دنیا

ایئر انڈیا کے اے 320 طیارے نے مختصر وقت کے لیے اہم فلائٹ کنٹرول کھو دیے، ایئربس کے تجزیے میں انکشاف

  • 4 اگست کو یہ واقعہ ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 2379 میں پیش آیا، جو پھوکٹ سے نئی دہلی جارہی تھی
شائع اپ ڈیٹ

ایئربس کے ابتدائی تجزیے کے مطابق ایئر انڈیا کا ایک ایئربس اے 320 رواں ماہ تقریباً 300 فٹ نیچے آ گیا تھا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 24 افراد زخمی ہوئے۔ طیارے میں ہائیڈرولک دباؤ ختم ہونے کے بعد کچھ دیر کے لیے اہم فلائٹ کنٹرولز نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ رائٹرز نے ایئربس کی اس ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔

یہ واقعہ 4 اگست کو ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 2379 میں پیش آیا، جو پھوکٹ سے نئی دہلی جارہی تھی۔ بلندی میں کمی کے باوجود طیارے نے نئی دہلی میں بحفاظت لینڈنگ کی۔

ایئربس کے ابتدائی تجزیے کے مطابق طیارے کے تینوں ہائیڈرولک نظاموں میں یکے بعد دیگرے دباؤ کم ہوگیا۔ یہ نظام دباؤ کے تحت موجود سیال کے ذریعے طیارے کے فلائٹ کنٹرولز اور دیگر آلات کو چلاتے ہیں۔

تقریباً چار سیکنڈ تک پائلٹ طیارے کے ایلیویٹرز اور ایلیرونز کو استعمال نہیں کرسکے۔ یہ پروں اور دُم پر نصب حرکت پذیر حصے ہوتے ہیں جو طیارے کی ناک کو اوپر یا نیچے کرنے اور اسے دائیں یا بائیں جانب جھکانے میں مدد دیتے ہیں۔ ایئربس کے مطابق اس دوران طیارے کا اگلا حصہ اوپر کی جانب اٹھ گیا۔ یہ بات ایئربس نے ایئر انڈیا کی جانب سے جائزے کی درخواست کے جواب میں جاری کردہ مراسلے میں بتائی۔

فرسٹ آفیسر نے طیارے کی ناک نیچے کرنے کے لیے کنٹرول مکمل طور پر نیچے کی جانب کیا، تاہم ہائیڈرولک نظام چند سیکنڈ میں بحال ہونے تک ’’فلائٹ کنٹرول سطحوں پر براہِ راست کوئی ردعمل نہیں ہوا‘‘۔

ابتدائی جائزے میں ہائیڈرولک دباؤ کم ہونے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

ایئربس نے ایئر انڈیا سے طیارے کے ہائیڈرولک نظاموں اور ان میں دباؤ کی نگرانی کرنے والے پریشر سینسرز اور سوئچز کے ٹیسٹ کرانے کو کہا ہے۔ کمپنی نے بعض سینسرز کو نکال کر ان کا معائنہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، جبکہ کہا ہے کہ وائرنگ کی مزید جانچ بھی ضروری ہوسکتی ہے۔

ایئربس نے یہ بھی پایا کہ اچانک بلندی میں تبدیلی کے دوران طیارے پر مقررہ حد سے زیادہ قوتیں اثرانداز ہوئیں۔ کمپنی نے ایئر انڈیا سے طیارے کا معائنہ کرنے کو کہا ہے تاکہ اچانک حرکت کے باعث ممکنہ ساختی نقصان کا پتا چلایا جاسکے۔

طیارہ ساز کمپنی نے ایئر انڈیا سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہائیڈرولک نظام کی کی جانے والی مرمت اور دیکھ بھال کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، جبکہ تحقیقات جاری رکھتے ہوئے پائلٹوں سے واقعے کی مزید تفصیلی روداد بھی مانگی ہے۔

ایئر انڈیا نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ ایئربس نے جاری تحقیقات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فضائی حادثات کی تحقیقات سے متعلق بین الاقوامی قواعد کے تحت متعلقہ حکام کو تکنیکی معاونت فراہم کررہی ہے۔

سنگین واقعہ

ایئر انڈیا نے ابتدا میں اس واقعے کو شدید فضائی ہچکولوں کا نتیجہ قرار دیا تھا، تاہم بعد کے بیان میں اس وضاحت کو ہٹا دیا اور کہا کہ طیارے کی بلندی میں اچانک کمی واقع ہوئی تھی۔

بھارتی حکام نے اسے سنگین فضائی واقعہ قرار دیا ہے، جبکہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو اس کی تحقیقات کررہا ہے۔ ایئربس اور فرانس کے بی ای اے کی جانب سے تکنیکی معاونت بھی فراہم کی جارہی ہے۔

معاملے سے واقف ایک ذریعے کے مطابق پرواز کے کپتان کے منشیات کے تصدیقی ٹیسٹ میں چرس کے استعمال کی تصدیق ہوئی۔ تاہم اب تک اس ٹیسٹ کے نتیجے اور طیارے کی بلندی میں کمی کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔ ایئر انڈیا نے جمعرات کو تمام پائلٹوں کے لیے لازمی طور پر منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیا کے استعمال کی جانچ شروع کردی، جس کی اطلاع ایک داخلی مراسلے کے ذریعے دی گئی۔

یہ واقعہ ایئر انڈیا کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے، جبکہ سابق ایتھوپین ایئرلائنز کے سربراہ ٹیوولڈے گیبریئریم بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر ذمہ داریاں سنبھالنے کی تیاری کررہے ہیں۔

ٹاٹا گروپ کے زیرِ انتظام ایئر انڈیا بھاری مالی خسارے، بڑھتی ہوئی حفاظتی اور ریگولیٹری نگرانی سے نمٹتے ہوئے اپنے کاروبار کی بحالی کی کوشش کررہی ہے۔ جون 2025ء میں بھارت کے شہر احمدآباد میں اس کے ایک بوئنگ 787 طیارے کے حادثے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد کمپنی کو مزید سخت حفاظتی اور ریگولیٹری جانچ کا سامنا ہے۔

سنگاپور ایئرلائنز کے پاس بھی ایئر انڈیا کے تقریباً 25 فیصد حصص ہیں۔