✕
دنیا

نیپال سیلاب: انشورنس کمپنیوں کو 130 ملین ڈالر سے زائد نقصان کا خدشہ

  • نیپال میں سیلابی انشورنس کلیمز میں ہائیڈرو پاور منصوبے سرفہرست، 171 ملین ڈالر کے 583 دعوے دائر
شائع اپ ڈیٹ

نیپال میں گزشتہ ہفتے آئے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کمرشل انشورنس کمپنیوں کے نقصانات 20 ارب نیپالی روپے (132.3 ملین ڈالر) سے تجاوز کرسکتے ہیں، جبکہ زیادہ تر کلیمز ہائیڈرو پاور منصوبوں سے متعلق ہیں۔ یہ بات ملک کی ایک بڑی انشورنس کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار نے بتائی ہے۔

انشورنس کوریج کے تحت ادائیگی کی صورت میں پاور پلانٹس کے آپریٹرز کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

دریں اثنا، لائف انشورنس، ذاتی حادثات اور ورکرز معاوضے سے متعلق کلیمز الگ ہوں گے، کیونکہ حکام ناقابل رسائی علاقوں میں ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تصدیق کررہے ہیں۔

نیپال اور چین کے تبت خطے کی سرحد پر آنے والی اس قدرتی آفت سے 3 کروڑ آبادی والے ہمالیائی ملک کو اندازاً 2.56 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ نیپال کے ڈیزاسٹر اتھارٹی کے سربراہ نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ سانحے میں 1,200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ بڑی تعداد تاحال لاپتا ہے۔

اورینٹل انشورنس کمپنی نیپال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹوٹن چکربورتی نے رائٹرز کو بتایا کہ متاثرہ علاقے میں نیپال کے 11 ہائیڈرو پاور منصوبے واقع ہیں، جن میں سے بعض معیاری کمرشل انشورنس پالیسیوں کے تحت بیمہ شدہ ہیں اور ان کے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

نئی دہلی میں قائم بھارتی انشورنس کمپنی کی ذیلی کمپنی اورینٹل انشورنس نیپال خطے کی نمایاں انشورنس کمپنیوں میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا، ’’متاثرہ دریائی گزرگاہ کے ساتھ قائم ہائیڈرو پاور منصوبوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ بہت سے مقامات پر رسائی کی سڑکیں اور سطح زمین پر موجود بنیادی ڈھانچہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا ہے۔‘‘

ان کے مطابق رسوواگڑھی، اپر تریشولی-3 اے، چلیمی اور دیوگھاٹ سمیت متعدد منصوبے براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، جبکہ مزید 5 منصوبوں کے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

نیپال انشورنس اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 31 اگست تک سیلاب سے متعلق 583 کلیمز موصول ہوچکے ہیں، جن کی مجموعی مالیت 25.87 ارب نیپالی روپے (171.13 ملین ڈالر) ہے۔

چکربورتی نے کہا کہ یہ اعداد و شمار زیادہ تر بیمہ شدہ خطرات کی مالیت کی عکاسی کرتے ہیں، حتمی کلیمز کی نہیں، جن کا تعین تفصیلی جائزے مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر مرمت میں تاخیر کے باعث منصوبوں کی کمرشل پیداوار شروع ہونے میں تاخیر ہوئی تو کلیمز کی مالیت مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ بعض انشورنس پالیسیوں کے تحت تجارتی سرگرمیوں کے تاخیر سے آغاز کے نتیجے میں ڈویلپرز کو ہونے والے آمدنی کے نقصان کی تلافی بھی کی جاتی ہے۔

عالمی معیار کے لحاظ سے نیپال کی نان لائف انشورنس مارکیٹ بہت چھوٹی ہے۔ ریگولیٹری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 14 نان لائف انشورنس کمپنیوں نے جولائی اور اگست کے دوران تقریباً 5.3 ارب نیپالی روپے (35.06 ملین ڈالر) کے پریمیم حاصل کیے، جبکہ اسی عرصے میں بھارتی انشورنس کمپنیوں نے 314 ارب بھارتی روپے (3.3 ارب ڈالر) کے پریمیم حاصل کیے۔

اس مارکیٹ کو مقامی ری انشورنس کمپنیوں نیپال ری اور ہمالیئن ری کے علاوہ بھارت کی جی آئی سی ری اور جرمنی کی ہینوور ری سمیت بین الاقوامی اداروں کی معاونت حاصل ہے۔

ری انشوررز ہمالیائی خطے کے خطرات سے محتاط

صنعت سے وابستہ 4 اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق سیلاب کے ہمالیائی بنیادی ڈھانچے کے لیے انشورنس کوریج پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے رواں ہفتے بتایا کہ ہمالیائی خطہ زلزلوں اور مستقبل میں ممکنہ گلیشیائی سیلاب کے شدید خطرات سے دوچار ہے۔

بین الاقوامی انشورنس بروکر ایون کے ایشیا میں پاور کے سربراہ بینجمن این جی نے کہا، ’’جنوبی ایشیا میں حالیہ پہاڑی سیلاب انشورنس کمپنیوں کو ہائیڈرو پاور اور بنیادی ڈھانچے کے خطرات کا ازسرنو جائزہ لینے پر مجبور کرسکتے ہیں، بالخصوص ان مقامات پر جہاں خطرات بہت زیادہ ہیں۔‘‘

ان کے مطابق انشورنس کمپنیاں مستقبل میں نقصانات سے استثنیٰ کی شقیں، کم ذیلی حدود اور محدود کوریج زیادہ سختی سے عائد کرسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پریمیم میں اضافہ اور انشورنس فراہم کرنے کے لیے زیادہ محتاط طریقہ کار اختیار کیا جاسکتا ہے۔

ہمالیہ میں حالیہ دیگر بڑی قدرتی آفات میں 2023 میں بھارت کے سکم میں آنے والا گلیشیائی جھیل پھٹنے سے پیدا ہونے والا سیلاب اور 2021 میں شمالی بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں آنے والا اچانک سیلاب شامل ہیں۔

بھارتی سرکاری ری انشورر جی آئی سی ری کے چیف انڈر رائٹنگ افسر سنجے موکاشی نے کہا کہ حالیہ سیلاب انشورنس صنعت کے خطرات کے مجموعی ارتکاز اور گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کے خطرے سے متعلق نقطۂ نظر کو تبدیل کرسکتے ہیں۔