شرح سود میں کمی، جولائی کے دوران کاروں کی فروخت 141 فیصد بڑھ گئی
- گزشتہ ماہ کاروں کی فروخت 17,216 یونٹس ریکارڈ کی گئی
رواں مالی سال کے پہلے ماہ (جولائی ) کے دوران کاروں کی فروخت میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 141 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس نمایاں اضافے کی وجہ بینکوں کی لیزنگ پالیسیوں میں نرمی اور شرح سود میں کمی کو قرار دیا۔
جولائی 2026 میں کاروں کی فروخت 17,216 یونٹس رہی جب کہ جولائی 2025 میں 7,135 یونٹس فروخت ہوئی تھیں۔
اس دوران جیپس اور پک اپس کی فروخت 33 فیصد کمی کے ساتھ 2,602 یونٹس رہی، جبکہ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت بالترتیب 169 فیصد اضافے سے 854 یونٹس اور 14 فیصد اضافے سے 65 یونٹس ہو گئی۔
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موٹر سائیکلوں اور رکشوں سمیت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت 40.7 فیصد اضافے سے 177,089 یونٹس ہوگئی۔
مزید برآں، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں زرعی ٹریکٹرز کی فروخت 4 فیصد اضافے سے 1,242 یونٹس ہوگئی جو کئی ماہ کی مسلسل کمی کے بعد بہتری کی علامت ہے۔ اس معمولی بحالی کی وجہ کاشتکاروں کی معاشی صورتحال میں بہتری کو قرار دیا گیا ہے جس کے باعث وہ زرعی مشینری میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی دیے۔ گزشتہ مالی سال ٹریکٹرز کی فروخت میں مجموعی طور پر کمی کا رجحان رہا تھا۔
آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار مسعود خان نے کہا کہ نسبتاً محدود حجم کے باوجود کاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے جو رواں مالی سال کے لیے ایک مثبت آغاز ہے۔ انہوں نے فروخت میں اضافے کی ایک وجہ بینکوں کی لیزنگ پالیسیوں میں بہتری اور شرح سود میں کمی کو قرار دیا جس سے صارفین کے لیے گاڑیوں کی فنانسنگ زیادہ پرکشش ہوگئی ہے۔
27 جولائی کو اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے پہلے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ایک اور ماہر صابر شیخ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی ٹریکٹر اسکیم کسانوں کو کچھ ریلیف فراہم کررہی ہے جس سے ٹریکٹرز کی فروخت میں اضافے میں مدد ملی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیپوں کی فروخت میں کمی کی ایک وجہ مارکیٹ میں ایس یو وی ماڈلز کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ہے جس کے باعث روایتی جیپوں کی طلب متاثر ہوئی ہے۔
مسعود خان نے گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی مقامی سطح پر تیاری کو مزید فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔