کاروبار اور معیشت

ٹرانسپورٹرز ہڑتال: ایف پی سی سی آئی کا ڈیمرج، ڈیٹینشن چارجز سے استثنیٰ کا مطالبہ

  • طویل ہڑتال ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچارہی ہے، عاطف اکرام شیخ
شائع اپ ڈیٹ

کاروباری برادری کو پہلے ہی پہنچنے والے بڑے مالی نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے فوری مالی ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بالخصوص حکومت، وزارتِ بحری امور، بندرگاہوں کے حکام اور ٹرمینل آپریٹرز پر زور دیا ہے کہ ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز سے مکمل استثنیٰ دیا جائے۔

انہوں نے مطالبات کے قابلِ قبول حل نہ ہونے کے باعث ملک گیر سطح پر جاری دس روزہ ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ طویل ہڑتال ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچارہی ہے جبکہ بندرگاہوں پر مال برداری اور ترسیل کا عمل تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

اس کے براہِ راست نتیجے کے طور پر درآمدی سامان اس وقت بندرگاہوں پر پھنس کر رہ گیا ہے جبکہ اہم برآمدی آرڈرز کی بروقت ترسیل تقریباً ناممکن ہوچکی ہے۔

اس تعطل کے باعث خام مال کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں صنعتی یونٹس کو یا تو اپنی سرگرمیاں انتہائی محدود کرنا پڑرہی ہیں یا پیداوار مکمل طور پر بند کرنا پڑرہی ہے۔

عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ تاجر اور صنعت کار اس بحران کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہے ہیں اور بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز پر بڑھتے ہوئے ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز کی صورت میں بھاری مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں۔

مزید برآں برآمدی ڈیڈ لائنز پوری نہ کر پانے سے پاکستانی برآمد کنندگان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور عالمی سطح پر ملک کی تجارتی شہرت بھی متاثر ہورہی ہے۔

موجودہ صورتحال تیزی سے ایک بڑی معاشی رکاوٹ کی شکل اختیار کررہی ہے جس سے درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، تاجروں اور عام صارفین سب ہی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ عاطف اکرام شیخ نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور مزید تاخیر کیے بغیر ہڑتال ختم کرانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپلائی چین کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں اور ملک کو مزید تباہ کن نقصانات سے بچایا جا سکے۔