ایئر انڈیا کے اے 320 میں سیٹ بیلٹ سگنل بند ہونے پر اسٹال وارننگ، 24 افراد زخمی، تحقیقاتی رپورٹ
- ایئر انڈیا اے 320 میں ہائیڈرولک نظام کی خرابی سے اسٹال وارننگ، 24 افراد زخمی
بھارتی تحقیقاتی حکام نے بتایا کہ گزشتہ ماہ پھوکٹ سے نئی دہلی جانے والے ایئر انڈیا کے اے 320 طیارے میں سیٹ بیلٹ کے اشارے بند ہونے کے دوران اسٹال وارننگ جاری ہوئی، جبکہ طیارے کے اچانک اوپر اٹھنے اور پھر نیچے آنے سے مسافر اور کیبن عملہ اوور ہیڈ کیبنز سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں 24 افراد زخمی ہوگئے۔
4 اگست کو پیش آنے والے واقعے کی جمعہ کو جاری کی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 36 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ایئربس طیارہ پہلے 372 فٹ اوپر گیا اور پھر اپنی مقررہ بلندی سے 292 فٹ نیچے آگیا۔
رپورٹ کے مطابق دو سیکنڈ تک جاری رہنے والی اسٹال وارننگ اس وقت فعال ہوئی جب طیارے کے فلائٹ کنٹرول سسٹم نے 4 سیکنڈ کے اندر تینوں ہائیڈرولک نظاموں میں دباؤ ختم ہونے کا پتا لگایا۔ اس کے نتیجے میں آٹو پائلٹ منقطع ہوگیا اور کاک پٹ میں مسلسل الارم بجنے لگا۔
رپورٹ کے مطابق ہائیڈرولک نظام، جو دباؤ کے تحت موجود سیال کے ذریعے طیارے کے فلائٹ کنٹرولز اور دیگر آلات کو توانائی فراہم کرتے ہیں، میں سے پہلا نظام فیل ہونے کے تقریباً 9 سیکنڈ بعد بحالی کا عمل شروع ہوگیا تھا۔
بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہائیڈرولک نظام میں دباؤ کم ہونے کی وجہ کیا تھی، جس کا تعین مزید تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔
تحقیقاتی حکام نے اس واقعے کی نوعیت کو ’’سنگین واقعے‘‘ سے بڑھا کر ’’حادثہ‘‘ قرار دے دیا ہے۔ رپورٹ میں پرواز کے دوران پیش آنے والے ان چند افراتفری بھرے سیکنڈز کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں 137 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت 32 سالہ فرسٹ آفیسر طیارہ اڑا رہے تھے، تاہم بعدازاں 34 سالہ کپتان نے طیارے کے کنٹرول سنبھال لیے۔ تحقیقات کے سلسلے میں دونوں پائلٹس سے پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔
ایئر انڈیا پر کڑی نظر
رپورٹ کے بعد ایئر انڈیا کی کارکردگی پر نگرانی مزید سخت ہوگئی ہے۔ جون 2025 میں احمد آباد میں ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 طیارے کے حادثے میں 260 افراد کی ہلاکت کے بعد سے ایئرلائن کو ریگولیٹری اداروں اور عوام کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
ایئرلائن کو ایک اور معاملے پر بھی سوالات کا سامنا ہے، کیونکہ رپورٹ کے مطابق پرواز کے کپتان کے نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادّوں کے تصدیقی ٹیسٹ کا نتیجہ ’’نان نیگیٹو‘‘ آیا تھا۔
اے اے آئی بی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کپتان کے ’’نان نیگیٹو‘‘ ٹیسٹ میں کس مادّے کی موجودگی سامنے آئی تھی، تاہم گزشتہ ماہ ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ یہ چرس تھی۔
ایئر انڈیا نے کہا کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کررہی ہے اور تحقیقاتی حکام کو آپریشنز، دیکھ بھال اور تکنیکی ریکارڈز تک رسائی فراہم کررہی ہے۔
بھارت کی دوسری بڑی ایئرلائن نے حادثے کے بعد تمام پائلٹس کے لیے ایک مرتبہ لازمی منشیات ٹیسٹ کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت ٹیسٹنگ کا دائرہ موجودہ ریگولیٹری تقاضوں سے بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
اے اے آئی بی نے ہوا بازی کے ریگولیٹر کو نفسیاتی اثرات مرتب کرنے والے مادّوں کے استعمال کی روک تھام کے لیے ترجیحی بنیادوں پر مناسب کارروائی کی سفارش کی اور اس دریافت کو ’’سنگین تشویش‘‘ قرار دیا۔
بھارت حادثے کے بعد تمام پائلٹس کے سالانہ ڈرگ ٹیسٹ پر بھی غور کررہا ہے، جبکہ موجودہ ضابطوں کے تحت ہر سال 10 فیصد پائلٹس کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
ابتدائی رپورٹ میں ایئربس کے لیے کوئی سفارش نہیں کی گئی۔ تاہم رائٹرز کی جانب سے دیکھی گئی ایک نجی رپورٹ میں ایئربس نے ایئر انڈیا کو بتایا کہ اے 320 طیارے کے تینوں ہائیڈرولک نظام تیزی سے یکے بعد دیگرے ناکارہ ہوگئے تھے، جس کے باعث اہم فلائٹ کنٹرولز مختصر وقت کے لیے غیر مؤثر ہوگئے۔
ایئربس کے تجزیے کے مطابق تقریباً 4 سیکنڈ تک پائلٹس طیارے کے ایلی ویٹرز اور ایلیرونز استعمال نہیں کرسکے، جو بالترتیب طیارے کے اگلے اور پچھلے زاویے اور دائیں بائیں جھکاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
ایئر انڈیا کا کنٹرول ٹاٹا گروپ کے پاس ہے، جبکہ سنگاپور ایئرلائنز کے پاس کمپنی کے تقریباً 25 فیصد حصص ہیں۔