✕
دنیا

سری لنکا نے 4.2 ارب ڈالر کی سیاحتی آمدنی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے فروغِ سیاحت مہم شروع کردی

  • 2 کروڑ 20 لاکھ آبادی والے ملک میں سیاحت زرمبادلہ کمانے کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے
شائع اپ ڈیٹ

سری لنکا رواں سال کے عروج کے موسمِ سرما میں سیاحوں کی آمد تقریباً دگنی کرکے 4.2 ارب ڈالر کمانے کے لیے چھ ممالک میں فروغِ سیاحت کی مہم شروع کر رہا ہے۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بدھ کو بتایا کہ جزیرہ نما ملک زرمبادلہ کمانے کے اہم ذریعے کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

ڈپٹی وزیر سیاحت روشن رانا سنگھے نے بتایا کہ یہ زیادہ تر ڈیجیٹل مہم آسٹریلیا، چین، جرمنی، برطانیہ، روس اور بھارت سمیت اہم سیاحتی منڈیوں پر مرکوز ہوگی۔ اس کے بعد سری لنکا اپریل 2027 میں طویل عرصے سے مؤخر عالمی فروغِ سیاحت مہم شروع کرے گا۔

انہوں نے کولمبو میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا، ’’سیاحت ہماری معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ تقریباً ایک دہائی کی تاخیر کے بعد یہ عالمی مہم سری لنکا کو دنیا اور اہم منڈیوں تک متعارف کرائے گی اور یہ واضح کرے گی کہ سری لنکا میں سیاحوں کے لیے کیا کچھ دستیاب ہے۔‘‘

2 کروڑ 20 لاکھ آبادی والے ملک سری لنکا میں سیاحت زرمبادلہ کمانے کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔ ملک اپنے صاف ستھرے ساحلوں، قدیم مندروں اور خوشبودار چائے کے لیے مشہور ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق خلیجی بحران کے باعث مارچ اور اپریل میں سیاحوں کی آمد میں تقریباً 20 فیصد کمی کے باوجود رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران سری لنکا میں 13 لاکھ سیاح پہنچے۔ جولائی کے اختتام تک سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی 1.5 ارب ڈالر رہی۔

سری لنکا نے بعد ازاں سیاحوں کی آمد کا ابتدائی ہدف 30 لاکھ سے کم کرکے 27 لاکھ کردیا، جبکہ سیاحت سے 4.2 ارب ڈالر آمدنی کی توقع ہے۔ سری لنکا نے 2025 میں سیاحت سے 3.2 ارب ڈالر کمائے تھے۔

سری لنکا، جو اپنی تمام تر ایندھن کی ضروریات درآمد کرتا ہے، ایران جنگ کے باعث توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت سے بھی دوچار ہے۔ مارچ سے اب تک ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث ایندھن راشننگ کرنا پڑی اور بدھ کے روز سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا۔

سیاحت سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ ملک کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جو گزشتہ ماہ کے اختتام پر 6.6 ارب ڈالر تھے۔ سری لنکا کے مرکزی بینک نے روپے پر دباؤ کم کرنے کے لیے جزوی طور پر مئی میں اپنی کلیدی پالیسی شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 8.75 فیصد کردی تھی۔