مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا چیلنج صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں
- ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اے آئی کو کلاس رومز میں کتنی تیزی سے متعارف کرایا جاسکتا ہے بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس سے فائدہ کسے ہوگا، کون پیچھے رہ سکتا ہے اور کیا ہمارے اساتذہ اس تبدیلی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں
بطور ایک تعلیمی ٹیکنالوجی کمپنی کی شریک بانی میں اپنا کافی وقت اس بات پر غور کرنے میں صرف کرتی ہوں کہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے عمل کو کس طرح بہتر بنا سکتی ہے۔ تاہم تعلیم میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہمارے بچے اے آئی استعمال کریں گے یا نہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی اسے استعمال کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام انہیں اے آئی کا سوچ سمجھ کر ذمہ داری کے ساتھ اور مساوی بنیادوں پر استعمال سکھائے گا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن میں حالیہ قومی اجلاس کے دوران تعلیم میں ذمہ دارانہ اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک اہم سوال اٹھایا گیا کہ اے آئی تعلیم کو محض زیادہ ڈیجیٹل بنانے کے بجائے اس میں مزید کیا کردار ادا کرسکتی ہے؟ اس تحقیق میں شریک ایک تحقیق کار کی حیثیت سے میرا ماننا ہے کہ اے آئی کو تعلیم کو زیادہ انسانی، جامع اور مساوی بنانے میں مدد دینی چاہیے۔
ٹیکنالوجی کو انسانی اختیار اور تخلیقی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا چاہیے، نہ کہ خود ایک مقصد بن جانا چاہیے۔ اسکرین ٹائم اور ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے فکرمند والدین کے لیے حل نہ تو اے آئی پر پابندی عائد کرنا ہے اور نہ ہی بچوں کو اس تک غیر محدود رسائی دینا۔ بچوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہیں سیکھنا ہوگا کہ اے آئی سے سوال کیسے کیا جائے، اس کے جوابات کی تصدیق کیسے کی جائے اور اس کی حدود کو کیسے سمجھا جائے۔ ایسی دنیا میں جہاں جوابات فوری طور پر تیار کیے جاسکتے ہیں، تنقیدی سوچ، بہتر سوالات پوچھنے اور معلومات اور حقیقی سمجھ بوجھ میں فرق کرنے کی صلاحیت مزید اہم ہوجائے گی۔
اسی طرح اخلاقیات اور تحفظ کو بعد کی ترجیح نہیں بنایا جاسکتا۔ پاکستان کو عمر کے لحاظ سے موزوں معیارات اور حفاظتی اقدامات پر عالمی سطح پر ابھرتی توجہ کا محتاط جائزہ لینا چاہیے۔ پالیسی سازوں کے لیے یہ چیلنج مزید اہم ہے۔ پاکستان ایسے اے آئی تعلیمی نظام کا متحمل نہیں ہوسکتا جس سے صرف اشرافیہ کے اسکولوں اور خوشحال خاندانوں کو فائدہ پہنچے، کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں پہلے ہی عدم مساوات نمایاں ہے۔
یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق جماعت پنجم کی بنیادی خواندگی اور حساب سے متعلق اشاریوں میں نجی اسکولوں کے طلبہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ سے 10 سے 20 فیصد پوائنٹس بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اب ڈیجیٹل تقسیم کے اے آئی تقسیم میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے۔ بہتر وسائل رکھنے والے اسکولوں کے بچے اے آئی کے ذریعے کام کرنا، اس پر سوال اٹھانا اور مسائل حل کرنا سیکھ سکتے ہیں، جبکہ دیگر بچوں کو کم ٹیکنالوجی، کم رہنمائی اور کم مواقع میسر آسکتے ہیں۔
اے آئی عدم مساوات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے لیے اسے سوچ سمجھ کر اسی مقصد کے تحت ڈیزائن کرنا ہوگا۔ اسی لیے سرمایہ کاری صرف اے آئی ٹولز تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
اساتذہ کو اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی تعلیم کو طلبہ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے، فیڈ بیک فراہم کرنے اور طلبہ کی کارکردگی جانچنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اساتذہ ہی حالات و پس منظر کو سمجھتے، طلبہ کی دیکھ بھال کرتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور درست فیصلے کرتے ہیں۔ مستقبل کا مقصد اساتذہ کی جگہ اے آئی لانا نہیں بلکہ انہیں اے آئی کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری مہارتیں اور اعتماد فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے طلبہ کو بھی اس کا بہتر استعمال سکھا سکیں۔
پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے، ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور لاکھوں طلبہ زیادہ قابلِ رسائی اور انفرادی ضروریات کے مطابق تعلیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر ہمیں محدود اور الگ تھلگ تجربات سے آگے بڑھ کر اے آئی خواندگی، اساتذہ کی تربیت، ڈیٹا کے تحفظ، مساوات اور تعلیمی نتائج پر سنجیدہ قومی مکالمے کی طرف بڑھنا ہوگا۔
پاکستان میں تعلیم کے مستقبل میں اے آئی کے کردار پر بحث کرتے ہوئے ہمیں یہیں سے آغاز کرنا چاہیے۔ ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ اے آئی کو کلاس رومز میں کتنی تیزی سے متعارف کرایا جاسکتا ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس سے فائدہ کسے ہوگا، کون پیچھے رہ سکتا ہے اور کیا ہمارے اساتذہ اس تبدیلی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔
یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔