رائے

پنجاب کے ڈیجیٹل ٹیکس کا فریبِ نظر

  • پنجاب نے سپلائی چین کی حقیقی دستاویز سازی کے بجائے صرف آخری ڈیجیٹل ادائیگی پر ٹیکس عائد کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے؛ اس سے وقتی آمدن تو بڑھ سکتی ہے، مگر نہ حقیقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس نظام قائم ہوگا، نہ نقد کے بغیر معیشت کو فروغ ملے گا، بلکہ نقد معیشت اور ٹیکس چوری کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی۔
شائع اپ ڈیٹ

صوبہ پنجاب میں ریستورانوں اور دیگر سروس فراہم کرنے والوں سے ڈیجیٹل ذرائع سے وصول ہونے والی ادائیگیوں پر ٹیکس کے نئے نظام کو صارفین کے لیے ”50 فیصد ریلیف“ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تشہیر بظاہر پرکشش ضرور ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

نئے نظام کے تحت ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ، موبائل والٹ یا کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی پر سیلز ٹیکس کی شرح آٹھ فیصد مقرر کی گئی ہے، جبکہ دیگر ذرائع سے ادائیگی پر یہ شرح 16 فیصد رہے گی۔ تاہم جس حقیقت کو نمایاں نہیں کیا جا رہا، وہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر یہی شرح پہلے پانچ فیصد تھی، یعنی اسے کم نہیں بلکہ 60 فیصد بڑھایا گیا ہے۔

آٹھ فیصد شرح کو اس بنیاد پر رعایت قرار دینا کہ نقد ادائیگی پر 16 فیصد ٹیکس لاگو ہے، درحقیقت ٹیکس اصلاحات نہیں بلکہ مالیاتی تشہیر ہے۔

اصل مسئلہ صرف شرح میں اضافے کا نہیں بلکہ ٹیکس کے ڈھانچے کا بھی ہے۔ آٹھ فیصد ٹیکس واضح طور پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے بغیر عائد کیا گیا ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس نہیں بلکہ ریستورانی خدمات کی مجموعی مالیت پر ایک مرحلے میں وصول کیا جانے والا ٹیکس ہے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کا 2 جولائی 2026 کا متبادل نوٹیفکیشن نمبر PRA/Member Legal/816/26 اور 24 جولائی 2026 کی وضاحت قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان اقدامات کے تحت شیڈولڈ بینکوں، ادائیگی وصول کرنے والے اداروں، مائیکروفنانس بینکوں اور ادائیگی پراسیسرز کو محض ٹیکس وصول کنندہ نہیں بلکہ عملاً ٹیکس کا تعین کرنے والا ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مرچنٹ کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے سے پہلے ٹیکس منہا کریں اور اس کی سو فیصد رقم جمع کرائیں، البتہ کلبوں کے معاملے میں ٹیکس کی وصولی برابر حصوں میں وصول کنندہ ادارے اور سروس فراہم کنندہ کے درمیان تقسیم ہوگی۔

یہ طریقہ کار اگرچہ کارڈ کے ذریعے ہونے والی ادائیگی کو ریکارڈ کر لیتا ہے، مگر سپلائی چین کی دستاویز سازی نہیں کرتا۔ ریستوران کی سپلائی چین گوشت، آٹا، چاول، سبزیاں، خوردنی تیل، مشروبات، بجلی، کرایہ، آلات، پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ اور آؤٹ سورس خدمات سے شروع ہوتی ہے۔ حقیقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس ان تمام ان پٹس کو انوائس اور ٹیکس کریڈٹ کے نظام کے ذریعے حتمی فروخت سے جوڑتا ہے۔

او ای سی ڈی کے مطابق ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کاروباری خریدار کو اپنے سپلائر سے ٹیکس انوائس لینے کی ترغیب دیتا ہے، جس سے سپلائر کے لیے لین دین چھپانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح آئی ایم ایف بھی مختلف مراحل پر ٹیکس وصولی اور ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ کی بنیادی طاقت قرار دیتا ہے۔

پنجاب نے اسی بنیادی ترغیب کو ختم کر دیا ہے۔ جب ریستوران آٹھ فیصد ٹیکس ان پٹ ایڈجسٹمنٹ کے بغیر ادا کرے گا تو اس کے لیے رجسٹرڈ اور ٹیکس انوائس جاری کرنے والے سپلائر سے خریداری میں کوئی اضافی فائدہ باقی نہیں رہے گا۔ ان پٹ پر ادا کیا گیا ٹیکس اس کی لاگت کا مستقل حصہ بن جائے گا، جبکہ آؤٹ پٹ پر دوبارہ مجموعی وصولیوں پر ٹیکس عائد ہوگا۔

اس کے نتیجے میں غیر دستاویزی سپلائر رجسٹرڈ سپلائر کے مقابلے میں نسبتاً سستا دکھائی دے سکتا ہے۔ یوں یہ نظام صرف صارف کی آخری ڈیجیٹل ادائیگی کو تو ریکارڈ کرتا ہے، لیکن اس کھانے کی تیاری کے لیے ہونے والی خریداری کو ٹیکس کریڈٹ کے دائرے سے باہر چھوڑ دیتا ہے۔

اس نظام میں حقیقی ٹیکس بوجھ صرف نظر آنے والے آٹھ فیصد تک محدود نہیں رہتا۔ اجزا، یوٹیلیٹیز، آلات اور دیگر خدمات پر ادا کیے گئے ٹیکس چونکہ ایڈجسٹ نہیں ہو سکتے، اس لیے وہ ریستوران کی لاگت میں شامل ہو جاتے ہیں، اور پھر انہی غیر قابلِ واپسی ٹیکسوں پر مشتمل قیمت پر دوبارہ آٹھ فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ یہی دوہرا ٹیکس بوجھ (کاسکیڈنگ) ہے، جسے ختم کرنا ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ کارڈ کے ذریعے ادائیگی صرف ایک ڈیجیٹل ریکارڈ ہے، پیداوار اور ترسیل کے پورے عمل کی دستاویز نہیں۔

یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اکثر ڈیجیٹلائزیشن کو ہی معیشت کی دستاویزی شکل قرار دیتی ہیں۔ وفاقی حکومت اور ایس بی پی نقد کے بغیر ادائیگیوں کے فروغ پر سرکاری وسائل خرچ کر رہے ہیں۔ راست کے ذریعے مرچنٹ کو کیو آر ادائیگیوں کے لیے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی گئی، جو ادائیگی وصول کرنے والے اور جاری کرنے والے اداروں میں تقسیم کی گئی۔

ایس بی پی کی مالی شمولیت سے متعلق رپورٹ کے مطابق 21 لاکھ سے زائد مرچنٹس کو راست سے منسلک کیا جا چکا ہے، جبکہ 2026 کی ”گو کیش لیس“ عید مہم کے دوران 4 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ لین دین ہوئے، جن کی مالیت 34 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔ ان اقدامات کا مقصد ادائیگی کی لاگت کم کرنا اور کاروباروں کو رسمی ادائیگی کے نظام میں لانا تھا، مگر پنجاب نے اس کے برعکس ڈیجیٹل ادائیگی پر ریستورانوں کا ٹیکس پانچ سے بڑھا کر آٹھ فیصد کر دیا اور ادائیگی کی کلیئرنگ کے وقت ہی مرچنٹ کی رقم میں سے ٹیکس منہا کرنے کا طریقہ اختیار کر لیا۔

اس کے متوقع نتائج واضح ہیں۔ مرچنٹس پہلے ہی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ، ادائیگی وصول کرنے والے اداروں کے اخراجات اور انٹرچینج فیس برداشت کرتے ہیں۔ بین الاقوامی تجربہ بتاتا ہے کہ کارڈ پراسیسنگ کے اضافی اخراجات اکثر کاروباروں کو صارفین سے سہولت فیس لینے، نقد ادائیگی پر رعایت دینے یا دوبارہ نقد لین دین کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک صنعتی اندازے کے مطابق امریکا میں کارڈ پراسیسنگ کی لاگت عموماً 1.5 سے 3.5 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں لاگت اور معاہدے مختلف ہیں، لیکن اصول ایک ہی ہے: جب ڈیجیٹل ادائیگی نقد سے مہنگی پڑنے لگے تو کاروبار اس کا بوجھ یا تو صارف پر منتقل کرتے ہیں، رعایتیں کم کر دیتے ہیں یا پھر نقد ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کا نیا نظام صارفین کو دی جانے والی رعایت کے عملی مسئلے پر بھی خاموش ہے۔ پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012 کی دفعہ 7(5) کے مطابق اگر انوائس میں رعایتی قیمت اور اس سے متعلق ٹیکس واضح درج ہو اور رعایت کاروباری روایت کے مطابق ہو تو اسے قانونی تجارتی رعایت تسلیم کیا جاتا ہے۔ ریستورانوں سے متعلق قواعد بھی رعایت اور عارضی پروموشنل قیمتوں کی اجازت دیتے ہیں۔ لہٰذا اگر ریستوران حقیقی رعایت دے تو ٹیکس اسی رعایتی قیمت پر عائد ہونا چاہیے جو انوائس میں درج ہو۔

قانونی طریقۂ کار کو الٹا نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے کسی قابلِ ٹیکس شخص کی جانب سے قابلِ ٹیکس خدمت فراہم ہونا، اس کی قانونی طور پر قابلِ تعین قیمت اور قانون میں مقررہ شرح کا اطلاق ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی قانون کے تحت مقرر کردہ وصول کنندہ ادارہ وہ ٹیکس وصول کر سکتا ہے جس کی ادائیگی متعلقہ ٹیکس دہندہ پر لازم ہو۔ محض انتظامی یا طریقۂ کار سے متعلق دفعات کو بنیاد بنا کر نہ نیا قابلِ ٹیکس واقعہ تخلیق کیا جا سکتا ہے، نہ ٹیکس دہندہ کی تعریف بدلی جا سکتی ہے، نہ قانونی ٹیکس مالیت تبدیل کی جا سکتی ہے اور نہ صرف اس بنیاد پر کہ ادائیگی ڈیجیٹل نظام سے گزری ہے، مجموعی رقم پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

کارڈ سے منسلک پروموشنل آفرز کی صورت حال مزید پیچیدہ ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ریستوران کا قبل از ٹیکس بل 10 ہزار روپے ہو اور اس پر 20 فیصد کارڈ ڈسکاؤنٹ دیا جائے تو مختلف صورتوں میں قابلِ ٹیکس مالیت بھی مختلف ہوگی۔

اگر پوری رعایت ریستوران خود برداشت کرتا ہے تو اسے عملاً 8 ہزار روپے وصول ہوتے ہیں، لہٰذا اصولی طور پر یہی قابلِ ٹیکس مالیت ہونی چاہیے۔ اگر بینک رعایت کا نصف حصہ برداشت کرے اور ایک ہزار روپے بعد میں ریستوران کو ادا کر دے تو ریستوران کی مجموعی وصولی 9 ہزار روپے بنتی ہے، اس صورت میں صرف وہ ایک ہزار روپے جو ریستوران نے خود برداشت کیے، حقیقی رعایت تصور ہوں گے۔ اسی طرح اگر پوری رعایت بینک برداشت کرے اور ریستوران کو آخرکار پورے 10 ہزار روپے مل جائیں تو قابلِ ٹیکس مالیت بھی 10 ہزار روپے ہی رہے گی۔ اسی طرح اگر بینک صارف کی مکمل ادائیگی کے بعد علیحدہ سے کیش بیک دے تو وہ بینک کی ترغیبی اسکیم ہوگی، ریستوران کی جانب سے دی گئی رعایت نہیں۔

تاہم ٹیکس وصول کنندہ اداروں سے متعلق نوٹیفکیشن میں ان عام کاروباری معاملات کے لیے کوئی قابلِ عمل طریقۂ کار موجود نہیں۔ کیا بینک ٹیکس اس رقم پر کاٹے گا جو کارڈ ہولڈر سے وصول کی گئی، یا اس رقم پر جو ابتدائی طور پر ریستوران کو منتقل ہوئی، یا پھر صارف کی ادائیگی اور بعد ازاں بینک کی جانب سے کی جانے والی ادائیگی دونوں کو ملا کر ٹیکس کا تعین کرے گا؟

مشترکہ طور پر دی جانے والی پروموشنل رعایتوں کی رپورٹنگ کیسے ہوگی؟ اگر کوئی لین دین منسوخ ہو جائے، بکنگ کینسل ہو، بعد میں ٹپ شامل کی جائے یا تصفیے کے بعد رعایت میں ردوبدل ہو تو ٹیکس کی درستگی کون کرے گا؟ محض مرچنٹ کیٹیگری کوڈ اور سیٹلمنٹ میسج کی بنیاد پر کوئی بینک ریستوران کی حقیقی قابلِ ٹیکس مالیت کا تعین نہیں کر سکتا۔

جزوی ادائیگیوں کا معاملہ ایک اور پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ ایک ہی ریستوران کا بل جزوی طور پر کارڈ اور جزوی طور پر نقد ادا کیا جا سکتا ہے، یا متعدد کارڈز سے مختلف پروموشنز کے تحت ادا کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں کیا صرف اس لیے پورا بل آٹھ فیصد ٹیکس کا مستحق ہوگا کہ ادائیگی کا کچھ حصہ ڈیجیٹل تھا، یا بل کو آٹھ اور 16 فیصد شرحوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا؟

قانون میں اس تقسیم کا کوئی واضح اصول موجود نہیں۔ ایک ایسا ٹیکس نظام جو ایک ہی کھانے پر ادائیگی کے ذریعے کی بنیاد پر دو مختلف شرحیں نافذ کرے، دستاویزی معیشت کو فروغ دینے کے بجائے ہیرا پھیری اور عدالتی تنازعات کو جنم دے گا۔

اس کے ساتھ صارفین کے تحفظ کا پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بینک مرچنٹ کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے سے پہلے پورا ٹیکس منہا کر لیں تو ریستوران ممکن ہے یہ اضافی بوجھ صارفین پر ڈالنے کے لیے پراسیسنگ چارجز، رعایت میں کمی یا سہولت فیس وصول کرنا شروع کر دیں۔

یوں حکومت کی تشہیر کردہ ”رعایت“ عملاً ختم ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی تلافی زیادہ مینو قیمتوں، کم پروموشنل رعایتوں، کم از کم کارڈ ادائیگی کی شرط یا اضافی فیسوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ نتیجتاً صارف کو اگرچہ قانونی طور پر کم شرحِ ٹیکس نظر آئے گی، مگر اس کا مجموعی بل پہلے سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

پنجاب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ کرنا چاہتی ہے، ریٹیل سیلز ٹیکس یا پھر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی ٹیکس۔ ان تینوں نظاموں کو یکجا کر کے اسے دستاویزی معیشت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

ایک قابلِ دفاع اصلاحات کا ماڈل یہ ہوگا کہ کم اور یکساں شرحِ ٹیکس نافذ کی جائے، ان پٹ ٹیکس کی مکمل اور قابلِ تصدیق ایڈجسٹمنٹ فراہم کی جائے، ریستورانوں کی انوائسز کو الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل رپورٹنگ سے منسلک کیا جائے، انوائس اور ٹیکس کریڈٹ کے سلسلے کو برقرار رکھا جائے، اور مرچنٹ کی جانب سے دی گئی رعایت، بینک کی مالی معاونت سے دی گئی رعایت، کیش بیک، لین دین کی منسوخی اور جزوی ادائیگیوں کے لیے واضح قواعد وضع کیے جائیں۔ بینکوں کا کام صرف ادائیگیوں کا ڈیٹا منتقل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ مرچنٹس کی جانب سے فراہم کی گئی خدمات کی قانونی قابلِ ٹیکس مالیت کا خود اندازہ لگانا۔

حقیقی انتخاب کارڈ پر آٹھ فیصد اور نقد پر 16 فیصد ٹیکس کے درمیان نہیں، بلکہ سپلائی چین کی حقیقی دستاویز سازی اور صرف آخری ڈیجیٹل ادائیگی پر سطحی ٹیکس کے درمیان ہے۔ پنجاب حکومت نے دوسرا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس سے اگرچہ قلیل مدت میں کچھ اضافی محصولات حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن نہ تو ایک حقیقی ویلیو ایڈڈ ٹیکس نظام قائم ہوگا، نہ ہی نقد کے بغیر معیشت کے فروغ کا ہدف حاصل ہوگا۔ اس کے برعکس، اس پالیسی سے نقد معیشت کو تقویت ملنے اور ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی ہونے کا خدشہ زیادہ ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026