✕
مارکٹس

آبنائے ہرمز کی بندش، قطر کی ایل این جی برآمدات میں 96 فیصد کمی

  • سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت کی تیل برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں، تاہم ان کی کمی قطر کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو چھ ماہ گزرنے کے بعد قطر اس تنازع کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے معاشی فریقوں میں شامل ہے، جہاں اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں 96 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت کی تیل برآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں، تاہم ان کی کمی قطر کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

رائٹرز کے حساب کے مطابق قطر کو گیس کی فروخت میں 24 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، جو 2025 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ملک کی تقریباً پانچ ماہ کی آمدنی کے برابر ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے قطری ایل این جی برآمدات متاثر

قطر کی آمدنی کا بڑا حصہ سرکاری ملکیتی کمپنی قطر انرجی کے ذریعے مائع قدرتی گیس کی برآمدات سے حاصل ہوتا ہے۔ فروری کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایل این جی کی برآمدی مقدار میں نمایاں کمی آئی ہے۔

خلیج سے روانہ ہونے والے قطری ایل این جی ٹینکروں کی تعداد میں بھی جنگ کے آغاز کے بعد سے شدید کمی ہوئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کے راستے بحری آمدورفت تقریباً تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔

ڈیٹا انٹیلی جنس کمپنی آئی سی آئی ایس کے مطابق قطر نے رواں عرصے میں صرف 18 ایل این جی کارگو برآمد کیے ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ تعداد 509 تھی۔

قطر کے دو ایل این جی ٹینکروں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

سرکاری ملکیتی ایل این جی پیدا کرنے والی کمپنی قطر انرجی نے رائٹرز کی جانب سے فوری تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

جنگ سے قبل قطر دنیا کی یومیہ ایل این جی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد حصہ فراہم کرتا تھا۔

امریکا سے ایل این جی کی برآمدات میں اضافے نے قطر کی سپلائی میں کمی کو کسی حد تک پورا کیا ہے، تاہم یورپ میں گیس کے ذخائر سال کے اس وقت کے لحاظ سے تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

گرمیوں کے دوران گیس ذخیرہ کرنے کی سست رفتار سرگرمی، بلند قیمتوں اور عالمی سطح پر ایل این جی کی محدود دستیابی کے باعث یورپی گیس ذخائر کم از کم 2011 کے بعد اس عرصے کی کم ترین سطح پر ہیں۔ اس صورتحال سے رواں سال سرد موسم سخت ہونے کی صورت میں یورپ میں گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔