سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا کینسر پھیل گیا، شدید تکلیف میں ہیں، بیٹے کا انکشاف
- کینسر ہڈیوں اور اس سے آگے تک پھیل چکا ہے، جو انتہائی تکلیف دہ اور کئی حوالوں سے کمزور کردینے والا ہے،ہنٹر بائیڈن
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے پروسٹیٹ کینسر کی بیماری ہڈیوں سے آگے بھی پھیل گئی ہے اور انہیں شدید تکلیف کا سامنا ہے۔ ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ انکشاف کیا۔
ہنٹر بائیڈن نے کہا کہ کینسر ہڈیوں اور اس سے آگے تک پھیل چکا ہے، جو انتہائی تکلیف دہ اور کئی حوالوں سے کمزور کردینے والا ہے۔
83 سالہ سابق صدر کے ترجمان نے ہفتے کو ہنٹر بائیڈن کے انٹرویو پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
جو بائیڈن نے مئی 2025 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے تقریباً چار ماہ بعد انکشاف کیا تھا کہ انہیں پروسٹیٹ کینسر کی ایک جارحانہ قسم کی تشخیص ہوئی ہے اور اس وقت بتایا گیا تھا کہ بیماری ان کی ہڈیوں تک پھیل چکی ہے۔ بعد ازاں ان کے ترجمان نے بتایا کہ وہ ریڈی ایشن تھراپی اور ہارمون تھراپی کرا رہے ہیں۔
بائیڈن 2020 میں امریکی صدر منتخب ہونے والے اس وقت کے معمر ترین شخص تھے۔ 2021 سے 2025 تک ان کی صدارت کے دوران ان کی جسمانی صحت اور ذہنی صلاحیت بھی مسلسل توجہ کا مرکز رہی۔
اس کے باوجود بائیڈن عوامی سرگرمیوں میں شریک رہے اور جون میں شکاگو میں سابق صدر باراک اوباما کی صدارتی لائبریری کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔ بائیڈن 2009 سے 2017 تک اوباما کے نائب صدر رہے۔
بائیڈن کی صدارتی یادداشتوں پر مبنی کتاب 17 نومبر کو جاری ہونے والی ہے۔