✕
دنیا

ایران جنگ کے 6 ماہ، دنیا کو تیل کی نصف پیداوار فراہم کرنے والے ممالک جنگ سے متاثر

  • چھ ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تیل کی فراہمی کا بحران شروع ہوا
شائع اپ ڈیٹ

دنیا کی تقریباً نصف تیل کی پیداوار ایسے ممالک سے آتی ہے جو 2026 میں تنازعات سے متاثر ہیں، جس سے موجودہ عالمی توانائی بحران کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ رائٹرز کے حساب کے مطابق موجودہ رکاوٹوں نے ماضی کے توانائی بحرانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

رائٹرز نے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا کہ 2025 کی پیداوار کے لحاظ سے تنازعات سے متاثرہ ممالک نے مجموعی طور پر تقریباً 45 ملین بیرل یومیہ تیل پیدا کیا، جو عالمی پیداوار کے 43 فیصد سے زیادہ ہے۔

چھ ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تیل کی فراہمی کا بحران شروع ہوا، جو اب تک کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران بن چکا ہے اور اس کے خاتمے کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔

دریں اثنا روس، یوکرین جنگ کے باعث پیداوار اور ریفائننگ میں کمی ہوئی، جبکہ قازقستان بھی اس سال متاثر ہوا۔ لیبیا میں جاری تنازع اور سال کے آغاز میں وینزویلا کی تیل برآمدات پر امریکی پابندیوں نے بھی عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھایا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی خطے میں موجودہ تیل کی سپلائی میں کمی تقریباً 5 سے 7 ملین بیرل یومیہ ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے تیل کا رخ بحیرہ احمر کی طرف موڑنے اور خلیجی برآمد کنندگان کی آبنائے ہرمز سے خفیہ طور پر تیل نکالنے کے باوجود مجموعی سپلائی کو خطرات برقرار ہیں۔

خلیج اور یوکرین کے تنازعات نے عالمی ریفائننگ صلاحیت میں تقریباً 10 فیصد کمی کردی ہے۔ عالمی سپلائی بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے آئی ای اے نے ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل جاری کیا، تاہم یہ ذخائر اب بڑی حد تک ختم ہوچکے ہیں جبکہ عالمی ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔