دنیا

حوثی حملوں کے خطرے میں اضافے کے باعث سعودی عرب کی بحیرۂ احمر سے تیل برآمدات ’غائب‘

  • نام نہاد ’ڈارک وائیجز‘ کے بڑھتے رجحان کے باعث سعودی عرب کی تیل برآمدات کی صورتحال واضح نہیں رہی
شائع اپ ڈیٹ

یمن کے حوثیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے تیل بردار جہازوں کی جانب سے ٹریکنگ سگنلز بند کیے جانے کے باعث بحیرۂ احمر سے سعودی خام تیل کی برآمدات کی نگرانی مشکل ہوتی جا رہی ہے، تجزیہ کاروں کے مطابق ینبع سے حالیہ تمام تیل کی ترسیل ’ڈارک‘ یعنی ٹریکنگ نظام بند رکھ کر کی گئی ہے۔

حوثیوں نے 20 جولائی کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس سے ایران کی جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک نیا محاذ کھل گیا۔

اس کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب سے منسلک تیل بردار جہازوں، ینبع کی تیل تنصیبات اور حال ہی میں بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع جازان ریفائنری پر حملوں کا دعویٰ کیا، جس کے باعث مزید جہازوں نے اپنی نقل و حرکت سے متعلق عوامی طور پر دستیاب ٹریکنگ ڈیٹا بند کردیا ہے۔

نام نہاد ’ڈارک وائیجز‘ کے بڑھتے رجحان نے سعودی تیل کی برآمدات کی صورتحال کو غیر واضح کردیا ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کہ حوثیوں کے خطرات سعودی خام تیل کی ترسیل کو کس حد تک متاثر کر رہے ہیں۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنیوں نے سعودی تیل کی برآمدات کے حوالے سے ایک دوسرے سے خاصے مختلف تخمینے پیش کیے ہیں۔ یہ اعداد و شمار عالمی تیل کی رسد کا جائزہ لینے اور مارکیٹ کے رجحانات کی پیش گوئی کے لیے عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، اوپیک اور تیل کے تاجروں کی جانب سے استعمال کیے جاتے ہیں۔

3 اگست سے شروع ہونے والے ہفتے کے دوران ڈیٹا اینالیٹکس فرم وورٹیکسا کے مطابق ینبع سے تیل کی یومیہ ترسیل گزشتہ ہفتے کے 27 لاکھ 10 ہزار بیرل کے مقابلے میں کم ہوکر 23 لاکھ 80 ہزار بیرل رہ گئی۔ کپلر نے اس سے کہیں زیادہ نمایاں کمی کا تخمینہ لگاتے ہوئے ترسیل 40 لاکھ 40 ہزار بیرل یومیہ سے کم ہوکر 17 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ رہنے کی پیش گوئی کی، جبکہ اے ایکس ایس میرین نے اس کے برعکس یومیہ ترسیل تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار بیرل سے بڑھ کر 8 لاکھ 50 ہزار بیرل ہونے کا تخمینہ لگایا۔

سعودی آرامکو نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

’ڈارک‘ انداز میں ترسیل

تیل کی ترسیل پر نظر رکھنے والے ادارے اس وقت جہازوں کی نقل و حرکت کا اندازہ اس وقت لگاتے ہیں جب کوئی جہاز خطرناک علاقے سے نکلنے کے بعد دوبارہ ٹریکنگ سسٹم پر ظاہر ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا سے جہاز کی نقل و حرکت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ ٹریکنگ میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کیا جاسکے۔

وورٹیکسا کے تجزیہ کار جارج مورس نے کہا، ’’گزشتہ ہفتے ینبع سے تیل کی تمام ترسیل ’ڈارک‘ انداز میں ہوئی۔ اس وقت ہمیں خودکار شناختی نظام (اے آئی ایس) کے ذریعے ٹریک ہونے والی کوئی ترسیل نظر نہیں آ رہی۔‘‘

کپلر کی تجزیہ کار نھ وے کھن سو نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے مغربی ساحل سے ہونے والی تیل کی تقریباً 70 فیصد ترسیل ’ڈارک‘ رہی، جبکہ 23 جولائی کے بعد ینبع سے لوڈ کیے گئے تمام کارگوز ایسے جہازوں کے ذریعے روانہ کیے گئے جن کی اے آئی ایس کوریج مسلسل دستیاب نہیں تھی۔

بحیرۂ احمر کے جنوبی سرے پر واقع باب المندب آبنائے سے بحری جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی تجارتی جہاز رانی پر حوثیوں کے دو سال سے جاری وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں سے متاثر تھی۔ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے اس آبی گزرگاہ سے اوسطاً روزانہ 32 جہاز گزرے، جبکہ حوثیوں کی جانب سے حالیہ ناکہ بندی کے اعلان سے قبل یہ تعداد تقریباً 50 جہاز یومیہ تھی۔

جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب بحیرۂ احمر کے راستے مزید تیل شمال کی جانب بھیج رہا ہے، جس کے لیے نہر سویز یا مصر کی سُمیڈ پائپ لائن استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ پائپ لائن بحیرۂ احمر پر واقع عین سخنہ کو بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع سیدی کریر سے ملاتی ہے۔

وورٹیکسا کے تجزیہ کار جارج مورس کے مطابق گزشتہ ہفتے سیدی کریر پر خام تیل اور کنڈینسیٹ کی یومیہ ترسیل ریکارڈ 21 لاکھ 70 ہزار بیرل رہی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے، جبکہ مجموعی ترسیل کا تقریباً 90 فیصد سعودی خام تیل پر مشتمل تھا۔

گزشتہ چند روز کے دوران جنگی خطرے کے انشورنس کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آئل ٹینکر کمپنیاں بھی اپنی بحری راستوں سے متعلق حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں۔

بڑی ٹینکر آپریٹر کمپنی ڈی ایچ ٹی اس سے قبل تیل لادنے کے بعد باب المندب کے راستے بحیرۂ احمر سے نکلتی تھی۔

ڈی ایچ ٹی کے چیف ایگزیکٹو سوین موکسنز ہارفیلڈ نے گزشتہ ہفتے کمپنی کی آمدنی سے متعلق کانفرنس کال میں کہا، ’’حال ہی میں یہ کچھ زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ اب زیادہ تر وی ایل سی سی (بڑے خام تیل بردار ٹینکرز) کی ترسیل، صرف ہماری نہیں بلکہ مجموعی طور پر، شمال اور شمال مغرب کی جانب منتقل کردی گئی ہے۔‘‘