ایس ای سی پی کا 44 کروڑ 66 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ پر بلنک کیپیٹل مینجمنٹ کا کیس ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ
- بلنک کیپیٹل مینجمنٹ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج لمیٹڈ کا لائسنس یافتہ فیوچرز بروکر اور مارکیٹ میکر تھا
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بلنک کیپیٹل مینجمنٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے 44 کروڑ 66 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کیس کو مزید تحقیقات اور قانون کے تحت کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوا دیا ہے۔ ایس ای سی پی نے ہفتے کو جاری بیان میں یہ بات بتائی ہے۔
بلنک کیپیٹل مینجمنٹ پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج لمیٹڈ (پی ایم ای ایکس) کا لائسنس یافتہ فیوچرز بروکر اور مارکیٹ میکر تھا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مقررہ منافع اور اصل رقم کی یقینی واپسی کے وعدوں پر غیر مجاز طور پر رقوم جمع کرنے کی شکایات کے بعد ایس ای سی پی نے فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 کی دفعہ 83 کے تحت تحقیقات شروع کیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق، 35 شکایت کنندگان نے مجموعی طور پر 44 کروڑ 66 لاکھ 64 ہزار روپے کے دعوے دائر کیے۔ 29 شکایت کنندگان سے متعلق 40 کروڑ 86 لاکھ روپے کی تفصیلی مالیاتی ٹریل سے ظاہر ہوا کہ بڑی رقوم بلنک، اس کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ڈائریکٹر کے اکاؤنٹس کے علاوہ بعض ملازمین اور متعلقہ افراد سے منسلک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ بیان کے مطابق خطیر رقوم نقد بھی نکلوائی گئیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سرمایہ کاروں نے ایسے معاہدے کیے تھے جن میں ماہانہ 3.7 فیصد سے سالانہ 48 فیصد تک طے شدہ منافع کی پیشکش کی گئی تھی، جبکہ ضمانت کے طور پر بعد از تاریخ چیکس بھی جاری کیے گئے تھے۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بلنک مبینہ طور پر پونزی طرز کی ایک فراڈ پر مبنی سرمایہ کاری اسکیم چلا رہا تھا، جس میں غیر قانونی طور پر رقوم جمع کی گئیں اور لائسنس یافتہ سرگرمیوں کے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے یقینی منافع کی پیشکش کی گئی۔
تحقیقات میں کمپنیز ایکٹ 2017، فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016 اور فیوچرز بروکرز (لائسنسنگ اینڈ آپریشنز) ریگولیشنز 2018 کی ممکنہ خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔
ایس ای سی پی نے کہا، ’’تحقیقات کے نتائج کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن نے سرمایہ کاروں کی شکایات کے ازالے اور مزید تحقیقات کے لیے معاملہ ایس ای سی پی ایکٹ 1997 کی دفعہ 41 بی کے تحت ایف آئی اے کو بھجوانے کی منظوری دی ہے۔‘‘
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد صدیقی نے کہا کہ کمیشن مارکیٹ میں بدعنوانی، ہیرا پھیری اور سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کے لیے اپنے ریگولیٹڈ درجے کا غلط استعمال کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
ایس ای سی پی کے بیان میں ان کے حوالے سے کہا گیا، ’’سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ ایس ای سی پی مارکیٹ یا سرمایہ کاروں کے اعتماد کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا اور سرمایہ کاروں کے تحفظ اور مارکیٹ کی شفافیت برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری ریگولیٹری اور قانونی اقدامات کرے گا۔‘‘
ایس ای سی پی نے عوام کو غیر مجاز سرمایہ کاری اسکیموں سے محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے خاص طور پر مقررہ یا یقینی منافع کی پیشکش کرنے والی اسکیموں سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔