✕
اداریہ

تربیلا کی بے قابو بڑھتی لاگت

شائع اپ ڈیٹ

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کی جانب سے 22 اگست کو تربیلا کے پانچویں توسیعی منصوبے کی 316 ارب روپے کی خطیر لاگت سے منظوری دیے جانے کے بعد منصوبے کے غیر معمولی لاگت میں اضافے کا اس بات پر سنجیدہ جائزہ لینے کا تقاضا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی، انتظامی امور اور عمل درآمد کیسے کیا گیا۔

اصل میں 2016ء میں 82.3 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیے گئے اس منصوبے کی لاگت میں حیران کن 282 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں مجموعی لاگت میں 234 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو قرضوں، مالیاتی مشکلات اور محدود عوامی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے نبردآزما ہے، یہ ادارہ جاتی صلاحیت، مالیاتی نظم و ضبط اور احتساب کے نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔

تاہم لاگت میں ہونے والا یہ بھاری اضافہ اس معاملے کا صرف ایک پہلو ہے۔ منصوبے کو اس مقام تک پہنچانے والے حالات بھی اتنے ہی تشویشناک ہیں، جس کا اندازہ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے واپڈا اور منصوبے پر عملدرآمد کے ذمہ دار اہلکاروں پر کی جانے والی غیر معمولی طور پر سخت تنقید سے ہوتا ہے۔

مئی میں ہونے والے مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں انہوں نے منصوبے کے انتظام، شفافیت اور نگرانی پر سوالات اٹھائے تھے جبکہ منصوبے کے زیریں حصے میں بنائے گئے کوفرڈیم میں پڑنے والے شگاف سے متعلق وزارتِ آبی وسائل کی رپورٹ کے نتائج کو بھی اجاگر کیا تھا۔

اس رپورٹ کے نتائج کم از کم یہ کہنے کے لیے انتہائی تشویشناک تھے۔ رپورٹ میں کوفردیم میں پڑنے والے شگاف کی وجہ سیلاب کو قرار نہیں دیا گیا جیسا کہ توقع کی جاسکتی تھی، بلکہ رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ سے راک فل ڈیم میں ڈیزائن کی تبدیلی، ناکافی نگرانی اور انتظامی اقدامات میں تاخیر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ نتیجتاً واقعات کا ایک ایسا مہنگا سلسلہ شروع ہوا جس میں ساختی ناکامی، طویل تاخیر اور بڑھتے مالی نقصانات نے منصوبے کو شدید متاثر کیا۔

منصوبے کے لیے ایک مقامی کنسلٹنٹ کی تقرری پر بھی سوالات اٹھائے گئے جس کی اہلیت کو مشکوک قرار دیا گیا۔ یہ تقرری ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ کو ایسے عمل کے ذریعے تبدیل کیے جانے کے بعد عمل میں آئی تھی، جسے وزیر منصوبہ بندی نے غیر شفاف قرار دیا تھا۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ کنسلٹنسی کی لاگت میں 550 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جو 1.8 ارب روپے سے بڑھ کر 19 ارب روپے سے زائد ہوگئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک واضح سوال اٹھاتے ہیں کہ 82 ارب روپے کی لاگت سے منظور کیے گئے منصوبے کو ایک دہائی بعد ایسی صورتِ حال تک کیسے پہنچا دیا گیا جہاں اخراجات پہلے ہی 140 ارب روپے سے تجاوز کرچکے تھے جبکہ نظرثانی شدہ لاگت اب 316 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا باعث بننے والے فیصلوں کا ذمہ دار کون ہے؟

وزارتِ خزانہ نے بھی منصوبے کی لاگت میں اضافے کی وجوہات اور جواز طلب کیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی مالی اداروں کی معاونت سے چلایا جارہا ہے۔ وزارت نے واپڈا سے یہ بھی وضاحت طلب کی ہے کہ اس کے نتیجے میں حاصل کیے جانے والے قرضوں کی واپسی کیسے کی جائے گی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وزیر منصوبہ بندی نے منصوبے میں بدانتظامی اور اس پر کام کرنے والے ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جس کی رپورٹ ایکنک کے سامنے پیش کی جانی تھی۔ تاہم بظاہر اس رپورٹ کے ایکنک میں پیش کیے جانے کا کوئی ثبوت موجود نہ ہونے کے باوجود ایکنک نے منصوبے کی منظوری دے دی۔

قومی آبی سلامتی کے لیے تربیلا کی اہمیت کے پیش نظر منصوبے کی منظوری ناگزیر ہوسکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ واپڈا یا اس کی تکمیل کے ذمہ دار دیگر فریقوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ اگر ڈیزائن، خریداری، کنسلٹنسی، نگرانی اور مالی انتظام سے متعلق خدشات کی منظوری سے قبل نشاندہی کی جاسکتی ہے لیکن اس کے باوجود ان تحفظات کو اطمینان بخش طور پر دور کیے بغیر منصوبہ آگے بڑھا دیا جائے، تو پھر چھان بین اور نگرانی کا مقصد ہی کیا رہ جاتا ہے؟

تربیلا پاکستان کی آبی اور توانائی سلامتی کے لیے اس قدر اہم ہے کہ اسے ادارہ جاتی ناکامی کی ایک اور علامت بننے سے روکا جانا چاہیے۔ ناقابلِ جواز تاخیر اور ناقص فیصلوں کے باعث ضائع ہونے والا ہر روپیہ دراصل وہ رقم ہے جو ملک کی دیگر فوری ترجیحات پر خرچ نہیں کی جاسکتی اور یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ بھی نہیں ہے۔

بڑے پیمانے پر لاگت میں اضافے اور منصوبوں پر عملدرآمد میں ناکامیاں پاکستان کے سرکاری شعبے کے ترقیاتی منظرنامے میں بار بار سامنے آنے والی صورتِ حال بن چکی ہیں۔ اس لیے ایکنک کی منظوری کو اس معاملے کا اختتام نہیں ہونا چاہیے۔

ذمہ داری کا سخت اور آزادانہ تعین ضروری ہے۔ جن افراد کے فیصلوں، غفلت یا نگرانی میں ناکامی نے لاگت میں اضافے میں کردار ادا کیا، ان کی نشاندہی کرکے انہیں جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026