کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی واپسی، 100 انڈیکس 1300 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا

  • دوپہر 12:03 بجے بینچ مارک انڈیکس 176,926.74 پر جاپہنچا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کئی دنوں کی فروخت کے دباؤ کے بعد جمعہ کو خریداری کی واپسی ہوئی، ٹریڈنگ کے آغاز کے چند ہی منٹوں میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوپہر 12:03 بجے بینچ مارک انڈیکس 1,378.76 پوائنٹس یا 0.79 فیصد اضافے سے 176,926.74 پر جاپہنچا۔

آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، کھاد (فرٹیلائزر)، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ ایچ بی ایل، ایس ایس جی سی ، ماری ، اوجی ڈی سی ، حبکو، پی اویل، ایچ بی ایل، پی پی ایل اور پی ایس او بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں محتاط رجحان برقرار رہا کیونکہ علاقائی استحکام کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے اور بڑی سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہوئے انتظار کی پالیسی اختیار کیے رہے۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور معمولی خسارے کے ساتھ بند ہوئی۔

گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 495.00 پوائنٹس یعنی 0.28 فیصد کی کمی سے 175,547.98 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں وال اسٹریٹ کی تیزی کے اثرات کے باعث زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ جنوبی کوریا کی شدید دباؤ کا شکار مارکیٹ نے ریکارڈ حد تک بحالی کا مظاہرہ کیا جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ اے آئی سے وابستہ اثاثوں میں حالیہ فروخت کا سلسلہ شاید اپنے اختتام کے قریب ہے۔

امریکا میں طویل مدتی ٹریژری بانڈز کی ییلڈز 19 سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہیں جبکہ قلیل مدتی ییلڈز میں کمی دیکھی گئی۔

جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں جمعہ کو 10 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیاجس سے ہفتے کے آغاز میں ہونے والے بھاری نقصانات کا بڑی حد تک ازالہ ہوگیا۔ اسی طرح جاپان کا نکئی انڈیکس 4.5 فیصد بڑھ گیا جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 4.6 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

یہ تیزی مصنوعی ذہانت سے وابستہ بڑی کمپنیوں کے حصص میں رات بھر ریکارڈ ہونے والے نمایاں اضافے کے بعد دیکھنے میں آئی جس کے باعث چِپ ساز کمپنیوں کے حصص میں بھی وسیع پیمانے پر خریداری ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان دو کمپنیوں کے حوصلہ افزا مالی نتائج اور مستقبل کے مثبت اندازوں نے بھاری سرمایہ جاتی اخراجات سے متعلق سرمایہ کاروں کے خدشات کو کافی حد تک کم کردیا۔

جمعہ کی شاندار بحالی کے باوجود کوسپی انڈیکس جولائی میں 25 فیصد سے زائد ماہانہ خسارے کی جانب گامزن تھا جو 1997 کے بعد اس کا سب سے بڑا ماہانہ نقصان ہوگا۔

مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث جنوبی کوریا کے حکام کو ایسے لیوریجڈ مالیاتی مصنوعات پر پابندیاں سخت کرنا پڑیں جنہوں نے مارکیٹ میں بے چینی پیدا کی اور متعدد ریٹیل سرمایہ کاروں کی جمع پونجی کو بھاری نقصان پہنچایا۔

امریکا میں نیسڈیک فیوچرز 0.6 فیصد جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے۔ یورپ میں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.5 فیصد بڑھے جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز اور ڈیکس فیوچرز بالترتیب 0.25 فیصد اور 0.34 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوئے۔

چینی مارکیٹوں نے بھی اسی مثبت رجحان کی پیروی کی۔ چین کا سی ایس آئی اے آئی انڈیکس 7 فیصد سے زائد بڑھ گیا جبکہ ہینگ سینگ ٹیک انڈیکس میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے