پیٹرول کی قیمت میں 4.42 روپے، ڈیزل میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافہ
- پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چھٹی مرتبہ اضافہ
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں مزید 4.42 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے، جس کا اطلاق منگل، 15 ستمبر 2026 کیلئے ہوگا۔ یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چھٹا اضافہ ہے۔
وزارت توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیر کو حکومت کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے تحت ان کی ایکس ڈپو قیمتوں میں نظرثانی کی۔
موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمت میں 4.42 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 375.82 روپے سے بڑھ کر 380.24 روپے فی لیٹر ہوگئی۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 403.32 روپے سے بڑھ کر 409.42 روپے فی لیٹر ہوگئی۔
حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور دیگر لاگت کے عوامل کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں میں نظرثانی کے جاری طریقہ کار کے مطابق نئی قیمتیں منگل تک نافذ العمل رہیں گی۔
گزشتہ نظرثانی میں، جس کا اطلاق ہفتہ، 12 ستمبر سے ہوا تھا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت بڑھا کر 375.82 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403.32 روپے فی لیٹر کردی تھی۔
عالمی سطح پر پیر کو تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور دونوں بڑے اہم اشاریے 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر کی سطح پر فروخت ہوتے رہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی نئی لہر کے باعث تیل کی رسد سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت صبح 11 بج کر 39 منٹ (امریکی مشرقی وقت) تک 2.72 ڈالر یا 2.6 فیصد اضافے سے 107.33 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.51 ڈالر یا 2.5 فیصد بڑھ کر 102.56 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جس کے باعث اس کی قیمت 19 مئی کے بعد بلند ترین یومیہ اختتامی سطح پر پہنچنے کی راہ پر تھی۔
یمن کے حوثیوں نے پیر کو کہا کہ انہوں نے سعودی شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی ایئربیس پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغے، جبکہ جمعہ کو سعودی عرب کی مشرق و مغرب پائپ لائن پر ہونے والے حملے، جس کا الزام عراق میں ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر عائد کیا گیا، کے باعث ریاض کو خام تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے بجائے بحیرہ احمر کے راستے موڑنا پڑی، جس سے عالمی تیل کی رسد میں 4 فیصد تک کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا۔