دنیا

اسپین اور آئس لینڈ میں مکمل سورج گرہن، لاکھوں افراد نایاب منظر دیکھنے کو بے تاب

  • ماہرین کے مطابق مکمل سورج گرہن کے دوران چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

اسپین اور آئس لینڈ میں بدھ کے روز لاکھوں افراد نایاب فلکیاتی مظہر مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔ لوگ خصوصی حفاظتی چشمے ساتھ لے کر ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں گرہن مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا۔

ماہرین کے مطابق مکمل سورج گرہن کے دوران چاند زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے، جس سے دن کے وقت چند لمحوں کے لیے اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اس دوران ماحول میں شام جیسا منظر پیدا ہو جاتا ہے اور بعض جانور بھی غیر معمولی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

اسپین کے سیکریٹری برائے سائنس خوان کروز نے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی لمحہ ہے اور امید ہے کہ یہ نوجوان نسل میں فلکیات سے دلچسپی کو فروغ دے گا۔ حکام کے مطابق شمالی اسپین اور بیلیئرک جزائر میں گرہن کے راستے پر واقع زیادہ تر دیہی علاقوں میں 60 لاکھ تک افراد کی آمد متوقع ہے۔

اسپین میں سورج گرہن کے فوراً بعد غروبِ آفتاب ہوگا، جس سے یہ منظر مزید دلکش بن جائے گا۔ تاہم چونکہ یہ جنگلاتی آگ کے خطرات کے موسم میں پیش آ رہا ہے، اس لیے حکومت نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات، خصوصی پولیس تعیناتی اور عوامی آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ حکومت اسے کم معروف علاقوں میں سیاحت کے فروغ اور ساحلی علاقوں پر سیاحوں کا دباؤ کم کرنے کا موقع بھی قرار دے رہی ہے۔

دوسری جانب آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک میں گرہن دیکھنے کے لیے خصوصی چشمے کئی روز پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ تقریباً چار لاکھ آبادی والے اس ملک میں 80 ہزار تک سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ حکام نے شدید ٹریفک کے خدشے کے پیش نظر لوگوں کو جلد روانہ ہونے کی ہدایت کی ہے۔

امریکی خلائی ادارہ ناسا بھی اس موقع پر خصوصی فضائی مشن چلائے گا۔ ناسا ایک بلند پرواز کرنے والے طیارے اور تحقیقاتی غباروں کے ذریعے سورج گرہن کے دوران فضا میں درجہ حرارت اور دیگر موسمی تبدیلیوں کا جائزہ لے گا۔

اس نایاب فلکیاتی مظہر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آنے والے ایکلپس چیزرز (گرہن کے شوقین افراد) بھی اسپین اور آئس لینڈ پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ مکمل سورج گرہن کے یادگار مناظر کو اپنے کیمروں میں محفوظ کریں گے۔