کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان جاری، 100 انڈیکس میں 2,300 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

  • صبح 9:40 بجے بینچ مارک انڈیکس 178,466.25 پوائنٹس پرجاپہنچا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو خریداری کا رجحان جاری ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے سے گریز کے بعد امن کی امیدیں دوبارہ بحال ہوئیں۔ پیر کو کاروبار کے ابتدائی منٹوں کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,300 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

صبح 9:40 بجے بینچ مارک انڈیکس 2,372.14 پوائنٹس یا 1.35 فیصد اضافے سے 178,466.25 پوائنٹس پرجاپہنچا۔

خریداری کا رجحان کمرشل بینک، سیمنٹ، آئل و گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں میں دیکھا گیا۔ اوجی ڈی سی ایل، پی ایس او، این بی پی، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور پی ایس او بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست بحالی ہوئی اور مارکیٹ مسلسل تین ہفتوں کی گراوٹ کا سلسلہ توڑنے میں کامیاب رہی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری پیدا کی۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 9 فیصد کمی کے بعد 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آنے سے سرمایہ کاروں کی رسک لینے کی صلاحیت مزید بڑھی جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس نے ایک ہفتے کے دوران 5,000 سے زائد پوائنٹس کی ریکوری کی۔

ہفتہ وار مارکیٹ رپورٹ کے مطابق بینچ مارک 100 انڈیکس 5,072.93 پوائنٹس اضافے سے 176,094.13 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدیں بڑھنے کے باعث پیر کو تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جب کہ اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ دوسری جانب امریکی اور جاپانی حکام کی جانب سے کمزور ین کو سہارا دینے کے لیے مشترکہ مداخلت کی تصدیق کے بعد ین کی قدر میں اچانک تیزی آگئی۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 6 فیصد سے زائد گر کر 82.41 ڈالر فی بیرل ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کو ہوں گے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے ایران پر فوری حملہ مؤخر کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تہران کی جوہری صلاحیتوں سے متعلق تعطل ختم کرنے کے لیے معاہدے کی کوشش کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.4 فیصد جبکہ نیس ڈیک کے فیوچرز میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم جاپان کا نکیئی انڈیکس ایک فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3.6 فیصد گر گیا۔ جولائی کے دوران کوسپی میں 22 فیصد کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس بھی ابتدائی کاروبار میں ایک فیصد نیچے آگیا۔