✕
دنیا

یمنی حوثی اہم بحری گزرگاہ کے دہانے پر واقع اسٹریٹجک جزیرے تک پہنچ گئے

  • یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی افواج جزیرہ پریم سے نکل گئیں، حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی قصبے ذباب پر بھی قبضہ جمالیا
شائع اپ ڈیٹ

یمنی حکومت کے چار ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یمن کے حوثی باب المندب میں واقع اسٹریٹجک جزیرے پیریم تک پہنچ گئے ہیں، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی جنگ کے دوران عالمی بحری جہاز رانی کے اس اہم راستے پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کی حمایت یافتہ، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے دو ذرائع نے بتایا کہ ان کی افواج پیریم سے پیچھے ہٹ گئی ہیں اور حوثیوں نے خشکی پر بحیرہ احمر کے ساحلی قصبے ’ذباب‘ پر بھی قبضہ کر لیا ہے جو اس جزیرے کے سامنے واقع ہے۔

اگر حوثی باب المندب پر کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں جو آبنائے ہرمز کے مخالف سمت میں واقع ہے تو اس سے ان کے سرپرست ایران کو امریکہ کے ساتھ جنگ میں اہم برتری حاصل ہو سکتی ہے، جس سے دوسرے بڑے ٹرانزٹ راہداری سے سپلائی کم ہو جائے گی اور تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے برآمد کنندہ سعودی عرب نے ایران تنازع کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی باضابطہ بندش کے بعد سے بحیرہ احمر کے راستے پر اتکاء کیا ہے، جہاں سے عالمی تیل کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔

ریاض کے لیے ایک اور اہم پیش رفت میں جمعرات کو سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کے قریب دھواں دیکھا گیا، جو کہ مملکت کے لیے اپنے خام تیل کی برآمدات کو آبنائے ہرمز کے متبادل راستے پر منتقل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے اس علاقے میں کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ تصاویر میں نظر آنے والے دھوئیں پر تبصرے کے لیے سعودی حکومتی میڈیا آفس اور ریاستی تیل کمپنی آرامکو نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

چھ ماہ قبل ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے آغاز کے بعد جب تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، آرامکو نے سعودی عرب کے مشرقی ساحل سے مغرب میں بحیرہ احمر کی طرف خام تیل کی نقل و حمل بڑھانے کے لیے اس ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کا استعمال کیا تھا۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے بتایا کہ یمن کے حوثیوں سے منسلک گروہوں کی جانب سے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے اگست میں سعودی خام تیل کی سپلائی ماہانہ بنیادوں پر 2.3 ملین بیرل یومیہ کم ہو کر 6 ملین بیرل یومیہ رہ گئی، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے کم سطح ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مئی کے وسط کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہفتہ ختم کرنے کی راہ پر تھیں، اگرچہ فایننشل ٹائمز کی اس رپورٹ کے بعد جمعے کو قیمتوں میں معمولی کمی آئی کہ مشرق وسطیٰ کے وزرائے خارجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کا نظام چلانے کے لیے ایک عارضی معاہدے پر کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔ جہازوں کی نقل و حرکت کے ابتدائی اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد جمعرات کو کم ہو کر 7 رہ گئی جو اس سے ایک دن پہلے 11 تھی، جو 10 دن کی اوسط (10 جہاز) سے کافی کم ہے۔

یمنی حکومتی افواج کا جوابی حملے کا منصوبہ یمنی حکومتی افواج نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے ساتھ حوثیوں کی اس ہفتے کی تیز رفتار پیش قدمی کے دوران چھینے گئے علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کریں گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اسٹریٹجک علاقوں سے ”دہشت گرد“ حوثیوں کے کسی بھی تحرک کو ختم کرنے کے لیے اصلاح اور طیارے تعینات کریں گے، بشمول ساحلی شہر مخا کو جانے والی سڑک، جس پر اس جنگجو گروپ نے جمعرات کو بحیرہ احمر کے جزائر حنیش کے ساتھ قبضہ کر لیا تھا۔ عسکری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ تعز اور مخا کے درمیان والے راستے کا استعمال نہ کریں اور حوثیوں کے سامان اور گاڑیوں سے دور رہیں۔

رائٹرز نے جمعرات کو یمنی حکومت، ایرانی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی اس پیش قدمی کی براہ راست رہنمائی ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے کی گئی تھی، تاکہ امریکہ کے ساتھ تہران کی جنگ میں ایک نیا محاذ کھولا جا سکے۔

دو ایرانی ذرائع نے بتایا کہ ایران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کو امریکی اتحادی سعودی عرب پر حملے تیز کرنے کا کہا اور ایسا کرنے کے لیے مزید مالی امداد، ہتھیار اور سینئر افسران فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

اگرچہ ایران حوثیوں کو اپنا اتحادی قرار دیتا ہے، لیکن وہ علانیہ طور پر انہیں فوجی ہدایات دینے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ان کے ”پراکسی“ نہیں ہیں۔