پاکستان نیوزی لینڈ کے درمیان اہم سیاسی و تجارتی مذاکرات
- پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ تجارت کے سیکریٹری جواد پال خواجہ نے کی، جبکہ نیوزی لینڈ کے وفد کی قیادت گراہم مورٹن نے کی
پاکستان اور نیوزی لینڈ نے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا ہے، جس میں زراعت، لائیو اسٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم اور خدمات کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتے کو جاری بیان میں بتایا کہ دونوں ممالک نے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر غور کیا، جس میں اون کی پیداوار اور پودوں کے تحفظ کے حوالے سے تکنیکی تعاون کے امکانات کا جائزہ بھی شامل تھا۔
پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچویں دور کے سیاسی مشاورتی اجلاس اور پاکستان-نیوزی لینڈ مشترکہ تجارتی کمیٹی (جے ٹی سی) کے تیسرے اجلاس 6 اگست 2026 کو ویلنگٹن میں منعقد ہوئے، جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ تجارت کے سیکریٹری جواد پال خواجہ نے کی، جبکہ نیوزی لینڈ کے وفد کی قیادت گراہم مورٹن نے کی۔
اجلاس میں اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی مشاورتی اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ برائے ایشیا پیسیفک سفیر ڈاکٹر سید علی اسد گیلانی اور نیوزی لینڈ کی وزارتِ خارجہ و تجارت کے ڈپٹی سیکریٹری برائے امریکا و ایشیا گروپ گراہم مورٹن نے کی۔
اجلاس کے دوران دونوں فریقوں نے باہمی تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور اعلیٰ سطحی روابط، اقتصادی ترقی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، انسدادِ دہشت گردی، بین الاقوامی جرائم اور عوامی روابط سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
وفود نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا۔ سفیر گیلانی نے نیوزی لینڈ کے فریق کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں، جنوبی ایشیا کی صورتحال، بالخصوص مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔ ڈپٹی سیکریٹری مورٹن نے مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔
اجلاس کا ایک اہم نتیجہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تعلیمی تعاون کے معاہدے پر دستخط تھے، جس سے تعلیم کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید گہرا ہونے کی توقع ہے۔
مجموعی طور پر ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے، شراکت داری کے نئے شعبوں کی نشاندہی کرنے اور مستقبل پر مبنی باہمی مفاد پر مبنی تعلقات کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026