کاروبار اور معیشت

بحری صنعت میں جدت کا انحصار اسٹریٹجک سرمایہ کاری پر

  • بحری صنعت اور بلیو ایکانومی کی بہتری کے لیے حکمت عملی کی سرمایہ کاری لازمی قرار
شائع اپ ڈیٹ

معاشی و مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کی بحری صنعت کی جدید کاری اور بلیو ایکانومی کی توسیع کا تمام تر انحصار پورٹ انفرااسٹرکچر میں حکمت عملی کی سرمایہ کاری پر ہے، جسے ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔

پورٹ پر بھیڑ اور تاخیر کو کم کرنے کے لیے انہوں نے ملک بھر میں منی ڈیپ سی پورٹس کی تعمیر کی تجویز دی، جنہیں قومی لاجسٹکس گریڈ سے منسلک کرکے تجارتی کارکردگی بڑھائی جا سکتی ہے۔ عتیق الرحمن کے مطابق یہ بندرگاہیں علاقائی معیشت کو تقویت دینے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے وزیر امور بحریہ محمد جنید انوار چوہدری کی جانب سے تین نئی ڈیپ سی پورٹس کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے قیام اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی کیٹی بندر پر پورٹ و فش ہاربر کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بندرگاہوں کی صلاحیت میں اضافے، باہمی تعاون اور برائے راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ نجی شعبے کی شمولیت معاشی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔