پاکستان

یومِ آزادی کے موقع پر یادگارِ فتح کا افتتاح

  • تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شرکت
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے ’’درست راستہ اختیار نہ کیا‘‘ تو پاکستان براہِ راست جواب دے گا، جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کا ہر قطرہ ریڈ لائن ہے۔

وزیراعظم نے یومِ آزادی کے موقع پر اسلام آباد میں یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اس کی تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے کہا، ’’بھارت کو درست راستے پر آنا ہوگا، بصورتِ دیگر اسے براہِ راست جواب دیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پانی کا ہر قطرہ ریڈ لائن ہے۔

وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کو معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ یادگارِ فتح پاکستان کی مسلح افواج کی برتری کی علامت اور ان کی کارکردگی پر قوم کے فخر کی عکاس ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے، اور امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں اسلام آباد کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ بھی اس معاہدے کا حصہ بن گیا ہے، جسے انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اسلام آباد کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔

وزیراعظم نے افغان حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

قبل ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلام آباد میں یادگارِ فتح کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔

تقریب میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز اور پولیس کے دستوں نے شرکت کی، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے پولیس دستے بھی شریک ہوئے۔

تقریب میں اعلیٰ سول و عسکری حکام، وفاقی وزرا، سروسز چیفس، غیر ملکی سفارت کاروں، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور صوبائی گورنروں سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔