✕
مارکٹس

کارپوریٹ پوسٹ پیڈ سم کی خلاف ورزی، پی ٹی اے کا جاز پر 38.9 ملین روپے جرمانہ

  • آپریٹر لازمی تقاضوں کی تعمیل ثابت کرنے کے لیے مکمل ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا، اتھارٹی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے تقریباً 400 کارپوریٹ پوسٹ پیڈ سمز کے اجرا، تصدیق، فروخت، ایکٹیویشن اور نگرانی میں مبینہ خلاف ورزیوں پر پاکستان موبائل کمیونیکیشن لمیٹڈ (جاز) پر 38.9 ملین روپے جرمانہ عائد کردیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کی دفعہ 23 کے تحت جاری کیے گئے انفورسمنٹ آرڈر کے بعد یہ کارروائی عمل میں آئی۔ اس سے قبل ایم/ایس ٹارگٹ مارکیٹنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے شکایت درج کرائی تھی کہ اس کے نام پر تقریباً 400 کارپوریٹ سمز اس کی درخواست، منظوری، رضامندی یا اجازت کے بغیر جاری کی گئی تھیں۔

شکایت کنندہ نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ بعد میں اسے ایک تھرڈ پارٹی ریکوری ایجنسی کے ذریعے ان سیموں کے مد میں 6,26,360.48 روپے کے بقایا جات کا ریکوری نوٹس موصول ہوا جو مبینہ طور پر اس کے نام پر رجسٹرڈ تھیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ سمز ان کے علم یا منظوری کے بغیر ایک طویل عرصے تک فعال اور زیرِ استعمال رہیں۔

پی ٹی اے کے حکم نامے کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد اتھارٹی نے جاز سے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا۔ تاہم آپریٹر نے نامکمل جواب جمع کرایا جس میں لازمی کارپوریٹ اجازت نامے کی دستاویزات اور حتمی صارفین کی شناختی معلومات موجود نہیں تھیں۔

اتھارٹی نے نوٹ کیا کہ جاز نے این ٹی این سرٹیفکیٹ، ایک پرانا کاروباری معاہدہ جس میں ایک رابطہ کار کا نام درج تھا، اور اس کے نام پر مبینہ طور پر رجسٹرڈ 400 سمز کی فہرست فراہم کی جبکہ جون سے اگست 2021 کے دوران بزنس کنکشنز کے اضافے کی درخواستیں بھی پیش کی گئیں۔

پی ٹی اے نے قرار دیا کہ آپریٹر لازمی تقاضوں کی تعمیل ثابت کرنے کے لیے مکمل ریکارڈ فراہم کرنے میں ناکام رہا جن میں حتمی صارف کی تصدیق، شناختی معلومات کا ریکارڈ برقرار رکھنا اور جاری کردہ سمز کو انفرادی صارفین سے منسلک کرنے کا ریکارڈ شامل ہے۔

ریگولیٹر نے قرار دیا کہ کارپوریٹ سمز کے اجرا کے ساتھ تصدیق، نگرانی اور قابلِ سراغ ہونے سے متعلق مسلسل ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیل کی ذمہ داری کارپوریٹ صارفین، فرنچائزز، سیلز چینلز یا مجاز نمائندوں پر منتقل نہیں کی جاسکتی۔

پی ٹی اے نے جاز کا یہ مؤقف بھی مسترد کردیا کہ یہ تنازع بنیادی طور پر بلنگ یا تجارتی معاملہ ہے۔ اتھارٹی نے قرار دیا کہ معاملہ کارپوریٹ سمز کے اجرا، تصدیق اور اجرا کے بعد نگرانی سے متعلق لازمی ضوابط کی منظم عدم تعمیل سے متعلق ہے۔

اتھارٹی نے مزید قرار دیا کہ آپریٹر کی سطح پر مؤثر نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد کے نظام سمز کے اجرا سے متعلق ضابطہ کار کا ایک اہم جزو ہیں۔

اتھارٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ جاز کارپوریٹ سمز کے اجرا، تصدیق، ایکٹیویشن اور نگرانی سے متعلق نافذ العمل ضابطہ کار پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا۔

پی ٹی اے نے نتیجتاً جاز پر 3 کروڑ 89 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے آپریٹر کو ہدایت کی کہ وہ حکم نامہ جاری ہونے کی تاریخ سے 30 روز کے اندر جرمانے کی رقم جمع کرائے۔ مقررہ مدت کے اندر جرمانہ جمع نہ کرانے کی صورت میں قانون کے تحت مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔