✕
پاکستان

پاکستان اور سعودی عرب نے زرعی و غذائی مصنوعات کی برآمدات کیلئے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرلیا

  • سعودی عرب پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمدات دوگنا کرنے کا خواہاں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور سعودی عرب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئندہ دو برس کے دوران پاکستان کی سعودی عرب کو زرعی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھا کر 3 ارب ڈالر تک لے جانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ یہ پیش رفت زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں دونوں ممالک کے باہمی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ اتفاقِ رائے سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت عبدالرحمٰن الفضلی اور پاکستان کی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے درمیان کامیاب مذاکرات کے دوران ہوا۔ مذاکرات وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی کے تحت منعقد ہوئے۔

سعودی وزیر عبدالرحمٰن الفضلی کی قیادت میں سعودی وفد پاکستان کی دعوت پر 26 سے 28 اگست تک اسلام آباد کے دورے پر رہا۔ وفد میں سعودی وزارتِ ماحولیات، پانی و زراعت، جنرل فوڈ سیکیورٹی اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی سعودی وفد سے ملاقات کی اور باہمی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کی، جبکہ وفد میں سیکریٹری تجارت جواد پال، سیکریٹری قومی غذائی تحفظ و تحقیق عامر علی احمد، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمیر اور پاکستان کے چاول، سرخ گوشت، پراسیس شدہ خوراک، فروٹ کنسنٹریٹ اور سبز چارے کے شعبوں کے نمائندے شامل تھے۔

دورے کے دوران سعودی وفد کو پاکستان اور سعودی عرب کے زرعی و غذائی اسٹریٹجک پلان کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وفد نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، فوجی فاؤنڈیشن اور پاکستان سعودی عرب ایگری بزنس فورم کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جبکہ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر کا دورہ بھی کیا۔

چاول، گوشت، پھل اور چارہ ترجیحی شعبے قرار

دونوں ممالک نے اپنے دیرینہ دوطرفہ تعلقات کی تجدید کرتے ہوئے اس بات کو اجاگر کیا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی و غذائی برآمدی شعبے میں نمایاں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

3 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول کے لیے پاکستان اور سعودی عرب نے سعودی نجی شعبے کے تعاون سے چاول، سرخ گوشت، پھل اور فروٹ کنسنٹریٹس، سبز چارے اور پانی کی بچت کرنے والی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبوں کے طور پر شناخت کیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے 2025 میں سعودی مارکیٹ کو تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جن کی مالیت تقریباً 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہی۔

سعودی وفد نے آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان چاول کی تجارت مزید بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

سرخ گوشت کے شعبے میں دونوں جانب سے پاکستان کی جانب سے سالانہ تقریباً 30 ہزار ٹن گوشت کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا، جس کی مالیت تقریباً 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان سے سرخ گوشت کی درآمدات بتدریج دوگنا کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔

دونوں ممالک نے سعودی مارکیٹ میں پاکستانی پھلوں اور فروٹ کنسنٹریٹس کا حصہ بڑھانے کے نمایاں امکانات کی بھی نشاندہی کی۔ دونوں جانب سے کاروبار سے کاروبار کی سطح پر روابط اور ملاقاتوں کو آسان بنانے، نجی شعبے کے درمیان روابط مضبوط کرنے اور معیار کی تصدیق سے متعلق سرٹیفکیٹس کو باہمی طور پر تسلیم کرنے کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

سعودی عرب نے سبز چارے کو تجارت میں توسیع اور طویل مدتی سپلائی شراکت داری قائم کرنے کے لیے ایک امید افزا شعبہ قرار دیا۔

پانی کی بچت والی زراعت پر توجہ

دونوں ممالک نے پنجاب کے ضلع بھکر میں پانی کی بچت کرنے والے آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا اور چھوٹے کاشتکاروں کو ہدف بنانے والے دوسرے مرحلے کی تجویز میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

سعودی وفد نے پاکستان کو انٹرنیشنل ڈیٹس کونسل میں شمولیت کی بھی ترغیب دی، جس کا پاکستانی جانب سے خیرمقدم کیا گیا۔

دونوں فریقوں نے پاکستان کے نجی شعبے کی جانب سے لائیو اسٹاک، زرعی و غذائی مصنوعات کی پراسیسنگ اور چاول کی ویلیو چین کے شعبوں میں پیش کی جانے والی سرمایہ کاری کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا اور ان شعبوں میں ممکنہ تعاون کے لیے رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے اپنی وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کی تجدید کرتے ہوئے 43 ویں سعودی ایگریکلچر نمائش میں شرکت کی دعوت کا خیرمقدم کیا، جو 19 سے 22 اکتوبر 2026 تک ریاض میں منعقد ہوگی۔

دونوں نے سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ طے پانے والی مفاہمت کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔