بی آئی آئی کا پاکستان سے وابستگی کا اعادہ، نجی سرمائے کو مزید متحرک کرنے پر زور
- پاکستان میں سرمایہ کاری کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کرنے کا منصوبہ
برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی) نے جمعرات کو پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ملک میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی فنانس، ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ پیش رفت وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور بی آئی آئی کے مینیجنگ ڈائریکٹر و ایشیا کے سربراہ سرینی ناگراجن کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
ناگراجن کے ہمراہ بی آئی آئی پاکستان کے سربراہ امتیاز سیٹھنا، منیجر پاکستان ریما گنی، ایف سی ڈی او کے ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈاک اور انویسٹمنٹ مینیجر زائغم اقبال بھی تھے۔
ملاقات میں پاکستان کے لیے بی آئی آئی کے سرمایہ کاری منصوبوں، نجی سرمائے کو متحرک کرنے، بنیادی ڈھانچے اور موسمیاتی فنانس، نجی ایکویٹی، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی مالی معاونت اور پاکستان میں جاری معاشی و ساختی اصلاحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ناگراجن نے وزیر خزانہ کو بی آئی آئی کی 2026ء تا 2031ء کی حکمتِ عملی سے آگاہ کیا، جس کے تحت ادارہ ایشیا اور افریقہ میں کم از کم 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس میں جنوبی ایشیا اور ابھرتی ہوئی منڈیوں پر نمایاں توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئے آنے والے برسوں میں ملک میں بی آئی آئی کی سرمایہ کاری کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق، ’’انہوں نے اپنی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ نجی سرمائے کو متحرک کرنے پر بی آئی آئی کی توجہ بھی واضح کی اور بنیادی ڈھانچے، موسمیاتی فنانس، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کی منڈیوں میں اپنے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قابلِ سرمایہ کاری منڈیوں کی تشکیل اور مزید سرمایہ راغب کرنے میں معاونت کی پیشکش کی۔‘‘
محمد اورنگزیب نے معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے ساتھ ساتھ حکومت کے اصلاحات، نجکاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کے ایجنڈے کو اجاگر کیا۔
انہوں نے پاکستان کی 3 ارب ڈالر کی بین الاقوامی بانڈز کے اجرا، نجکاری میں پیش رفت اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری کو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی علامت قرار دیا۔
دونوں جانب سے موسمیاتی فنانس، کیپٹل مارکیٹ کے مالیاتی آلات، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور زراعت کے لیے مالی وسائل تک رسائی، نجی سرمایہ کاروں کو متحرک کرنے، عملی مالیاتی حل وضع کرنے اور ملکی و بین الاقوامی نجی سرمائے کو متحرک کرنے کے لیے ممکنہ نئے مالیاتی ڈھانچوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
بی آئی آئی نے قابلِ عمل سرمایہ کاری کے مواقع میں پاکستان کے ساتھ تعاون اور پائیدار معاشی نمو میں معاونت کرنے میں اپنی دلچسپی کا اعادہ کیا۔
وزیر خزانہ نے متعلقہ حکومتی اقدامات، مطالعات اور پالیسی فورمز میں اپنے بین الاقوامی تجربے سے استفادہ کرنے کی بی آئی آئی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا اور اس امر پر زور دیا کہ ترقیاتی مالیاتی اداروں اور نجی سرمایہ کاروں کو ٹھوس اور قابلِ سرمایہ کاری مواقع کے لیے ایک دوسرے کے قریب لانا ضروری ہے۔
ناگراجن نے پاکستان کے معاشی ماحول میں بہتری کو سراہتے ہوئے ملک کے معاشی امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا۔