✕
دنیا

بھارت کی ٹاٹا سنز نے چیئرمین کی رخصتی کے چند روز بعد سالانہ شیئر ہولڈرز اجلاس ملتوی کردیا

  • چندر شیکھرن نے کہا کہ وہ فروری 2027 میں اپنی مدت مکمل ہونے پر دوبارہ تقرری کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کی ٹاٹا سنز نے 18 اگست کو ہونے والا اپنا سالانہ جنرل اجلاس ملتوی کردیا ہے، معاملے سے براہِ راست واقف ایک ذریعے نے منگل کو یہ بات رائٹرز کو بتائی ہے۔

یہ پیش رفت ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکھرن کی جانب سے چند روز قبل اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ وہ فروری 2027 میں اپنی مدت مکمل ہونے پر دوبارہ تقرری کے خواہاں نہیں ہوں گے۔ یہ فیصلہ ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ٹاٹا سنز کے کنٹرولنگ شیئر ہولڈر ٹاٹا ٹرسٹس کے ساتھ کئی ماہ سے جاری اختلافات کے بعد کیا گیا۔

ٹاٹا ٹرسٹس نے گزشتہ ہفتے ٹاٹا سنز کے نئے چیئرمین کی سفارش کے لیے ایک انتخابی کمیٹی قائم کی تھی۔ ٹرسٹس کے پاس ٹاٹا سنز میں کنٹرولنگ حصص ہیں اور وہ کمپنی کے ایک تہائی ڈائریکٹرز مقرر کرتے ہیں، جنہیں اہم فیصلوں پر ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔

ٹاٹا ٹرسٹس اور ٹاٹا سنز نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

158 سال پرانے اس کاروباری گروپ کے لیے جانشینی کا عمل سب سے اہم فیصلوں میں سے ایک ہے۔ اس گروپ کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً 277 ارب ڈالر ہے۔

ٹاٹا سنز کو اقلیتی شیئر ہولڈر شاپورجی پالونجی گروپ کی جانب سے بھی کمپنی کو اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ کرانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ اس معاملے میں ٹاٹا ٹرسٹس اور اس کے چیئرمین نویل ٹاٹا کا نمایاں اثر و رسوخ متوقع ہے۔