✕
رائے

قیادت کا بدلتا توازن: اختیار، اثرورسوخ اور فیصلہ سازی

  • پائیدار اثرورسوخ نہ جعلی بنایا جاسکتا ہے، نہ مصنوعی طور پر تخلیق کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی حکم دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے؛ اسے کمانا پڑتا ہے اور اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

جس اختیار کے ساتھ وہ گفتگو کرتے تھے، وہ قابلِ تعریف تھا۔ ان کی پُرنور شخصیت سے کمرہ روشن ہوجاتا تھا۔ کسی کو ان کے اختیار پر سوال اٹھانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ قیادت کے مباحث پر غالب رہنے والے بیانات میں اس نوعیت کے جملے عام ہیں۔ قیادت نتائج حاصل کرنے کا نام ہے۔ قیادت اہداف کے حصول کا نام ہے۔ قیادت صفِ اوّل سے قیادت کرنے کا نام ہے۔ قیادت ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کا نام بھی ہے۔ اور قیادت اس بات کو متعلقہ فریقوں پر واضح کرنے کا نام بھی ہے کہ صورتِ حال کا اختیار کس کے پاس ہے۔

قیادت کے یہ مختلف کردار اور ذمہ داریاں اس کشمکش کو جنم دیتے ہیں کہ رہنما اپنے اہداف کے حصول کے لیے کہاں اختیار استعمال کرے اور کہاں اثرورسوخ سے کام لے۔ ماضی میں قیادت کی روایتی تصویر ایک ایسے شخص کی تھی جو گھوڑے پر سوار آگے بڑھ رہا ہو اور بہت سے لوگ اس کے پیچھے چل رہے ہوں۔ جدید انسٹاگرام کی دنیا میں قیادت کی یہ تصویر اگرچہ فرسودہ ہوچکی ہے، لیکن آج بھی بہت سی کمپنیوں میں عملاً یہی طرزِ قیادت رائج ہے۔

قیادت کی مؤثریت کے بارے میں آگاہی، بحث اور تحقیق میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سوشل میڈیا جدید کارکن کی اس خواہش سے متعلق مواد سے بھرا پڑا ہے کہ قیادت کا وہ کون سا انداز چاہتا ہے جس کے تحت وہ کام کرے۔ تحقیقات نے بارہا ثابت کیا ہے کہ ماضی سے حال تک قیادت کا پلڑا ملازمین کی شمولیت پر مبنی طرزِ قیادت کی جانب جھک گیا ہے، نہ کہ لائن مینیجر کے روایتی انداز کی طرف۔

’’لائن مینیجر‘‘ کی اصطلاح پر بھی ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تنظیمی نقشے پر موجود لکیر عہدے اور اس رتبے کی نشاندہی کرتی ہے جو آپ سے بالاتر ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ لکیر محض تنظیمی ڈھانچے کی ایک علامت ہو تو یہ مؤثر ثابت نہیں ہوگی۔ مؤثر قیادت اور ٹیم کی کارکردگی کے درمیان واضح اور براہِ راست تعلق موجود ہے۔ گیلپ کی 2024 اسٹیٹ آف دی گلوبل ورک پلیس رپورٹ اس تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ ٹیم میں ملازمین کی شمولیت میں پائے جانے والے فرق کے 70 فیصد کی وجہ مینیجرز ہوتے ہیں۔

ملازمین کی شمولیت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 67 فیصد ملازمین اپنے کام سے پوری طرح وابستہ نہیں ہیں۔ ان تمام 100 فیصد ملازمین کے لائن مینیجرز موجود ہیں، جنہیں نگرانی کرنے اور ان سے کام لینے کا اختیار حاصل ہے۔ واضح طور پر محض ’’لائن‘‘ اختیار پیداواریت کی ضمانت نہیں دیتا۔

یقیناً بہت سے حالات میں اختیار مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ تنظیمیں کسی باقاعدہ ڈھانچے کے بغیر ترقی کرسکتی ہیں۔ کون کس کو جواب دہ ہے، اس کی وضاحت پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو فروغ دیتی ہے۔ بہت سے حالات، خصوصاً بحرانی کیفیت میں، اختیار کا استعمال فوری طور پر متعدد اقدامات کرنے میں مدد دیتا ہے۔

جب ہم کسی شخص کو بااثر قرار دیتے ہیں تو عموماً ہمارے ذہن میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھا ہوا شخص آتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ اس کے لیے اچھی بات ہے۔ تاہم، ایسا اثرورسوخ اس عہدے سے جڑا ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر وہ کرسی کسی اور کے پاس چلی جائے تو کیا وہ شخص پھر بھی بااثر رہے گا؟ یہی وہ سوال ہے جو ہمیں حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ رہنماؤں کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

اختیار سے آگے بڑھ کر اثرورسوخ پیدا کرنے کے لیے رہنماؤں کو درج ذیل امور پر توجہ دینی چاہیے:

اثرورسوخ نمبر 1 — عہدے کے پیچھے موجود شخص

اختیار یقیناً تنظیمی ڈھانچے سے آنا چاہیے۔ اس بات میں ابہام کہ کون کس کی قیادت کررہا ہے، تنازع پیدا کرتا ہے۔ تاہم یہ کارکردگی کا محض ڈھانچہ ہے۔ اصل قوت وہ اثرورسوخ ہے جو کسی شخص کے کردار اور رویے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ اثرورسوخ اس بات سے جنم لیتا ہے کہ رہنما دوسروں کے لیے کس حد تک قابلِ اعتماد اور قابلِ سہارا ہے۔

یہ جاننے کے لیے کہ کسی رہنما کا اثر محض اس کے عہدے اور رتبے تک محدود ہے یا اس سے آگے بھی جاتا ہے، چند بنیادی سوالات اہم ہیں۔ مشکل صورتِ حال میں مدد درکار ہو تو ٹیم کس شخص کا رخ کرتی ہے؟ اگر آپ کے ٹیم رکن سے پوچھا جائے کہ اس کی تربیت اور پیشہ ورانہ نشوونما میں کس نے رہنمائی کی، تو وہ کس کا نام لے گا؟ کیا ٹیم اپنے رہنما کے سامنے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے میں خود کو اتنا پُراعتماد محسوس کرے گی کہ وہ بے خوف ہوکر بات کرسکے؟ کیا ٹیم آپ سے کھل کر اختلاف کرتی ہے؟

ان سوالات کے جوابات اس بارے میں بہت کچھ بتادیں گے کہ رہنما کس قدر بااثر ہے اور اس کا اثرورسوخ دیرپا ہے یا نہیں۔

اثرورسوخ نمبر 2 — بامعنی گفتگو

اثرورسوخ وقت کے ساتھ جمع ہونے والا سرمایہ ہے۔ یہ باہمی روابط کی ایک زنجیر ہے۔ اثرورسوخ پیدا کرنے کا پہلا قدم دلچسپی ہے۔ بااثر لوگ دوسروں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ لوگوں کا مشاہدہ کرنے اور انہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جن لوگوں پر وہ اثر ڈالنا چاہتے ہیں، ان کے بارے میں پہلے سے جاننے اور تیاری کرنے کی زحمت اٹھاتے ہیں۔ اس سے انہیں دوسرے شخص کی ذہنی کیفیت اور اندازِ فکر کو سمجھنے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں مدد ملتی ہے۔

وہ لوگوں کے نام یاد رکھنے کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔ جس شخص سے ملاقات ہو، اس کی زندگی اور حالات سے جڑی باتیں ذہن میں رکھتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور معاملات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔

ذرا دو طرزِ عمل کا موازنہ کیجیے۔ ایک رہنما اجلاس میں آتا ہے، سلام دعا کرتا ہے، ایجنڈے سے آغاز کرتا ہے اور ٹیم کو درپیش چیلنجز اور حاصل کیے جانے والے اہداف سے آگاہ کرتا ہے۔

دوسرا رہنما اجلاس میں آتا ہے، سلام دعا کے بعد لوگوں سے بات کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ وہ کیسا محسوس کررہے ہیں۔ اسے یاد ہے کہ گزشتہ اجلاس میں کون خرابیٔ صحت کے باعث شریک نہیں ہوسکا تھا۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ کیا ہوا تھا اور اس کی خیریت دریافت کرتا ہے۔ پھر کہتا ہے، ’’یہ ایک مشاورتی اجلاس ہے۔ میں سیکریٹری سے درخواست کروں گا کہ ایجنڈا پیش کریں۔ ایجنڈے میں چیلنجز کی نشاندہی شامل ہے۔‘‘

رہنما ٹیم سے کہتا ہے کہ وہ کتنی شاندار ٹیم ہے اور چیلنجز ترقی کا محرک ہوتے ہیں۔ پھر وہ کہتا ہے، ’’آپ میرے مشیر ہیں۔ آپ کے خیال میں وہ کون سے اہم ترین مسائل ہیں جو فوری توجہ چاہتے ہیں؟ اور میں ان کے بارے میں آپ کی سفارشات سننا چاہوں گا۔‘‘

اس کے بعد رہنما اپنی ڈائری کھول کر لوگوں کی گفتگو کے دوران نوٹس لیتا ہے۔ اس کا یہ عمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ واقعی گہری توجہ سے سننا اور دوسروں کو اہمیت دینا چاہتا ہے۔ تقریباً یقینی طور پر ایسا اجلاس زیادہ مؤثر اور بھرپور شرکت کا حامل ہوگا۔ اس کے بعد کیے جانے والے فیصلوں کو بھی ٹیم کی بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔

اثرورسوخ نمبر 3 — نظرانداز شدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا

زیادہ تر رہنماؤں کو نمایاں کارکردگی دکھانے والے ٹیم ارکان پسند ہوتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے۔ قابلِ اعتماد اور مطلوبہ نتائج دینے والا ٹیم رکن قیادت کے لیے کشش کا مرکز بن جاتا ہے۔ کام اور توجہ خود بخود اس کی جانب منتقل ہونے لگتی ہے۔

لیکن بااثر رہنما ان لوگوں کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں جو نمایاں نہیں ہوتے۔ وہ پسِ منظر میں رہنے والے ارکان کا مشاہدہ کرتے ہیں، خاموش افراد پر توجہ دیتے ہیں اور ان صلاحیتوں کو تلاش کرتے ہیں جو نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ وہ ان لوگوں تک پہنچتے ہیں، ان سے رابطہ قائم کرتے اور گفتگو کرتے ہیں۔

پھر وہ ان کی مہارت کے مطابق انہیں ذمہ داریاں سونپتے ہیں۔ رفتہ رفتہ وہ ان میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ رہنما کی یہی صلاحیت کہ وہ نظرانداز اور پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرے، اس کے بارے میں یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ وہ ایک ایسی غیر معمولی شخصیت ہے جس سے ہر کوئی رابطہ کرنا اور اس کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔ اس نوعیت کا اثرورسوخ ہر سطح پر محیط ہوتا ہے۔

اثرورسوخ اپنے ساتھ ایک الگ نوعیت کا اختیار لے کر آتا ہے۔ تاہم یہاں ایک احتیاط ضروری ہے: اثرورسوخ کی بنیاد اصولوں پر ہونی چاہیے۔ اصولوں اور اقدار کو توڑ مروڑ کر حاصل کیا گیا اثرورسوخ شاید زیادہ تیزی سے نتائج دے اور فوری فائدہ پہنچائے، لیکن یہ دیرپا نہیں ہوتا۔

جو لوگ دباؤ اور جبر کی وجہ سے آپ کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس دباؤ کے ختم ہوتے ہی ان کی کوششیں بھی برقرار رہنے کا امکان کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اعتماد، رہنمائی اور لوگوں کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے پر مبنی اثرورسوخ زیادہ پائیدار اور مؤثر ہوتا ہے۔

ایسی دنیا میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے اور ہر چیز لوگوں کے سامنے عیاں ہے، آپ کی اصل شخصیت کو زیادہ دیر تک مصنوعی فلٹرز لگا کر خوبصورت بنا کر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی نہ کوئی ان فلٹرز کا پردہ ضرور چاک کردے گا۔

یہ اثرورسوخ میں بڑی کمی کا سبب بنے گا۔ یاد رکھیے، اثرورسوخ کے معاملے میں اندر کی حقیقت ہی باہر نظر آتی ہے۔ آپ کے ساتھ کام کرنے والے لوگ آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، وہی آپ کی اصل کہانی بنتی ہے اور طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔

پائیدار اثرورسوخ نہ جعلی بنایا جاسکتا ہے، نہ اسے مصنوعی طور پر تخلیق کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی حکم دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اسے کمانا پڑتا ہے، اسے اپنے عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے۔

جیسا کہ جان سی میکسویل نے کہا ہے، ’’قیادت عہدوں، اختیارات یا تنظیمی خاکوں کا نام نہیں؛ یہ ایک انسان کی دوسرے انسان کی زندگی پر اثرانداز ہونے کا نام ہے۔‘‘