بی آر ریسرچ

سیمنٹ انڈسٹری، مقامی طلب نے برآمدات کو پیچھے چھوڑ دیا

  • مقامی ترسیلات 10 فیصد اضافے کے ساتھ 41.57 ملین ٹن تک پہنچ گئیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی سیمنٹ انڈسٹری نے مالی سال 2026 میں مضبوط بنیادوں پر کلوزنگ کی۔ مجموعی ترسیلات (ڈسپیچز) 50.58 ملین ٹن تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 2025 کے 47 ملین ٹن کے مقابلے میں 7.6 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ چند برسوں میں سب سے مضبوط حجم کی کارکردگی تھی اور مسلسل دوسری سالانہ ترقی بھی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بحالی وہاں سے آئی جہاں پیداواری ادارے اسے دیکھنا چاہتے تھے، یعنی مقامی مارکیٹ سے۔

مقامی ترسیلات 10 فیصد اضافے کے ساتھ 41.57 ملین ٹن تک پہنچ گئیں، جس سے سال کے دوران تقریباً 3.8 ملین ٹن کا اضافہ ہوا۔ برآمدات، جنہوں نے اس وقت پلانٹس کو چلائے رکھا جب مقامی تعمیراتی سرگرمیاں شدید مشکلات کا شکار تھیں، 2.1 فیصد کمی کے بعد 9.01 ملین ٹن رہ گئیں۔ نتیجتاً مجموعی ترسیلات میں برآمدات کا حصہ گزشتہ سال کے تقریباً 20 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 18 فیصد رہ گیا۔

یہ شعبے کی فروخت کے امتزاج میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مالی سال 2022 سے 2025 کے درمیان بلند شرح سود، مہنگائی، گھرانوں کی کمزور قوت خرید اور ترقیاتی اخراجات میں کمی نے تعمیراتی سرگرمیوں کو تقریباً روک دیا تھا۔ پیداواری اداروں نے بیرونی منڈیوں کا رخ زیادہ کیا، حالانکہ برآمدات میں عموماً قیمتیں کم ملتی ہیں اور مال برداری و ہینڈلنگ کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں۔ مالی سال 2026 میں بالآخر مقامی خریدار دوبارہ مارکیٹ میں واپس آیا۔

علاقائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحالی کہاں سے آئی۔ شمالی علاقوں میں قائم سیمنٹ پلانٹس کی ترسیلات 7.5 فیصد اضافے کے ساتھ 35.5 ملین ٹن رہیں، جس کی بڑی وجہ مقامی فروخت میں 11 فیصد اضافہ تھا۔

تاہم شمالی علاقوں کی برآمدات نصف سے بھی زیادہ کم ہو کر صرف 0.78 ملین ٹن رہ گئیں، کیونکہ افغانستان سرحد کی بندش نے سرحد پار ترسیلات کو متاثر کیا۔ جنوبی علاقوں کے پلانٹس کی ترسیلات 7.8 فیصد اضافے کے ساتھ 15.08 ملین ٹن تک پہنچ گئیں۔ جنوبی علاقوں میں مقامی فروخت 6 فیصد بڑھی، جبکہ برآمدات 9 فیصد اضافے کے ساتھ 8.24 ملین ٹن رہیں، جسے سمندری راستوں تک رسائی سے مدد ملی۔

جون کے مہینے نے سال کا اختتام مضبوط انداز میں کیا، اگرچہ اعداد و شمار کا موازنہ کم بنیاد کی وجہ سے متاثر ہے کیونکہ گزشتہ سال عید کی تعطیلات جون میں تھیں۔

جون میں مجموعی سیمنٹ ترسیلات سالانہ بنیاد پر 18.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4.33 ملین ٹن رہیں، جبکہ مئی کے مقابلے میں بھی 13 فیصد زیادہ تھیں۔ مقامی فروخت میں 27 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 3.54 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جبکہ برآمدات 9 فیصد کمی کے بعد 0.79 ملین ٹن رہیں۔

شمالی علاقوں سے جون میں کوئی برآمد نہیں ہوئی کیونکہ افغانستان سرحد بند تھی، تاہم مقامی ترسیلات 27 فیصد اضافے کے ساتھ 3.02 ملین ٹن رہیں۔ جنوبی علاقوں میں مجموعی ترسیلات 23 فیصد بڑھ کر 1.31 ملین ٹن ہو گئیں۔ مقامی فروخت میں 28 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ برآمدات 20 فیصد بڑھ کر 0.79 ملین ٹن رہیں۔ ماہ کے دوران پیداواری صلاحیت کے استعمال کی شرح 61 فیصد رہی، تاہم علاقائی فرق نمایاں تھا، شمال میں یہ شرح 54 فیصد جبکہ جنوب میں 90 فیصد رہی۔

جون میں صلاحیت کے استعمال کی شرح حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہے، لیکن پورے مالی سال کی تصویر اب بھی کمزور ہے۔ صنعت کے پاس تقریباً 80 ملین ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ 50 ملین ٹن سے زائد ترسیلات کے باوجود اس صلاحیت کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ غیر فعال رہا۔ کئی برسوں تک بڑے پیمانے پر توسیع نے شعبے میں اضافی پیداواری صلاحیت پیدا کر دی ہے، جس کا مسئلہ ایک سال کی بحالی سے حل نہیں ہو سکتا۔

مقامی طلب کے حوالے سے مستقبل کا منظرنامہ محتاط امید پر مبنی ہے۔ کم شرح سود، معاشی سرگرمیوں میں بہتری، ہاؤسنگ مراعات اور جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس سہولتیں نجی تعمیرات کو سہارا دے سکتی ہیں۔ مالی سال 2027 کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی اخراجات کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم سے اضافی رہائشی طلب پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ان عوامل کی بنیاد پر توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں سیمنٹ انڈسٹری کی ترسیلات مزید 7 سے 8 فیصد بڑھ کر 54 سے 55 ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہیں۔

تاہم بہت کچھ عملدرآمد پر منحصر ہوگا۔ ترقیاتی اخراجات کے بجٹ میں اکثر مالی دباؤ کے وقت کمی کر دی جاتی ہے، جبکہ گھرانوں کی خریداری کی صلاحیت اب بھی کمزور ہے۔ ایندھن کی بلند قیمتیں اور دوبارہ بڑھتی مہنگائی بھی تعمیراتی فیصلوں میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہیں اور بحالی کی رفتار سست کر سکتی ہیں۔

برآمدات کے امکانات مختلف نوعیت کے ہیں۔ جنوبی علاقوں کے سیمنٹ پروڈیوسرز کو ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور امریکا سمیت متنوع منڈیوں تک رسائی کا فائدہ برقرار رہنے کی توقع ہے۔ شمالی علاقوں کے پروڈیوسرز کے لیے افغانستان سرحد کا دوبارہ کھلنا انتہائی اہم ہوگا، نہ صرف برآمدات بحال کرنے کے لیے بلکہ سستے افغان کوئلے تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی۔

اگر افغانستان سرحد دوبارہ نہ کھلی تو برآمدات محدود رہنے کا امکان ہے اور شمالی علاقوں کے پلانٹس مقامی طلب پر مزید انحصار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔