پاکستان

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی ہم منصب کی علاقائی صورتحال اور مکہ دفاعی معاہدے پر گفتگو

  • فریقین کا باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق
شائع اپ ڈیٹ

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں فریقین نے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال، بالخصوص خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے عباس عراقچی کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں دستخط ہونے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے خُدوخال سے آگاہ کیا۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط کرنا اور خطے کے امن و سیکیورٹی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

عباس عراقچی نے معاہدے کے اہم پہلوؤں سے آگاہ کرنے پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر بھی اتفاق کیا۔

یہ ٹیلیفونک رابطہ اسحاق ڈار، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کے چند دن بعد سامنے آیا ہے، جسے پاکستان نے دفاعی نوعیت کا اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے قرار دیا ہے۔

اس سے قبل دن کے وقت وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران کے پاس یہ تشویش ظاہر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان نیا سیکیورٹی معاہدہ تہران کے خلاف ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ معاہدہ سیکیورٹی کے معاملے پر علاقائی ممالک کے نقطہ نظر میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جو بیرونی طاقتوں کے بجائے اب اپنی صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

انہوں نے اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی منصوبہ جو خطے کی جغرافیائی سیاسی اور تاریخی حقائق پر مبنی ہو، جامع اور شمولیت کا حامل ہو اور دشمن اور خطرے کی درست نشاندہی کرے، اس میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور صیہونی دشمن اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے غیر استحکام اور غبن کو روکنے میں مدد دینے کا موقع ہوتا ہے۔