✕
دنیا

سعودی عرب کی جون میں خام تیل برآمدات مئی کی ریکارڈ کم سطح سے بڑھ گئیں

  • ملک کی خام تیل کی پیداوار جون میں بڑھ کر 71 لاکھ 22 ہزار بیرل یومیہ ہوگئی
شائع اپ ڈیٹ

مشترکہ تنظیمی ڈیٹا انیشی ایٹو (جوڈی) کے اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات جون میں بڑھ کر 39 لاکھ 93 ہزار بیرل یومیہ ہوگئیں، جو مئی میں ریکارڈ کم ترین سطح 34 لاکھ 34 ہزار بیرل یومیہ تھیں۔

ملک کی خام تیل کی پیداوار بھی جون میں بڑھ کر 71 لاکھ 22 ہزار بیرل یومیہ ہوگئی، جو مئی میں 65 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ تھی۔

سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار اور برآمدات سے متعلق جوڈی کے اعدادوشمار 2002 سے دستیاب ہیں۔ ریاض اور پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے دیگر رکن ممالک ماہانہ برآمدی اعدادوشمار فراہم کرتے ہیں، جنہیں جوڈی کی ویب سائٹ پر جاری کیا جاتا ہے۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوفو نے کہا، ’’جون میں سعودی عرب کی پیداوار اور برآمدات دونوں میں بحالی ہوئی، جس کی ممکنہ وجہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط تھے، جس کے بعد مزید بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملی۔‘‘

اعدادوشمار کے مطابق سعودی ریفائنریوں میں خام تیل کی پراسیسنگ جون میں 1 لاکھ 11 ہزار بیرل یومیہ بڑھ کر 24 لاکھ 97 ہزار بیرل یومیہ ہوگئی، جو گزشتہ ماہ 23 لاکھ 86 ہزار بیرل یومیہ تھی۔

خام تیل کو براہِ راست ایندھن کے طور پر جلانے کی مقدار بھی 64 ہزار بیرل یومیہ کم ہوکر 5 لاکھ 83 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی۔

بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں کمی آئی ہے، کیونکہ بیشتر جہاز مالکان نے ایران جنگ کے دوران ناکہ بندی کے بعد آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے واضح اشارہ نہ ملنے کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے گریز کیا۔

دریں اثنا، سعودی آرامکو نے گزشتہ ہفتے اہم آبی گزرگاہ کے اندر سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی ہے اور مزید ٹینکرز تیل لادنے کے منتظر ہیں، کیونکہ سعودی توانائی کی بڑی کمپنی اس وقت بھاری خام تیل کی اسپاٹ کارگو پیشکشیں کر رہی ہے۔

گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے دوران آبنائے ہرمز میں اس کے ٹینکرز کے بیڑے پر حملوں کے بعد آرامکو نے کئی ہفتوں تک تیل کی فروخت روک دی تھی۔