✕

موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ سی اے اے ون سے بڑھا کر بی تھری کردی ہے جو چار سال کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ درجہ بندی بہتر طرز حکمرانی، مضبوط بیرونی مالی ذخائر اور مسلسل معاشی استحکام کے باعث کی گئی ہے۔ اس پیشرفت پر وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ریٹنگ میں بہتری پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، دیگر وزرا اور متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہا۔ ان کی جانب سے تحسین اس یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومتی ارکان اور ان کے ماتحت افسران کی حوصلہ افزائی انہیں مزید بہتر کارکردگی اور بھرپور کوششوں پر آمادہ کرتی ہے۔

انہوں نے 14 اگست کے اعزازات کیلئے نامزدگیاں کرتے وقت بھی اسی اصول کو مدنظر رکھا، تاہم توقع کے مطابق ناقدین نے اعزازات حاصل کرنے والوں کی تعداد پر سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ اپ گریڈ پاکستان کی دیگر دو اہم عالمی ریٹنگ ایجنسیوں، خصوصاً اسٹینڈرڈ اینڈ پورز اور فِچ کی موجودہ ریٹنگز کے مقابلے میں موڈیز کی درجہ بندی کو فِچ کے برابر لے آیا ہے۔ فِچ نے رواں سال جنوری میں یعنی سات ماہ سے زائد عرصہ قبل پاکستان کی منفی بی ریٹنگ برقرار رکھی تھی جبکہ موڈیز کی نئی ریٹنگ ایس اینڈ پی کی 22 جولائی 2026 کو اعلان کردہ بی ریٹنگ سے ایک درجے کم ہے۔

موڈیز کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان انتہائی قیاس آرائی پر مبنی (نان انویسٹمنٹ) زمرے سے نکل کر نسبتاً بہتر قیاس آرائی پر مبنی زمرے میں آ گیا ہے جبکہ ایس اینڈ پی کی ریٹنگ پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر ظاہر کرتی ہے جو نمایاں خطرے سے دوچار ہے اور تاحال نان انویسٹمنٹ کے زمرے میں ہی موجود ہے۔

دوسرے الفاظ میں، اس ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی بطور پُرکشش غیر ملکی سرمایہ کاری کی منزل حیثیت میں کوئی تبدیلی ظاہر نہیں ہوتی جو ممکنہ طور پر مالی سال 2024-25 میں 2.4773 ارب ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں 1.6368 ارب ڈالر رہ جانے والی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی آمد میں 33.9 فیصد کمی کی جزوی وضاحت ہوسکتی ہے۔

بہرحال، ان ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ درجہ بندیاں نہ صرف تمام ممالک کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) راغب کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم ہوتی ہیں بلکہ مارکیٹ سے مناسب شرح سود پر قرض لینے کی صلاحیت کا تعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان کثیرالجہتی قرض دہندگان سے قرض حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے جبکہ جاری پروگرام کے تحت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی قسطوں کے اجرا میں بھی تاحال کوئی بڑی رکاوٹ سامنے نہیں آئی۔ ایسی رکاوٹ سے مراد طے شدہ شرائط پر عملدرآمد میں ناکامی ہے جن میں دوطرفہ ذرائع سے مقررہ مالی وسائل حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ چین اور سعودی عرب سے 10 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی رول اوور سہولت بدستور جاری ہے جبکہ کثیرالجہتی ذرائع اور/یا بیرونِ ملک کمرشل شعبے سے بھی مطلوبہ رقوم کے حصول کا عمل جاری ہے۔

تاہم، بیرونِ ملک کمرشل شعبے سے حکومت کی جانب سے لیے جانے والے قرضوں پر عائد شرحِ سود اب بھی انتہائی بلند ہے۔

ریٹنگ ایجنسیوں کی توجہ اس بات کا جائزہ لینے پر ہوتی ہے کہ حکام قرضوں کی واپسی کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پاکستان نے کبھی کسی قرض کی ادائیگی میں ڈیفالٹ نہیں کیا، اگرچہ وہ اکثر مختصر مدت میں قرض کی واپسی کو طویل مدت میں تبدیل کرنے کے لیے کامیاب مذاکرات کرتا رہا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں عموماً عائد ہونے والے سود کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

فیلڈ مارشل کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالث کے طور پر ادا کیا جانے والا اہم کردار بلاشبہ پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کو مضبوط بنانے کا باعث بنا ہے اور ممکنہ طور پر خطے کے ممالک کی جانب سے اضافی حمایت کا سبب بھی بنا ہے۔ یہ پہلو وزیر داخلہ کے جولائی کے اواخر میں دیے گئے اس بیان سے متصادم ہے کہ موجودہ نظامِ حکمرانی مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور اس میں بڑی ساختی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف سے طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کے نتیجے میں معاشی استحکام حاصل کیا ہے، اگرچہ اس کے زرمبادلہ ذخائر بڑی حد تک قرضوں پر مبنی ہیں جبکہ تجارتی خسارے میں اضافے کے آثار کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی دباؤ کا شکار ہوسکتا ہے۔

اس ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، تاہم ابھی اطمینان کا وقت نہیں آیا، ملک کو انویسٹمنٹ گریڈ ریٹنگ تک پہنچانے کے لیے مزید کوششیں درکار ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026