پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران اب محض ایک زرعی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ بار بار عائد ہونے والے معاشی نقصان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے اندازے کے مطابق کپاس کی پیداوار اپنی بلند ترین سطح پر تقریباً 14 ملین گانٹھوں سے کم ہو کر رواں سال صرف 6.85 ملین گانٹھیں رہ گئی ہے جس کے باعث اضافی درآمدات اور برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت میں ملکی معیشت کو سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی یا سرمایہ کاری کی کمی کے بجائے ضابطہ جاتی تاخیر اور پالیسی سازی میں عدم تسلسل بڑی رکاوٹیں بن چکے ہیں جو زراعت کو اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی کرنے سے روک رہے ہیں۔
اس نتیجے پر محض اعداد و شمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ پاکستان کو ہمیشہ سے زراعت کے شعبے میں قدرتی تقابلی برتری حاصل رہی ہے۔
زرخیز زمین، دنیا کے سب سے بڑے مسلسل آبپاشی کے نظاموں میں سے ایک اور نسل در نسل کاشت کاری کا تجربہ یہ سب عوامل زراعت کو ملک کی سب سے بڑی مسابقتی طاقتوں میں شامل کرنے کے لیے کافی ہونے چاہییں تھے۔
اس کے برعکس یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے ناقص پالیسی سازی، بیوروکریٹک سستی اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کے ذریعے اس برتری کو مسلسل ایک ضائع شدہ موقع میں بدل دیا ہے۔ اس کا نتیجہ پورے شعبے میں واضح ہے لیکن کپاس کے معاملے میں یہ سب سے زیادہ نمایاں ہے۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ کپاس کی اہمیت صرف کھیتوں تک محدود نہیں۔
ٹیکسٹائل صنعت جو پاکستان کی برآمدی آمدن کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتی ہے، مقامی کپاس پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ ملکی پیداوار میں ہر کمی ٹیکسٹائل ملوں کو درآمد شدہ روئی پر مزید انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہے جس سے پہلے ہی کمزور زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اور ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کم ہوتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو مسلسل خاطر خواہ برآمدی آمدنی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اپنی سب سے اہم برآمدی صنعت کو خام مال فراہم کرنے والی سپلائی چین کو زوال کا شکار ہونے دینا معاشی انتظام میں ایک غیر معمولی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں مسئلے کی تشخیص نہایت واضح اور حقیقت پسندانہ انداز میں کی گئی ہے۔ موسمیاتی جھٹکوں اور کیڑوں کے حملوں نے بلاشبہ پیداوار میں کمی میں کردار ادا کیا ہے لیکن ناقص پالیسیوں نے اس نقصان کو مزید بڑھا دیا ہے۔
بہتر اقسام کے بیجوں کی منظوری میں تاخیر، بیجوں کا ناقص معیار، قابلِ اعتماد متبادل انتظامات کے بغیر کیڑے مار ادویات کے اجزا پر عائد کی گئی عمومی پابندیاں اور ضابطہ جاتی فیصلوں میں سست روی، ان تمام عوامل نے پیداواریت کو کم کردیا ہے، حالانکہ اس میں کمی کے بجائے بہتری آنی چاہیے تھی۔
بدقسمتی سے کپاس اس کی صرف ایک مثال ہے۔
رپورٹ میں مکئی، آلو، ڈیری اور تمباکو شعبوں میں بھی یہی صورتحال سامنے آتی ہے۔ پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ہائبرڈ مکئی کی ٹیکنالوجی، حالیہ قومی بایوٹیکنالوجی پالیسی کی منظوری کے باوجود عمل درآمد میں تاخیر کے باعث اب بھی رکی ہوئی ہے۔
آلو کی پیداوار بین الاقوامی معیار سے پیچھے ہے کیونکہ تصدیق شدہ پروسیسنگ بیج نایاب ہیں۔
پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن دودھ کا صرف ایک معمولی حصہ پراسیس کیا جاتا ہے جبکہ ناکافی کولڈ چین انفرااسٹرکچر کے باعث بڑی مقدار میں پیداوار صارفین تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہوجاتی ہے۔ یہ مختلف شعبے ہیں لیکن ان سب کو تقریباً ایک جیسی انتظامی ناکامیوں کا سامنا ہے۔
شاید سب سے زیادہ مایوس کن پہلو یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ناگزیر نہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سرمایہ کار پہلے ہی پاکستان میں جدید بیج ٹیکنالوجی، فصلوں کے تحفظ کی مصنوعات اور جدید زرعی تکنیک متعارف کرا چکے ہیں۔ مہارت موجود ہے۔
سرمایہ کاری کی خواہش موجود ہے۔ مواقع بھی یقیناً موجود ہیں لیکن جو چیز بار بار راہ میں حائل ہوتی ہے وہ سرکاری مشینری ہے جو بہت سست رفتاری سے کام کرتی ہے، ضوابط کا نفاذ غیر مستقل انداز میں کرتی ہے اور اکثر ایسی نظر آتی ہے جو اچھی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر ہے۔
یہ صورتحال صرف زراعت تک محدود نہیں۔ معیشت کے متعدد شعبوں میں حکومتوں نے درست اصلاحات کی نشاندہی تو کی لیکن ان پر عمل درآمد اس وقت تک مؤخر کرتی رہی ہیں جب تک بنیادی موقع ہی ہاتھ سے نکلنا شروع نہیں ہوجاتا۔
جیسا کہ او آئی سی سی آئی نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے، پالیسی کی سمت اکثر درست ہوتی ہے لیکن عمل درآمد کی رفتار بدستور ملک پر بھاری معاشی لاگت عائد کر رہی ہے۔
رپورٹ میں دی گئی سفارشات کوئی انقلابی نوعیت کی نہیں ہیں۔ بیجوں کی اقسام کی منظوری کے عمل کو تیز کرنا، کیڑے مار ادویات کے ضوابط کو قابلِ پیش گوئی بنانا، جعلی بیجوں کے خلاف مؤثر کارروائی، کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی اور چھوٹے کسانوں کے لیے قرضوں تک رسائی بہتر بنانا یہ سب عملی اصلاحات ہیں نہ کہ کوئی غیر معمولی تجربات۔
ان میں سے کسی کے لیے بھی ٹیکنالوجی میں کوئی بڑی پیش رفت درکار نہیں۔ ضرورت صرف انتظامی صلاحیت اور سیاسی عزم کی ہے۔
لہٰذا پاکستان میں زراعت کا زوال بنیادی طور پر اس بات کی کہانی نہیں کہ قدرت نے کسانوں کے خلاف رخ اختیار کر لیا ہے بلکہ یہ تیزی سے اس امر کی عکاسی کر رہا ہے کہ حکمرانی نے ملک کی عظیم ترین معاشی طاقتوں میں سے ایک کے خلاف رخ کر لیا ہے۔ او آئی سی سی آئی کی تازہ ترین رپورٹ کو ایک اور انتباہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
اب یہ تقریباً مکمل طور پر حکومت پر منحصر ہے کہ یہ رپورٹ بھی ایک ایسی دستاویز بن کر رہ جاتی ہے جسے مختصر طور پر تسلیم کرنے کے بعد فراموش کر دیا جاتا ہے، یا پھر آخرکار بامعنی اصلاحات کا باعث بنتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026