بھارتی عدالت کا فورٹس اثاثہ منتقلی کیس میں تحقیقات کا حکم، ملائیشین آئی ایچ ایچ
- بھارت کی دہلی ہائی کورٹ کا فورٹس ہیلتھ کیئر کے سابق پروموٹرز کی جانب سے مبینہ اثاثہ منتقلی کی فرانزک آڈٹ کا حکم
ملائیشیا کی آئی ایچ ایچ ہیلتھ کیئر نے منگل کو بتایا کہ بھارت کی دہلی ہائی کورٹ نے فورٹس ہیلتھ کیئر کے سابق پروموٹرز کی جانب سے مبینہ طور پر اثاثے ہڑپ کرنے یا منتقل کرنے کے معاملے کی فرانزک آڈٹ کا حکم دیا ہے۔
آئی ایچ ایچ ہیلتھ کیئر کے مطابق حقائق جاننے کے لیے ہونے والی اس تحقیقات میں فورٹس کے سابق پروموٹرز کی جانب سے کمپنی میں اپنے حصص کی مبینہ فروخت یا منتقلی، اس کے نتیجے میں بھارتی اسپتال کمپنی کے انتظامی کنٹرول میں ہونے والی تبدیلی اور متعلقہ فریقوں کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔
اثاثوں کی منتقلی یا تلفی سے مراد اثاثوں کو اس طرح کم کرنا یا منتقل کرنا ہے کہ قرض خواہوں، حصص یافتگان یا دیگر دعوے داروں کے لیے دستیاب اثاثوں کا حجم کم ہوجائے۔
پروموٹرز ایسے بڑے حصص یافتگان کو کہا جاتا ہے جنہیں کمپنی کے انتظامی امور پر کنٹرول حاصل ہو۔
اس ایک دہائی سے جاری تنازع کے مرکز میں جاپانی دوا ساز کمپنی دائیچی سانکیو کا یہ دعویٰ ہے کہ فورٹس ہیلتھ کیئر کے سابق پروموٹرز ملویندر موہن سنگھ اور شیویندر موہن سنگھ نے ایسے اثاثے منتقل یا فروخت کر دیے جو 2016 میں دائیچی کے حق میں جاری ہونے والے ثالثی فیصلے کی رقم کی ادائیگی کے لیے استعمال کیے جا سکتے تھے۔
2016 میں سنگاپور کے ایک ثالثی ٹریبونل کی جانب سے جاری فیصلے میں سنگھ برادران اور ان سے متعلق فریقوں کو دائیچی کو 25.62 ارب بھارتی روپے (26 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
دائیچی نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ واجب الادا رقم اب بڑھ کر 53 ارب بھارتی روپے ہوچکی ہے۔
ملائیشیا کی آئی ایچ ایچ ہیلتھ کیئر نے 2018 میں فورٹس ہیلتھ کیئر کے تقریباً ایک تہائی حصص خریدے تھے، جس کے بعد کمپنی کے مزید 26 فیصد حصص کے حصول کے لیے لازمی ٹیک اوور پیشکش کرنا پڑی۔ تاہم دائیچی سانکیو کی جانب سے فورٹس کے پروموٹرز کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کیے جانے کے بعد آئی ایچ ایچ کو یہ ٹیک اوور پیشکش روکنا پڑی۔
آئی ایچ ایچ نے منگل کو کہا کہ وہ فورٹس کے سابق پروموٹرز کے خلاف عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی کارروائی کا فریق نہیں ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو جاری حکم میں ناردرن ٹی کے وینچر پی ٹی ای کے ذریعے فورٹس میں آئی ایچ ایچ کے حصص کے حصول کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
فورٹس نے کہا کہ اس نے عدالت کے فیصلے کا نوٹس لے لیا ہے اور واضح کیا کہ اس فیصلے کے تحت کمپنی پر کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ فیصلہ ’’اپنے طور پر کسی بھی طرح فورٹس کو ذمہ دار قرار دینے‘‘ کا باعث بنتا ہے۔
آئی ایچ ایچ دنیا کے بڑے نجی شعبے کے صحت کی سہولت فراہم کرنے والے گروپس میں شمار ہوتی ہے، جو ملائیشیا، سنگاپور، ترکیہ اور بھارت سمیت 10 ممالک میں 190 طبی مراکز چلاتی ہے۔ فورٹس بھارت بھر میں 36 طبی مراکز کا انتظام کرتی ہے، جہاں 6 ہزار سے زائد بستروں کی گنجائش ہے۔