رائے

علم پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے گمراہ کن حکمتِ عملی

  • اگر جامعات درست سمت میں تحقیق کر رہی ہیں تو اس کے نتائج معیشت، صنعت اور سماجی ترقی کے اشاریوں میں نمایاں ہونے چاہییں۔
شائع اپ ڈیٹ

اپنے ملینیم ایڈیشن میں دی اکنامسٹ نے فخر کے ساتھ لکھا تھا کہ مغربی دنیا نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اپنی غیر معمولی پیش رفت کے ذریعے انسانیت کی عظیم خدمت انجام دی ہے۔

تعلیم، صحت، سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، سیاست اور عسکری قوت کے شعبوں میں مغربی دنیا کی کامیابیاں دراصل ان کی جامعات میں ہونے والی فکری اور علمی ترقی کا ثمر ہیں۔ ان کے کارپوریٹ شعبے کی طاقت بھی ٹیکنالوجی میں جدت، مؤثر مالیاتی حکمت عملی، جدید مارکیٹنگ اور اعلیٰ کاروباری نظم و نسق کی مرہونِ منت ہے، جس نے دنیا بھر میں ان کی مصنوعات اور خدمات کی بے مثال طلب پیدا کی۔

مغربی کارپوریٹ دنیا میں وژن، منصوبہ بندی اور طویل المدتی حکمت عملیوں کی تشکیل میں بنیادی کردار ان مفکرین، دانشوروں، ماہرینِ معاشیات، سائنس دانوں، محققین اور اساتذہ کا ہے، جو ان کی جامعات کی پیداوار ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے مطلوبہ نتائج میں قومی نظریے اور سماجی اقدار کا تحفظ، سیاسی استحکام کا فروغ، معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی، فکری معیار کی بہتری، سماجی و معاشی ناہمواریوں میں کمی، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی شامل ہیں، جبکہ معاشی نمو بھی اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم ثمر ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے، جہاں نئے علم کی تخلیق کا تسلسل برقرار نہیں رہتا، وہاں معاشی ترقی بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ عظیم تہذیبوں اور ان کی عسکری طاقت کے زوال کی بنیادی وجہ بھی علم کی تخلیق کے عمل میں تعطل تھا۔ درحقیقت، علم کی مسلسل تخلیق ہی پائیدار معاشی ترقی اور توسیع کی اصل بنیاد ہے، جبکہ دیگر تمام عوامل صرف سازگار ماحول اور معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ مغربی جامعات نے اسی تصور کو ایک مؤثر نظام کی شکل دی، جہاں ترقی اور پیش رفت کے لیے مفید خیالات کو جنم دیا جاتا ہے، ان کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور قابلِ عمل نظریات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔

اکنامک انٹیلی جنس یونٹ کے ایک اندازے کے مطابق پیش کیے جانے والے 300 خیالات میں سے صرف آٹھ بڑے منصوبوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ بعد ازاں صنعت کار اور بڑی کاروباری کمپنیاں ان منتخب خیالات پر مزید تحقیق کے لیے سرمایہ فراہم کرتی ہیں، اور بالآخر انہی میں سے کوئی ایک خیال تجارتی کامیابی حاصل کرکے معاشی ترقی کو نئی رفتار دیتا ہے۔ ایسے کامیاب منصوبوں پر حاصل ہونے والا سرمایہ کاری کا منافع معمول کے کاروباری منافع سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

مالی وسائل کی کمی کے باوجود جو ممالک اعلیٰ تعلیم پر ٹیکس دہندگان کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کی معاشی پیداوار غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے ممالک کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم پر ہونے والا خرچ معیشت کے لیے کیا نتائج پیدا کر رہا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا موجودہ ڈھانچہ بھی علم پر مبنی معیشت کے ذریعے معاشی اہداف کے حصول کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا تھا۔

اس ڈھانچے کی تشکیل میں پلاننگ کمیشن، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارتِ تعلیم نے مشترکہ کردار ادا کیا۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے متعدد پالیسیاں، اصلاحات اور مراعات متعارف کرائی گئیں۔ ان اقدامات میں سب سے اہم قدم وفاقی قانون سازی کے ذریعے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں تبدیل کرنا تھا۔

سرکاری جامعات کے اساتذہ کی تنخواہوں میں نمایاں اضافہ، ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت پرکشش مراعات اور اعلیٰ مشاہرے، کل وقتی یونیورسٹی اساتذہ کے لیے انکم ٹیکس میں رعایت، سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے اساتذہ کے بیرونِ ملک دوروں پر بڑے پیمانے پر اخراجات، ایچ ای سی کی نگرانی میں مقامی پی ایچ ڈی پروگراموں کا آغاز، پاکستانی طلبہ کے لیے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ہزاروں وظائف، اور جامعات میں ایچ ای سی کی جانب سے ای لائبریریوں کا قیام گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کیے جانے والے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔

ہر جامعہ میں کوالٹی انہانسمنٹ سیلز ( کیو ای سیز) اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن ( او آر آئی سی) کے قیام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور تحقیق کو معاشی ترقی کے لیے قابلِ استعمال بنانا تھا۔ بلاشبہ ان اصلاحات کا حتمی ہدف علم کی تخلیق کو تجارتی اور معاشی سرگرمیوں سے جوڑنا تھا۔

اس ماڈل کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی تھی کہ اعلیٰ تعلیم سے پیدا ہونے والے مثبت معاشی اثرات کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تیز رفتار اضافہ ہوگا اور معاشی سرگرمیوں کے پھیلاؤ سے ٹیکس آمدن بھی بڑھے گی۔ ایچ ای سی کے 2005 کے اسٹریٹجک پلان میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ اگر اعلیٰ ترین تعلیمی معیار اور فکری صلاحیت کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان چند برسوں میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس تصور کی بنیاد یہ تھی کہ جامعات میں علم تخلیق کیا جائے اور صنعت اسے تجارتی و معاشی مقاصد کے لیے بروئے کار لائے۔

ایچ ای سی مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کے علم پر مبنی معاشی ترقی کے ماڈل نے ’’خاموش انقلاب‘‘ کے ذریعے پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی اور پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اشاریوں کو بہتر بنایا۔ تاہم، اس ماڈل کی کامیابی کا عکس نہ تو جی ڈی پی کی شرح نمو، صنعتی پیداوار، برآمدات میں اضافہ یا درآمدی متبادل مصنوعات کی تیاری میں نظر آتا ہے، اور نہ ہی نجی شعبے کی جانب سے تحقیق و ترقی ( آر ایند ڈی) پر اخراجات میں کوئی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

2004 میں، یعنی ایچ ای سی کی پالیسیوں کے نفاذ سے قبل، پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 7.8 فیصد تھی، جو 2015 میں 4.2 فیصد، 2022 میں 6.5 فیصد رہی، جبکہ اب تقریباً 3.5 فیصد ہے۔ اسی طرح پاکستان کی مجموعی برآمدات میں تیار شدہ صنعتی مصنوعات کا حصہ، جو 2004 میں 85 فیصد سے زیادہ تھا، اب کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا ہے۔

پاکستان کی صنعتی برآمدات میں ہائی ٹیک مصنوعات کا حصہ بھی خاطر خواہ نہیں بڑھ سکا۔ یہ شرح 2008 میں 1.9 فیصد، 2010 میں 1.7 فیصد، 2022 میں 1.4 فیصد، 2023 میں 1.9 فیصد اور 2024 میں 2.4 فیصد رہی۔ اسی طرح تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) پر اخراجات 2004 میں جی ڈی پی کے 0.3 فیصد کے برابر تھے، جو اب کم ہو کر 0.2 فیصد رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی محققین کی تحقیقی اشاعتوں میں 1,300 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سائنسی جرائد میں پاکستانی مصنفین کے تحقیقی مقالات کی تعداد 2004 میں 1,730 تھی، جو 2022 میں بڑھ کر 22,600 ہو گئی۔ اسی عرصے میں تحقیق و ترقی کے شعبے میں محققین کی تعداد فی دس لاکھ آبادی پر 73 سے بڑھ کر 474 ہو گئی، جبکہ مقامی سطح پر پیٹنٹس اور ٹریڈ مارکس کی درخواستوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح برآمدات میں آئی سی ٹی خدمات کا حصہ 2004 کے 10 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 45 فیصد تک پہنچ گیا، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

تاہم، پی ایچ ڈی ڈگریوں، تحقیقی جرائد اور تحقیقی مقالات کی تعداد میں نمایاں اضافے کے باوجود یہ پیش رفت معاشی ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ اگر ایچ ای سی کا یہ دعویٰ درست مان لیا جائے کہ اعلیٰ تعلیم کے اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور معاشی ترقی کے درمیان کوئی بنیادی کڑی مفقود ہے۔

محققین، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور سائنسی اشاعتوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود معاشی ترقی کا مطلوبہ نتیجہ سامنے نہ آنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے نظام اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان ربط کا فقدان ہے۔ یہی وہ بنیادی خلا ہے جسے نہ تو درست طور پر سمجھا گیا اور نہ ہی پالیسی سازی میں اس کا مناسب ادراک کیا گیا۔ بظاہر علم پر مبنی ترقی کی حکمت عملی نافذ کرتے وقت پالیسی سازوں نے معاشی ترقی کے دیگر اہم عوامل کو نظر انداز کر دیا۔

اگر جامعات درست سمت میں تحقیق کر رہی ہیں تو اس کے نتائج ملک کے معاشی اور سماجی اشاریوں میں واضح طور پر نظر آنے چاہییں۔ 2018 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے سفارش کی تھی کہ بالخصوص ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تحقیق کے لیے پاکستان کو درپیش اندرونی مسائل سے متعلق موضوعات کا انتخاب کیا جائے۔

ایچ ای سی نے اس سفارش کی توثیق کرتے ہوئے تمام سرکاری و نجی جامعات کو اس پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی، مگر آج بھی ایسا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں جو اس تحقیق کو صنعت اور پالیسی سازی کے اداروں سے جوڑ سکے۔ ایسی صورت حال میں اعلیٰ تعلیم میں بہتری کے ذریعے انقلابی معاشی ترقی کا ہدف حاصل کرنا انتہائی مشکل ہے۔

علم کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے جامعات کو صنعت کی قیادت کرنی چاہیے، نہ کہ اس کے پیچھے چلنا چاہیے۔ جامعات کی تحقیق سے جنم لینے والے نئے خیالات سے پالیسی ساز، سرمایہ کار اور صنعت کار نئی معاشی سرگرمیوں کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں جامعات بدقسمتی سے معاشی اور صنعتی ضروریات کے نام پر محض دفتری اور مشینی مہارتیں فراہم کر رہی ہیں، یوں وہ بتدریج پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کی سطح تک محدود ہوتی جا رہی ہیں۔

اعلیٰ تعلیم اور فنی تربیت کے کردار میں بنیادی فرق یہی ہے کہ اعلیٰ تعلیم نئی ایجادات، اختراعات، مصنوعات اور طریقہ کار متعارف کرا کے صنعت کی رہنمائی کرتی ہے، جبکہ فنی تعلیم موجودہ نظام کے لیے ہنر مند افرادی قوت اور پیشہ ور افراد تیار کرتی ہے۔ درحقیقت علم کی تخلیق، اختراعات، نئی ایجادات اور اسٹارٹ اپس کا فروغ یونیورسٹی نظام کا لازمی جزو ہے۔ اگر کوئی ادارہ یہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے کسی جامعہ سے منسلک کالج کا درجہ دیا جانا چاہیے۔

علم پر مبنی معیشت کے لیے علم کی تخلیق، اس کا حصول اور اس کا استعمال تین الگ الگ مراحل ہیں۔ ان میں علم کی تخلیق اعلیٰ تعلیم کا بنیادی فریضہ ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور صنعت سے بامعنی روابط قائم کرنے کے لیے جامعات کے اساتذہ کو نئے نظریات، نئی ٹیکنالوجیز، نئے طریقہ کار اور نئی تھیوریز وضع کرنا ہوں گی۔ یہی سرگرمیاں علم کی تخلیق کہلاتی ہیں۔ اس کے برعکس تدریس کے ذریعے علم کی منتقلی ایک ثانوی عمل ہے، جو جامعات، کالجوں اور پیشہ ورانہ و فنی اداروں میں انجام دیا جاتا ہے، جبکہ علم کا مؤثر استعمال بنیادی طور پر صنعت، تجارت، انتظامی ڈھانچے اور مجموعی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

پاکستانی جامعات میں بیشتر تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت براہِ راست صنعت کے بجائے ایچ ای سی یعنی عوامی وسائل سے کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں انڈسٹری۔اکیڈمیا روابط کا تصور زیادہ تر تعلیمی اداروں کی تشہیر تک محدود رہا ہے۔ سیمینارز، کانفرنسیں، صنعت کی سرپرستی، طلبہ کی انٹرن شپ، وظائف اور گریجویٹس کی ملازمتوں کو ہی ان روابط کا نام دیا جاتا رہا۔

انڈسٹری اور جامعات کے درمیان واضح اور مؤثر ماڈل نہ ہونے کے باعث اعلیٰ تعلیم کا پورا نظام جمود، بدعنوانی اور غیر دیانت داری کا شکار ہو گیا۔ نہ تحقیق کے معیار کو کسی ریاضیاتی فارمولے سے ناپا جا سکتا ہے اور نہ ہی انڈسٹری۔اکیڈمیا روابط کو؛ اصل معیار صرف ان کے عملی اور قابلِ مشاہدہ نتائج ہیں۔

ایچ ای سی ماڈل کے نفاذ کے بعد پی ایچ ڈی کرنے اور تحقیقی جرائد میں مضامین شائع کرنے کا بنیادی مقصد تحقیق کے ذریعے صنعت یا معیشت کی خدمت کے بجائے ترقی، اعلیٰ گریڈ اور تدریسی اسامیوں کا حصول بن گیا۔ یوں تحقیق کا مقصد محض مطلوبہ تعداد میں مقالے شائع کرنا رہ گیا۔

جعلی اور کم معیار کی تحقیقی اشاعتوں نے پورے ترقیاتی ماڈل کو نقصان پہنچایا اور ایچ ای سی کی پالیسیوں اور اصلاحات کے مطلوبہ نتائج کو بھی متاثر کیا۔ آج بین الاقوامی کانفرنسوں اور تحقیقی جرائد کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، جہاں پاکستانی شرکا درحقیقت ان کانفرنسوں اور جرائد کی مالی معاونت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ایچ ای سی جامعات کے اساتذہ اور طلبہ کے سفری اخراجات، رہائش، اشاعتی فیس اور یومیہ الاؤنس تک ادا کرتا رہا، جبکہ بیرونِ ملک کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔

مصنف کے مطابق پاکستانی عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی یہ خطیر رقم ایسے کاموں پر صرف کی گئی جن کی عملی افادیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان کانفرنسوں کی علمی اہمیت بھی محدود رہی، کیونکہ ان میں عموماً روایتی نوعیت کے تحقیقی مقالات ہی پیش کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح تحقیقی جرائد میں اشاعت کی فیس بھی بالآخر ایچ ای سی ہی ادا کرتا ہے۔ حوالہ جات ( سیٹیشن)، امپیکٹ فیکٹر اور تحقیقی اشاعتوں کی تعداد میں اس مصنوعی اضافے سے علم کی تخلیق میں کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوتی، بلکہ علمی اور مالی وسائل ایک غیر حقیقی نظام کی نذر ہو جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر گزشتہ ایک دہائی میں اضافی 7 ہزار تحقیقی مقالات کی اشاعت پر، اگر فی مقالہ اوسط اشاعتی فیس 500 ڈالر تصور کی جائے، تو پاکستان کو تقریباً 35 لاکھ ڈالر خرچ کرنا پڑے، جبکہ قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت پر ایچ ای سی کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

مصنف سوال اٹھاتے ہیں کہ 2005 سے اب تک ایچ ای سی نے عملی طور پر کیا حاصل کیا؟ ایچ ای سی کی مالی معاونت سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے والوں نے کون سی تحقیق کی؟ ٹیکنالوجی کی ترقی میں ان کا کیا کردار رہا؟ کیا ایچ ای سی کے قیام کے بعد پی ایچ ڈی کا معیار پہلے سے بہتر ہوا؟ ان کی کارکردگی کا پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟ علمی برتری، تحقیقی خدمات، صنعت میں روزگار، پاکستانی جامعات کی عالمی درجہ بندی میں بہتری یا پھر معاشی ترقی؟

مصنف کے مطابق اصل سوال ایچ ای سی کے نتائج (آوٹ پٹ) کا ہے، نہ کہ صرف اس کے فراہم کردہ وسائل ( ان پٹ) کا۔ اگر اضافی نتائج، اضافی سرمایہ کاری سے کم ہوں تو یہ واضح طور پر نااہلی اور غیر مؤثر نظام کی علامت ہے۔

ان کے بقول غیر پیداواری سرگرمیوں کے پھیلاؤ پر بھاری اخراجات نے قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچایا، مگر اس سے بھی بڑا نقصان کم معیار اور مصنوعی اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی صورت میں ہوا، جس نے جامعات، کارپوریٹ شعبے اور سرکاری اداروں کو متاثر کیا۔ ایسی مصنوعی تحقیقی سرگرمیاں اعلیٰ تعلیم کی ایک غیر حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں اور پوری قوم کو گمراہ کرتی ہیں۔

نتیجتاً وہ وسائل، جو ہمہ جہت صلاحیتوں کے حامل افراد کی تیاری پر خرچ ہونے چاہیے تھے، محض دفتری مہارتوں کی تربیت پر صرف ہو رہے ہیں، جو قومی وسائل کا ضیاع ہے۔ مصنف کے نزدیک اس فکری بدعنوانی نے نہ صرف پاکستان کی جامعات بلکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچایا، اور پالیسی سازی کو غیر یقینی، ابہام اور بے سمتی کا شکار بنا دیا۔ اعلیٰ تعلیم پر ہونے والے اخراجات اور جامعات میں تحقیق کی کارکردگی کا سنجیدہ جائزہ نہ لینا ایک نہایت نقصان دہ غفلت ہے۔

آخر میں مصنف خبردار کرتے ہیں کہ محدود وسائل رکھنے والی قوم اور اس کے ٹیکس دہندگان برسوں سے معیاری تحقیق اور علمی سرگرمیوں کے نام پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ اب فیصلہ پالیسی سازوں کو کرنا ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں بنیادی اصلاحات کے لیے وقتی مزاحمت برداشت کرتے ہیں یا پھر اعلیٰ تعلیم اور معاشی ترقی کی مسلسل زبوں حالی کو قبول کرتے ہیں۔