گوگل اسلام آباد میں، پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کا نیا باب
- اب یہ محض ایک ایسا پلیٹ فارم نہیں رہا جسے پاکستانی استعمال کرتے ہیں؛ بلکہ یہ ملک کے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی منظرنامے کا حصہ بنتا جارہا ہے
لاکھوں پاکستانیوں کے لیے گوگل پہلے ہی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ ہم امتحانی نتائج، کھانوں کی ترکیبوں، کاروباری آئیڈیاز، ملازمت کے مواقع اور ان سوالات کے جوابات کے لیے گوگل سے رجوع کرتے ہیں جنہیں شاید ہم کسی اور سے پوچھنے میں ہچکچائیں۔ تاہم پاکستان، بالخصوص اسلام آباد میں گوگل کی بڑھتی ہوئی عملی موجودگی اس سے کہیں مختلف حیثیت رکھتی ہے۔
اب یہ محض ایک ایسا پلیٹ فارم نہیں رہا جسے پاکستانی استعمال کرتے ہیں؛ بلکہ یہ ملک کے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی منظرنامے کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوگل کی موجودگی کو صرف ایک کارپوریٹ پیش رفت کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کے امتحان کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں عزائم کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عزائم کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مضبوط نظام موجود ہو۔
کئی برسوں سے پاکستان اپنی نوجوان آبادی، ٹیکنالوجی کی صلاحیت اور ڈیجیٹل مستقبل کے بارے میں پُرجوش انداز میں بات کرتا آیا ہے۔ ہم زرمبادلہ کمانے والے فری لانسرز، توجہ حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے والے نوجوان ڈویلپرز کو سراہتے رہے ہیں۔ لیکن صرف جوش و خروش سے ٹیکنالوجی کی معیشت تشکیل نہیں پاتی۔ باصلاحیت افراد کو ایک ایکو سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایکو سسٹم کے لیے ادارے، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچہ، پالیسی کا استحکام اور عالمی نیٹ ورکس تک رسائی ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں گوگل کی موجودگی اہم ہوجاتی ہے۔
دفتر خواہ کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو، آخرکار صرف ایک عمارت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے اندر کیا ہوتا ہے اور اس کی موجودگی کے نتیجے میں کیا کچھ ہوتا ہے۔
اگر گوگل کی موجودگی کسی نوجوان پاکستانی کو عالمی سطح پر قابلِ قبول ڈیجیٹل مہارت حاصل کرنے میں مدد دے، کسی چھوٹے کاروبار کو مصنوعی ذہانت اپنانے کے قابل بنائے، کسی مقامی کاروباری شخصیت کو عالمی منڈیوں سے جوڑ دے یا کسی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی کو پاکستان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ترغیب دے تو اس کی اہمیت محض ایک فزیکل دفتر سے کہیں بڑھ جائے گی۔
اسلام آباد میں زیر تعلیم کسی یونیورسٹی طالب علم کے لیے یہ تصور میں تبدیلی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اب شاید ایسی دور دراز ٹیکنالوجی دکھائی نہ دے جو کہیں سلیکن ویلی میں تیار کی جاتی ہے۔ یہ ایسی ٹیکنالوجی بن سکتی ہے جسے پاکستانی طلبہ سیکھیں، پاکستانی محققین اس پر تحقیق کریں اور پاکستانی کاروباری افراد اسے کاروبار میں تبدیل کریں۔
ذہنیت میں یہ تبدیلی اہم ہے۔
پاکستان میں عزائم کی کمی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان عزائم کو مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مضبوط نظام موجود ہو۔
لہٰذا گوگل کی موجودگی کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے ایک اور ایسی ٹرافی نہیں بننا چاہیے جس کی ہم تصاویر بنائیں، جشن منائیں اور پھر بالآخر اسے بھول جائیں۔ اسے گہری تبدیلی کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔
پاکستان میں گوگل کے اقدامات نے اقتصادی مواقع، ڈیجیٹل مہارتوں، آن لائن تحفظ اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کو اجاگر کیا ہے۔ یہ ترجیحات ان چیلنجز سے گہری مطابقت رکھتی ہیں جن سے پاکستان کو ایک مسابقتی ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کے لیے نمٹنا ہوگا۔ ملک کو متعلقہ مہارتوں کے حامل کارکنوں، نئی ٹیکنالوجیز اپنانے کی صلاحیت رکھنے والے کاروباروں اور ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو محض جدت پر گفتگو کرنے کے بجائے اس کی حمایت کے لیے تیار ہوں۔
لیکن ٹیکنالوجی تک رسائی اور اسے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت میں ایک اہم فرق ہے۔
ممکن ہے کسی نوجوان کے پاس اسمارٹ فون ہو لیکن ڈیجیٹل مہارتیں نہ ہوں۔ کوئی یونیورسٹی کمپیوٹنگ کی ڈگری تو فراہم کرتی ہو لیکن حقیقی دنیا کی ٹیکنالوجیز سے طلبہ کو محدود تجربہ حاصل ہو۔ کسی اسٹارٹ اپ کے پاس ایک امید افزا آئیڈیا ہو لیکن اسے سرمایہ کاری، رہنمائی یا عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو۔ کوئی کاروبار مصنوعی ذہانت کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہو لیکن اسے اپنانے کے لیے اس کے پاس کوئی عملی لائحہ عمل نہ ہو۔
لہٰذا چیلنج محض پاکستان میں ٹیکنالوجی لانا نہیں ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے کے لیے انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کی جائے۔
یہاں ایک زیادہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے: پاکستان میں گوگل کی موجودگی سے پاکستان کیا کرے گا؟
اس کا جواب صرف گوگل پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
یونیورسٹیوں کو صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داریاں قائم کرنا ہوں گی اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ ایسی مہارتوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہوں جن کی آجروں کو حقیقی طور پر ضرورت ہے۔ تحقیقی اداروں کو عملی مسائل پر کام کرنے کے لیے زیادہ مواقع درکار ہیں۔ کاروباری اداروں کو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ساتھ تجربات کرنے کے لیے زیادہ آمادگی دکھانا ہوگی۔ اسٹارٹ اپس کو سرمایہ، رہنمائی اور منڈیوں تک آسان رسائی درکار ہے۔ اور پالیسی سازوں کو طویل مدتی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے ضروری پالیسی تسلسل اور ریگولیٹری اعتماد فراہم کرنا ہوگا۔
اسلام آباد اس تبدیلی کے لیے خاص طور پر موزوں مقام رکھتا ہے۔ یہاں یونیورسٹیاں، حکومتی ادارے، ٹیکنالوجی کمپنیاں، محققین، اسٹارٹ اپس اور نوجوان پیشہ ور افراد کی ایک بڑھتی ہوئی کمیونٹی موجود ہے۔ اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک جیسے منصوبے، جن کی توجہ آئی ٹی جدت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، تحقیق اور انکیوبیشن پر ہے، ممکنہ طور پر ایک بہت بڑے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے اہم حصے بن سکتے ہیں۔
لیکن صلاحیت کبھی پاکستان کا مسئلہ نہیں رہی۔ مسئلہ عمل درآمد رہا ہے۔
ہم اس سے پہلے بھی بڑے عزائم پر مبنی اعلانات دیکھ چکے ہیں۔ ہم پاکستان کو ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کے بارے میں بار بار کیے جانے والے وعدے سن چکے ہیں۔ ہم نے اقدامات شروع کیے، پروگرام قائم کیے اور سنگ میل عبور کرنے کا جشن منایا۔ اصل امتحان ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اعلان کے بعد کیا ہوتا ہے۔
لہٰذا گوگل کی موجودگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے ایک اور ایسی ٹرافی نہیں بننا چاہیے جس کی ہم تصاویر بنائیں، جشن منائیں اور بالآخر اسے بھول جائیں۔ اسے گہری تبدیلی کے لیے ایک محرک بننا چاہیے۔
یہ موقع اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی معیشت ایک گہری تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت اس انداز کو تبدیل کررہی ہے کہ کاروبار کیسے چلتے ہیں، لوگ کیسے کام کرتے ہیں اور ممالک کس طرح ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ ممالک جو اس تبدیلی میں حصہ لینے کے لیے ضروری مہارتیں، بنیادی ڈھانچہ اور ادارے تیار کریں گے، اس سے پیدا ہونے والی معاشی قدر کا غیر متناسب طور پر بڑا حصہ حاصل کریں گے۔
پاکستان اس تبدیلی کو کنارے پر بیٹھ کر دیکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ہماری نوجوان آبادی ایک غیر معمولی فائدہ بن سکتی ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب نوجوانوں کو مستقبل کی معیشت میں حصہ لینے کے لیے ضروری مہارتوں سے لیس کیا جائے۔ ڈیجیٹل خواندگی کو بنیادی کمپیوٹر استعمال کرنے کی حد سے آگے لے جانا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل کاروباری صلاحیتوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کا بامعنی حصہ بنانا ہوگا۔
یہی اصول کاروباری اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان کی ٹیکنالوجی کی کہانی صرف بیرون ملک صارفین کو خدمات فراہم کرنے والے فری لانسرز تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ فری لانسنگ اہم ہے، لیکن اس سے بڑا ہدف ویلیو چین میں آگے بڑھنا ہونا چاہیے؛ یعنی انفرادی خدمات فروخت کرنے سے آگے بڑھ کر پاکستان سے مصنوعات، دانشورانہ ملکیت، ٹیکنالوجی کمپنیاں اور عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والے حل تیار کرنا۔
یہ وہ مقام ہے جہاں گوگل کی موجودگی کئی گنا اثر پیدا کرسکتی ہے۔
جب کوئی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کسی ملک میں اپنی موجودگی کو گہرا کرتی ہے تو دوسری کمپنیاں بھی اس کا نوٹس لیتی ہیں۔ سرمایہ کار باصلاحیت افراد کے ذخیرے کا جائزہ لیتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں مارکیٹ کا جائزہ لیتی ہیں۔ کاروباری افراد نئے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ یونیورسٹیاں نئی شراکت داریوں پر غور کرتی ہیں۔ یوں ایکو سسٹم کے مختلف حصے آپس میں جڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔
لیکن یہ کئی گنا اثر خود بخود پیدا نہیں ہوگا۔
بین الاقوامی کمپنیاں صرف ہماری صلاحیتوں پر نظر نہیں رکھ رہیں۔ وہ ہماری پالیسیوں، بنیادی ڈھانچے، رابطہ کاری، ٹیکس نظام، ڈیٹا سے متعلق ضوابط، کاروبار کرنے میں آسانی اور ایک قابلِ پیش گوئی سرمایہ کاری کا ماحول برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بھی دیکھ رہی ہیں۔
اگر پاکستان چاہتا ہے کہ گوگل کی موجودگی کسی بڑی پیش رفت کا آغاز بنے تو اسے ملک کو ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے لیے مسلسل زیادہ پرکشش بنانا ہوگا، صرف ایک کمپنی کے لیے نہیں بلکہ اگلی 10، 50 اور 100 کمپنیوں کے لیے بھی۔
اسی لیے گوگل کی آمد کو ہمیں اپنے لیے ایک چیلنج کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے۔
کیا ہماری یونیورسٹیاں وہ انجینئرز اور محققین تیار کرسکتی ہیں جن کی ڈیجیٹل معیشت کو ضرورت ہے؟
کیا ہمارے پالیسی ساز ایسے ضوابط تشکیل دے سکتے ہیں جو شہریوں کا تحفظ بھی کریں اور جدت کو گھٹنے نہ ٹیکنے دیں؟
کیا ہمارے کاروباری ادارے مصنوعی ذہانت اپنانے کے لیے کافی تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں؟
کیا ہمارے اسٹارٹ اپس محض بقا کی سطح سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مقابلہ کرسکتے ہیں؟
اور شاید سب سے اہم بات، کیا پاکستان ایسا ماحول پیدا کرسکتا ہے جہاں باصلاحیت نوجوان یہاں اپنا مستقبل تعمیر کرنا ایک پرکشش انتخاب سمجھیں؟
یہ سوالات گوگل سے کہیں بڑے ہیں۔
یہ پاکستان کی معاشی سمت سے متعلق سوالات ہیں۔
حکومت اور گوگل نے پہلے ہی ڈیجیٹل مہارتوں اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان میں پہلی کورم بک اسمبلی لائن کے قیام جیسی پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے کیونکہ ان کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کو مہارتوں، مینوفیکچرنگ اور وسیع تر معاشی سرگرمیوں سے جوڑا جارہا ہے۔
لیکن کامیابی کا اصل پیمانہ کئی سال بعد سامنے آئے گا۔
اسے اس پاکستانی اسٹارٹ اپ سے ناپا جائے گا جو عالمی منڈیوں تک پہنچے گا۔ اس یونیورسٹی کی لیبارٹری سے ناپا جائے گا جو تجارتی اعتبار سے قیمتی تحقیق پیش کرے گی۔ اس نوجوان ڈویلپر سے ناپا جائے گا جو اسلام آباد سے ایک عالمی مصنوعات تیار کرے گا۔ اس چھوٹے کاروبار سے ناپا جائے گا جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے اپنی پیداواری صلاحیت بہتر بنائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کمپنی سے ناپا جائے گا جو پاکستان کو اپنے علاقائی مرکز کے طور پر منتخب کرے گی۔ اور اس پاکستانی پیشہ ور فرد سے ناپا جائے گا جو یہ دریافت کرے گا کہ عالمی مواقع حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ اسے اپنا گھر چھوڑنا پڑے۔
یہ وہ پاکستان ہے جس کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔
ہم نے کئی دہائیاں یہ کہتے ہوئے گزار دی ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ ڈیجیٹل معیشت ہمیں آخرکار یہ ثابت کرنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔
لہٰذا، ہاں، ہمیں اسلام آباد میں گوگل کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔
لیکن ہمیں صرف تالیاں بجانے کے بجائے بلند عزائم کے ساتھ اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔
ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ گوگل پاکستان کے لیے کیا کرسکتا ہے، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا کرنے کے لیے تیار ہے۔
کیونکہ ایک دفتر ایک دن میں قائم کیا جاسکتا ہے۔
لیکن ٹیکنالوجی کا ایکو سسٹم تشکیل دینے میں برسوں لگتے ہیں۔
اور پاکستان کے ڈیجیٹل عزائم کا حتمی پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ اسلام آباد میں گوگل کا دفتر موجود ہے یا نہیں۔
اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ کیا ایک دن کوئی پاکستانی کاروباری شخصیت یہاں اگلا گوگل قائم کرسکتی ہے۔
یہ مضمون لازمی طور پر بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی نہیں کرتا۔