلی لازماً ان غیر موثریت کو بھی سامنے لائے گی جن کی لاگت موجودہ نظام میں تمام صارفین پر اجتماعی طور پر منتقل کی جاتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ مشکل سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں کہ پھنسے ہوئے کیپیسٹی اخراجات کا بوجھ کس پر ڈالا جائے، کراس سبسڈیز کی مالی ضروریات بالآخر کیسے پوری کی جائیں اور کیا غیر مؤثر ڈسکوز کے اخراجات کو مؤثر ڈسکوز کے ساتھ یکجا کرکے وصول کیا جاتا رہنا چاہیے۔اگر مسابقت کا مطلب محض بلنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی سے بڑھ کر کچھ ہے تو ان سوالات کو غیر معینہ مدت تک نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

نیپرا اس بات کا کریڈٹ مستحق ہے کہ اس نے مسابقت کے لیے یکساں مواقع کی بنیادی اصول کی بنیاد رکھ دی ہے۔ تاہم، سی ٹی بی سی ایم کی حقیقی کامیابی کا اندازہ یو او ایس سی کے نوٹیفکیشن سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ آیا صارفین کو واقعی قابلِ اعتماد متبادل بجلی سپلائرز دستیاب ہوتے ہیں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں بامعنی مسابقت کرتی ہیں، نیٹ ورک کی لاگت زیادہ مؤثر بنتی ہے اور نظام بتدریج عمومی نوعیت کی کراس سبسڈی سے دور ہوتا ہے یا نہیں۔

حکومت کو اب ابھرتی ہوئی مارکیٹ کو حد سے زیادہ انتظامی کنٹرول میں رکھنے کے رجحان سے گریز کرنا چاہیے۔ ریگولیٹر کو نیٹ ورک کے استحکام کا تحفظ اور مارکیٹ میں بدعنوانی یا ناجائز طریقہ کار کی روک تھام ضرور کرنی چاہیے، تاہم تجارتی معاملات کے نتائج کا تعین بتدریج مسابقت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیرف، نقصانات اور پھنسے ہوئے اخراجات سے متعلق تمام زیر التوا ایڈجسٹمنٹس کو شفاف اور بروقت طریقے سے نمٹایا جائے۔

پاکستان کئی برسوں سے مسابقتی بجلی مارکیٹ کے قیام کی بات کرتا آرہا ہے۔ یو او ایس سی کا فیصلہ اس عمل کو حقیقت کے ایک قدم مزید قریب لے آیا ہے، اب اگلا چیلنج یہ یقینی بنانا ہے کہ مارکیٹ محض کاغذوں پر مسابقتی نہ ہو، جبکہ پرانے اخراجات اور غیر مؤثر نظام بدستور اس کے پردے میں تمام صارفین پر اجتماعی طور پر منتقل ہوتے رہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026