✕

کئی روز کی تیزی کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق خدشات کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس جمعہ کو 300 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔

کاروباری دن کا آغاز کمزور رجحان کے ساتھ ہوا اور کے ایس ای 100 انڈیکس تیزی سے گر کر 180,620.08 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے ابتدائی فروخت کے دباؤ کی عکاسی ہوئی۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد خریداری میں دلچسپی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے بحالی کا رجحان اختیار کیا اور مختصر وقت کے لیے مثبت زون میں بھی داخل ہو گیا، جہاں اس نے 181,647.27 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح چھوئی۔

دوپہر تک مارکیٹ نسبتاً محدود دائرے میں کاروبار کرتی رہی، تاہم کاروبار کے آخری اوقات میں فروخت کی ایک اور لہر نے انڈیکس کو دوبارہ 180,620.08 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح کے قریب پہنچا دیا۔

بعد ازاں کاروبار کے اختتامی مرحلے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے ایک بار پھر بحالی حاصل کی اور اپنے بیشتر نقصانات کا ازالہ کر لیا، تاہم منفی زون سے باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 346.57 پوائنٹس، یا 0.19 فیصد کمی کے بعد 181,430.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارکیٹ میں منفی رجحان کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ تھا، جس نے سرمایہ کاروں کو ویک اینڈ سے قبل اپنے منافع کو محفوظ (پرافٹ بکنگ) کرنے پر مجبور کیا۔

ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کے اہم حصص میں اينگرو ہولڈنگز، یو بی ایل، ایم سی بی، اینگرو فرٹیلائزرز اور فاطمہ فرٹیلائزر شامل تھے جنہوں نے بالترتیب منفی کردار ادا کرتے ہوئے بنچ مارک انڈیکس سے مجموعی طور پر 331 پوائنٹس کم کیے۔

ہفتہ وار بنیادوں پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ٹاپ لائن نے مزید کہا کہ اس اضافے کی وجہ ان توقعات اور امید کو قرار دیا جا سکتا ہے کہ امریکہ، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ترسیلات کے حوالے سے 60 روز ہ معاہدے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

ایک اہم پیش رفت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جمعرات کو جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی، خام تیل کی قیمتوں میں استحکام اور ادارہ جاتی سطح پر دوبارہ خریداری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا جس سے اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,761.66 پوائنٹس یا 0.98 فیصد کے اضافے سے 181,776.60 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر ایشیائی شیئرز مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے انتظار میں محتاط رویہ دیکھا گیا جو فیڈرل ریزرو کی جانب سے اگلے ماہ شرحِ سود سے متعلق آنے والے فیصلے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس بات کی یاد دہانی کروا رہی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے حصص پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس تقریباً مستحکم رہا تاہم ہفتے کے دوران اس میں 0.4 فیصد کمی ہوئی۔ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.9 فیصد گر گیا اگرچہ ہفتہ وار بنیاد پر اس میں 1.2 فیصد اضافے کی توقع تھی۔

جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا اور اے آئی سے وابستہ چپ اسٹاکز کی زبردست مانگ کے باعث سال کی پہلی ششماہی میں دگنا ہونے والا یہ انڈیکس مسلسل ساتویں ہفتے کمی کے ساتھ ہفتہ وار بنیادوں پر 5.0 فیصد نیچے آگیا۔ چین کا سی ایس آئی 300 انڈیکس 0.2 فیصد بڑھ گیا۔

مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ہونے والی تیزی کے پائیدار ہونے کے خدشات کی وجہ سے پیدا ہونے والی اتار چڑھاؤ کی لہروں کے بعد اب سرمایہ کاروں کی پوری توجہ آج دن کے آخر میں آنے والی امریکی پے رول (اجرتوں) کی رپورٹ پر مرکوز ہے جو شرح سود کے مستقبل کے منظر نامے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ پیشگوئیوں کے مطابق جون میں 57 ہزار نوکریوں کے اضافے کے بعد جولائی میں 80 ہزار نئی نوکریوں کا اضافہ متوقع ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد پر مستحکم رہنے کی توقع ہے۔

صورتحال انتہائی کشیدہ ہے کیونکہ مارکیٹس اس بات پر فیصلہ نہیں کر پارہیں کہ اگلے ماہ فیڈرل ریزرو کا اگلا قدم کیا ہوگا اور شرح سود میں اضافے کے امکانات بالکل برابر یعنی ٹاس جیسی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔

دوسری جانب جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انٹربینک مارکیٹ میں مقامی کرنسی 1 پیسے کے اضافے کے ساتھ 277.71 روپے پر بند ہوئی۔

آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم (والیوم) گزشتہ سیشن کے 793.35 ملین شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 716.04 ملین شیئرز رہ گیا۔ شیئرز کی مجموعی مالیاتی قدر بھی گزشتہ سیشن کے 40.31 ارب روپے سے گر کر 34.10 ارب روپے پر آ گئی۔

سنرجیکو پی کے 161.18 ملین شیئرز کے ساتھ والیوم لیڈر رہا، جبکہ بینک آف پنجاب 52.33 ملین شیئرز اور وصل موبائلٹی موڈاربہ 24.22 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

جمعہ کو کل 492 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 207 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 260 میں کمی جبکہ 25 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہیں۔