✕
کھیل

باز بال دور کے بعد پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ

  • میزبان ٹیم نے آخری 10 ٹیسٹ میں صرف دو فتوحات حاصل کی ہیں، ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ہیڈنگلے میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔

سابق کپتان بین اسٹوکس کی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ جو روٹ کی مکمل وقتی ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے دوسری مدت کا پہلا میچ ہے۔

انگلینڈ کو جارحانہ باز بال اندازِ کرکٹ کے دوسرے معمار برینڈن میک کلم کی خدمات بھی حاصل نہیں ہیں، جنہیں جون میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2-1 سے سیریز میں شکست کے بعد ٹیسٹ کوچ کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

میزبان ٹیم نے آخری 10 ٹیسٹ میں صرف دو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس نے اپنی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی ہیں۔

جارڈن کاکس نے انجری کا شکار جیکب بیتھل کی جگہ تیسرے نمبر پر لی، جبکہ ڈین لارنس نے چھٹے نمبر پر اسٹوکس کی چھوڑی ہوئی مڈل آرڈر کی جگہ سنبھالی۔

فاسٹ میڈیم باؤلر اولی رابنسن نے آف اسپنر شعیب بشیر کی جگہ لی۔

روٹ نے ٹاس کے موقع پر پہلے باؤلنگ کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہاں کچھ اوور ہیڈ حالات اور پچ پر اوپری سطح پر تھوڑی نمی موجود ہے، جس سے ہمارے کھلاڑی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستان کو 30 سال میں پہلی مرتبہ انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کی کوشش میں تین میچوں کی سیریز سے قبل اس وقت دھچکا لگا جب کپتان بابر اعظم ہاتھ کی انجری کے باعث سیریز سے باہر ہوگئے۔

آل راؤنڈر سلمان علی آغا پہلی مرتبہ ٹیسٹ میں پاکستان کی قیادت کر رہے ہیں۔ٹاپ آرڈر بلے باز شان مسعود کو فٹ قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ سعود شکیل بھی ٹیم میں واپس آ گئے ہیں۔

سلمان آغا نے کہا کہ مجھے آخری وقت میں معلوم ہوا کہ میں کپتانی کر رہا ہوں۔ بابر کی غیر موجودگی ہماری بدقسمتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کافی عرصے سے ریڈ بال کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ ہم اچھی طرح تیار ہیں۔اس کے برعکس انگلینڈ اس میچ میں ڈومیسٹک محدود اوورز کے مقابلے دی ہنڈرڈ کے کئی ہفتوں کے بعد داخل ہو رہا ہے۔

ٹیمیں

انگلینڈ: بین ڈکٹ، ایمیلیو گے، جارڈن کاکس، جو روٹ (کپتان)، ہیری بروک، ڈین لارنس، جیمی اسمتھ (وکٹ کیپر)، گس ایٹکنسن، اولی رابنسن، جوفرا آرچر، جوش ٹنگ

پاکستان: اذان اویس، امام الحق، شان مسعود، عبداللہ شفیق، سعود شکیل، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، سلمان علی آغا (کپتان)، علی عثمان، خرم شہزاد، محمد علی، محمد عباس

امپائرز: کرس گیفنی (نیوزی لینڈ)، علاء الدین پالرکر (جنوبی افریقہ)

ٹی وی امپائر: پال ریفل (آسٹریلیا)

میچ ریفری: رنجن مدوگالے (سری لنکا)