پاک، سعودی عرب مشترکہ فوڈ ایکسپورٹ ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز
- پاکستان کو خام اجناس کے بجائے ویلیو ایڈڈ برانڈڈ مصنوعات برآمد کرنی چاہئیں، میاں زاہد حسین
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ ایگرو فوڈ ایکسپورٹ ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز دی ہے جس کے تحت مصنوعات کے لحاظ سے مخصوص اہداف مقرر کیے جائیں اور ماہانہ پیش رفت رپورٹس جاری کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی مذبح خانوں، گوشت پراسیسنگ یونٹس اور پیکیجنگ ہاؤسز کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے۔
میاں زاہد حسین نے کولڈ اسٹوریج کی سہولیات، ریفریجریٹڈ ٹرانسپورٹ اور جدہ و دمام کے ساتھ قابلِ اعتماد بحری رابطوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو خام اجناس کے بجائے ویلیو ایڈڈ برانڈڈ مصنوعات برآمد کرنی چاہئیں جن میں باسمتی چاول، پیک شدہ حلال گوشت، فروٹ پلپ، جوس کنسنٹریٹس، جیم، جیلی، مارملیڈ، ٹماٹو کیچپ، فروزن فوڈز اور فوری استعمال کے لیے تیار مصنوعات شامل ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اگلے دو سال میں پاکستان کی سالانہ زرعی و غذائی برآمدات سعودی عرب کو 3 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھانے کے اتفاق کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک مضبوط بنیاد اور سمت فراہم کردی ہے۔