ربا سے پاک بینکاری نظام کی جانب پیشرفت جاری ہے، گورنر اسٹیٹ بینک
- حکومت بینکاری شعبے کے لیے 2027 کے بعد کی حکمتِ عملی پہلے ہی وضع کرچکی ہے، جمیل احمد
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ربا سے پاک مالیاتی نظام کی جانب مسلسل پیش رفت کررہا ہے جب کہ حکومت 2027 کے بعد مکمل شرعی اصولوں کے مطابق بینکاری نظام کے قیام کیلئے روڈ میپ پہلے ہی پیش کرچکی ہے۔
سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ چوتھی نیشنل اسلامک اکنامک فورم کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے بینکاری نظام کو مکمل شرعی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ربا سے پاک مالیاتی نظام کے مقصد کے حصول کے لیے اپنے ریگولیٹری فریم ورک کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے اور حکومت کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اپنے قیام سے ہی ملک کے بینکاری نظام کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اب اس منتقلی کو سہل بنانے کے لیے اپنے ضابطہ جاتی فریم ورک کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھال رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بینکاری شعبے کے لیے 2027 کے بعد کی حکمتِ عملی پہلے ہی وضع کرچکی ہے جب کہ اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری کے روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں اسلامی مالیات کے کامیاب فروغ کے لیے بینکاروں اور شریعہ اسکالرز کی استعداد کار بڑھانا ناگزیر ہے۔ اسٹیٹ بینک ملک بھر میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے جامعات اور دینی مدارس کے تعاون سے آگاہی اور تربیت کے متعدد پروگرامز منعقد کررہا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے شرکاء سے عملی سفارشات مرتب کرنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اسٹیٹ بینک شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کے لیے اسلامی بینکاری کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔
حالیہ پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ 16 اپریل 2026 کو ہائبرڈ سکوک انسٹرومنٹس متعارف کرائے گئے جبکہ اسٹیٹ بینک نے مختصر مدتی سکوک کا فریم ورک بھی منظور کرلیا ہے جس کے تحت اسلامی بینکوں کو ٹریژری بلز کے متبادل کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026