✕

پاکستان اور ہانگ کانگ ڈیجیٹل بانڈز کے اجرا اور ٹوکنائزڈ کیپٹل مارکیٹس کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں جب کہ اسلام آباد اپنے مالی ڈھانچے کو جدید بنانے اور بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی کو وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے۔

وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہانگ کانگ کے اسپیشل ایڈمنسٹریٹو ریجن گورنمنٹ کے سیکرٹری برائے مالی خدمات اور ٹریژری، کرسٹوفر ہوئی سے ملاقات کی جس میں ڈیجیٹل بانڈز کے اجراء، ٹوکنائزیشن اور ریگولیٹری جدت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بات چیت میں اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا کہ ٹوکنائزیشن کس طرح زیادہ مؤثر سرمائے کی تشکیل اور مالیاتی منڈی کے امور کو سپورٹ کرسکتی ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان جب اپنی اگلی نسل کے مالی ڈھانچے کو تشکیل دے رہا ہے تو ہانگ کانگ کا تجربہ اس کے لیے قیمتی اسباق فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ٹوکنائزیشن محض ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں بلکہ سرمایہ تشکیل دینے کا معاملہ ہے۔

انہوں نے ملاقات کے بعد کہا کہ اگر ہم پاکستانی اثاثوں تک عالمی سرمایہ کاروں کی رسائی، لین دین کی تکمیل اور انہیں محفوظ رکھنے کے عمل کو آسان بناسکیں تو ملک کے لیے دستیاب سرمایہ کاری کے دائرے کو وسیع کیا جاسکتا ہے۔

ٹوکنائزیشن سے مراد اثاثوں یا مالی آلات کو بلاک چین پر مبنی نظام کے ذریعے ڈیجیٹل شکل میں پیش کرنا ہے جس کے نتیجے میں انہیں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کے ذریعے جاری کرنے، خرید و فروخت کرنے اور لین دین کو مکمل کرنے کی سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔

پاکستان ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک وضع کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ سرمایہ کاری راغب کرنے اور اپنی مالیاتی منڈیوں کو جدید بنانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔