✕
دنیا

ایران نے متعدد عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی

  • آبنائے ہرمز کی بندش سے عراق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے بغداد کی جانب سے مختلف ذرائع سے بارہا درخواستیں کیے جانے کے بعد متعدد عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ عراقی ٹینکرز کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنا، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے دورۂ عراق کے دوران بغداد کے اہم مطالبات میں سے ایک تھا۔

عراقی صدر نزار امیڈی نے ہفتے کو کہا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں عراقی تیل لے جانے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں سہولت فراہم کی ہے جبکہ بغداد نے ایرانی حکام کے ساتھ آبنائے ہرمز کے راستے عراقی تیل کی برآمد کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے۔

انہوں نے بغداد ڈائیلاگ پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ معاملہ بدستور پیچیدہ ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے عراق سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں اب بھی نمایاں طور پر کم ہے جبکہ بحری جہازوں کو علاقے میں مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔

ایران جنگ شروع ہونے سے قبل عراق روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا۔

وزیراعظم علی الزیدی نے جمعہ کو کہا کہ بغداد ترکیہ کی جیہان بندرگاہ کے ذریعے تیل کی برآمدات بڑھانے کے ساتھ ساتھ شام کی بانیاس بندرگاہ اور اردن کی عقبہ بندرگاہ کے راستے بھی تیل برآمد کرنے کا عمل شروع کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔