جی ایس پی پلس کو یقینی حق نہیں سمجھا جاسکتا
- پاکستان نے جی ایس پی پلس سے بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا ہے اور تجارتی انفرااسٹرکچر کے ساتھ ساتھ قانونی فریم ورک کے لحاظ سے بھی اس کے پاس اس سہولت سے مستقبل میں استفادہ جاری رکھنے کی بنیاد موجود ہے مگر اگلے مرحلے میں ماضی کے طریقہ کار سے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہوگی
پاکستان 2014 سے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس، جسے عام طور پر جی ایس پی پلس کہا جاتا ہے، سے مستفید ہو رہا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ ترجیحی تجارتی انتظام ہمارے لیے معمول بن چکا ہے، بلکہ تقریباً ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے یہ سہولت ہمیشہ برقرار رہے گی۔ تاہم حالیہ پیش رفت سے واضح ہے کہ ایسا ہرگز نہیں۔
یورپی کمیشن نے رواں سال 16 جولائی کو پاکستان کی جی ایس پی پلس سے متعلق تعمیل کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ جاری کی، جس میں 2023 سے 2025 تک کی مدت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ پاکستان نے مطلوبہ بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کی اور متعدد اہم قوانین منظور کیے۔
تاہم کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس پیش رفت کا بیشتر حصہ قانون سازی کی سطح تک محدود رہا ہے اور ابھی تک زمینی سطح پر ٹھوس تبدیلیوں میں تبدیل نہیں ہوسکا۔ سادہ الفاظ میں قوانین تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض شعبوں میں کمیشن نے پیش رفت کو محدود بھی قرار دیا۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ اب قواعد تبدیل ہو رہے ہیں۔ موجودہ جی ایس پی فریم ورک رواں سال کے اختتام پر ختم ہوجائے گا۔ اس کی جگہ یورپی یونین کا نیا ضابطہ 2026/1395 لے گا، جو 2027 سے نافذ ہوکر 2036 تک جاری رہے گا۔ پاکستان سمیت موجودہ مستفید ممالک کو 31 دسمبر 2028 تک عبوری مدت دی گئی ہے، مگر اس کے بعد سہولت کا تسلسل خودکار نہیں ہوگا۔ پاکستان کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی اور اس کے لیے قابلِ پیمائش اہداف اور مقررہ مدت پر مشتمل تفصیلی ایکشن پلان بھی پیش کرنا ہوگا۔
حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے اعلیٰ حکام واضح کرچکے ہیں کہ جی ایس پی پلس کی سہولت کو یقینی حق نہیں سمجھا جاسکتا۔ تاہم اب تک پاکستان کی ترجیحی تجارتی سہولت معطل کرنے سے متعلق کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس صورت حال سے کچھ گنجائش ضرور ملتی ہے، لیکن غفلت کی نہیں۔
یورپی یونین کے مجموعی مؤقف سے واضح ہوتا ہے کہ آئندہ صرف بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد بنیادی معیار ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق اب قابلِ مشاہدہ اور قابلِ تصدیق نتائج پر زیادہ زور دیا جارہا ہے، خصوصاً گورننس، مزدوروں کے حقوق اور ماحولیاتی وعدوں سے متعلق شعبوں میں۔
صورتِ حال کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ داؤ پر کیا لگا ہوا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات تقریباً 8.96 ارب ڈالر رہیں۔ یورپی یونین ہماری مجموعی برآمدات کا تقریباً 28 فیصد حصہ ہے، جبکہ پاکستان کی یورپی یونین کو بھیجی جانے والی تقریباً 90 فیصد مصنوعات جی ایس پی پلس کے تحت ترجیحی سہولت کی اہل ہیں۔ ان برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ 70 سے 76 فیصد کے درمیان ہے، جبکہ ملبوسات کے لیے ترجیحی سہولت کے استعمال کی شرح 95 فیصد سے زائد ہے۔ 2024 میں پاکستان کو تقریباً 732 ملین یورو کی ٹیرف چھوٹ حاصل ہوئی۔ یہ اعداد صرف تجارتی حجم کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ ملک بھر میں فیکٹریوں، سپلائی چینز اور لاکھوں افراد کے روزگار سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر ترجیحی تجارتی رسائی ختم ہوگئی تو اس کے اثرات فوری طور پر محسوس ہوں گے۔ اس وقت یورپ میں ڈیوٹی فری داخل ہونے والی مصنوعات، خصوصاً ملبوسات، پر تقریباً 12 فیصد تک ٹیرف عائد ہوسکتا ہے، جس سے وہ تقریباً راتوں رات مسابقت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گی۔ اس حوالے سے مثالیں بھی موجود ہیں، سری لنکا پہلے مکمل طور پر جی ایس پی پلس سہولت سے محروم ہوچکا ہے، جبکہ بولیویا کو جزوی طور پر یہ سہولت واپس لی گئی تھی۔ لہٰذا یہ محض فرضی خدشات نہیں ہیں۔
صورتحال اس لیے مزید اہم ہے کہ عالمی مسابقتی منظرنامہ بھی تبدیل ہورہا ہے۔ بھارت نے رواں سال کے آغاز میں یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کے مذاکرات مکمل کرلیے ہیں۔ معاہدہ نافذ ہونے کے بعد بھارتی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو یورپی یونین کی منڈی تک ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوجائے گی، جبکہ ان پر جی ایس پی پلس جیسی کنونشنز پر مبنی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔
دوسری جانب بنگلہ دیش نومبر 2026 میں کم ترقی یافتہ ملک (ایل ڈی سی ) کی حیثیت سے نکلنے والا ہے، تاہم یورپی یونین کے عبوری قواعد کے تحت اسے 2029 کے اواخر تک ڈیوٹی فری رسائی برقرار رہے گی۔ یوں پاکستان ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے: اسے دوبارہ درخواست کے عمل کے ذریعے ترجیحی تجارتی رسائی برقرار رکھنا ہوگی، جبکہ اس کے دو بڑے علاقائی حریف مختلف راستوں سے اپنے تجارتی فوائد محفوظ یا برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہیں۔
اسی طرح یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ برآمدی صنعت نے اپنی جانب سے بھی نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کے بڑے ٹیکسٹائل مینوفیکچررز دنیا میں سب سے زیادہ آڈٹ ہونے والے اداروں میں شامل ہیں۔ متعدد فیکٹریوں نے ایل ای ای ڈی سرٹیفکیشن حاصل کیے، پانی اور توانائی کی بچت کے اقدامات اپنائے اور صنعتی فضلے کی صفائی و ری سائیکلنگ کے نظام میں سرمایہ کاری کی۔ خطرناک کیمیکلز کے صفر اخراج (زیڈ ڈی ایچ سی)، او ای کے او ٹیکس سرٹیفکیشن اور بیٹر کاٹن انیشی ایٹو جیسے پروگرام بھی برسوں سے اس شعبے کا حصہ ہیں۔
مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے بھی یورپی خریداروں کے مطلوبہ معیار پر پورا اترنے کے لیے ایس ای ڈی ای ایکس، ایس ایم ای ٹی اے، ڈبلیو آر اے پی، بی ایس سی آئی اور ایس اے 8000 جیسے آزاد سماجی آڈٹ باقاعدگی سے کرائے جاتے ہیں۔ ان معیارات پر پورا اترنا محض انتخاب نہیں بلکہ یورپی برانڈز کے ساتھ کاروبار کے لیے بنیادی شرط ہے۔
تاہم وسیع تر تعمیری تقاضوں، خصوصاً ان شعبوں کا تعلق جن پر یورپی یونین کے جائزے میں توجہ مرکوز کی گئی ہے، انفرادی برآمد کنندگان کے اختیار سے باہر ہے۔ صنعت فیکٹری کی سطح پر تمام معیارات پر پورا اترنے کے باوجود اپنی منڈی تک رسائی کو لاحق خطرات سے نہیں بچ سکتی، کیونکہ بعض مسائل پر اس کا براہِ راست اثر نہیں ہوتا۔ یہی بنیادی مسئلہ ہے: جی ایس پی پلس سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا شعبہ ہی ریاستی سطح پر اٹھائے جانے والے بعض تعمیری خدشات سے نمٹنے کی سب سے کم صلاحیت رکھتا ہے۔
اس بحث میں توانائی کا معاملہ بھی براہِ راست اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں صنعتی بجلی کے نرخ خطے میں بدستور بلند ترین سطح پر ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق صنعتی بجلی کا ٹیرف 13.5 امریکی سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ ہے، جو بھارت کے 6.3 سینٹ سے دگنا اور ویتنام کے 7.3 سینٹ سے تقریباً دگنا ہے۔ بالخصوص بی تھری اور بی فور صنعتی ٹیرف پر کام کرنے والے برآمد کنندگان یہ بوجھ مسلسل برداشت کر رہے ہیں۔ جب مختصر مدت کے لیے خطے میں مسابقتی توانائی ٹیرف متعارف کرایا گیا اور صنعتی بجلی کی قیمت تقریباً 9 سینٹ تک آگئی تو ٹیکسٹائل برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اسی طرح یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم (سی بی اے ایم) حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں ٹیکسٹائل کو بھی اس کے دائرہ کار میں شامل کیا جائے گا۔ اگر برآمد کنندگان کو سستی اور صاف توانائی کے ذرائع تک رسائی حاصل نہ ہوسکی تو انہیں ایک طرف مقامی سطح پر بلند پیداواری لاگت اور دوسری جانب برآمدی منڈیوں میں کاربن سے متعلق ممکنہ اضافی اخراجات، دونوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ ایک ساختی مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مثبت پہلو یہ ہے کہ جی ایس پی پلس کے لیے درکار قانون سازی اور بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کا بیشتر کام مکمل ہوچکا ہے۔ پاکستان نئے اور زیادہ سخت فریم ورک کے تحت درکار مزید پانچ کنونشنز کی بھی توثیق کرچکا ہے، جس کے بعد مجموعی تعداد 27 سے بڑھ کر 32 ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نے جی ایس پی پلس کے دوبارہ درخواست دینے کے عمل کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جو حوصلہ افزا اقدام ہے۔ تاہم وقت محدود ہے، کیونکہ عبوری مدت ختم ہونے میں صرف دو سال سے کچھ زیادہ عرصہ باقی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ موجودہ فریم ورکس پر کس مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا جاتا ہے اور مقررہ وقت پر پاکستان ایک قابلِ اعتماد اور جامع منصوبہ پیش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔
پاکستان نے جی ایس پی پلس سے بڑے پیمانے پر فائدہ اٹھایا ہے اور تجارتی انفرااسٹرکچر کے ساتھ ساتھ قانونی فریم ورک کے لحاظ سے بھی اس کے پاس اس سہولت سے مستقبل میں استفادہ جاری رکھنے کی بنیاد موجود ہے مگر اگلے مرحلے میں ماضی کے طریقہ کار سے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر مربوط کوشش کرنا ہوگی، تاکہ گزشتہ ایک دہائی کی محنت ٹھوس اور نمایاں نتائج میں تبدیل ہوسکے۔ مواقع موجود ہیں، لیکن صورتحال کی نزاکت بھی اتنی ہی واضح ہے۔ ایسے وقت میں جب بھارت اور بنگلہ دیش اپنی جگہ خاموش نہیں بیٹھے، پاکستان بھی غفلت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026