ایس ای سی پی نے کارپوریٹ خلاف ورزیوں پر فروری تا جون 4.73 ارب روپے جرمانے عائد کیے
- ان کارروائیوں میں تین کمپنیوں اور ان کے ڈائریکٹرز پر غیر قانونی ڈپازٹ وصولی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر جرمانے عائد کرنے کے احکامات بھی شامل
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بدھ کو جاری بیان میں کہا ہے کہ فروری سے جون 2026 کے دوران 531 عدالتی کارروائیوں میں کارپوریٹ خلاف ورزیوں پر 4.73 ارب روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق کمیشن نے فہرست شدہ اور غیر فہرست شدہ کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور انشورنس شعبے میں کارپوریٹ گورننس اور ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور نفاذ کی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، تاکہ مارکیٹ کی شفافیت برقرار رکھنے اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق فہرست شدہ کمپنیوں کے شعبے میں کمپنیز ایکٹ 2017 اور متعلقہ ضابطہ جاتی فریم ورک کی مختلف خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 99 کارروائیاں مکمل کی گئیں، جن کے نتیجے میں 91 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
عام خلاف ورزیوں میں قانونی اجلاس بروقت منعقد نہ کرنا، لازمی انکشافات اور رپورٹنگ تقاضوں پر عمل نہ کرنا، کارپوریٹ گورننس کی شقوں کی خلاف ورزی اور مالیاتی رپورٹنگ کی ذمہ داریوں سے عدم تعمیل شامل تھیں۔
خلاف ورزیوں میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مطلوبہ تشکیل یقینی نہ بنانا بھی شامل تھا، جس میں آزاد اور خواتین ڈائریکٹرز کی تقرری کے تقاضوں پر عمل نہ کرنا شامل ہے۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ ”یہ تقاضے حصص یافتگان کے حقوق، خصوصاً اقلیتی حصص یافتگان کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔“
سرمایہ مارکیٹ کے ضابطہ جاتی فریم ورک کے تحت ایس ای سی پی نے سیکیورٹیز ایکٹ 2015 اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی خلاف ورزیوں سے متعلق 69 کارروائیاں مکمل کیں۔
ان کارروائیوں کے نتیجے میں اصلاحی اقدامات کے احکامات جاری کیے گئے اور 16 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ ان خلاف ورزیوں میں ٹیک اوور ضوابط، اصل بینیفشل اونرشپ کے انکشاف اور کارپوریٹ گورننس کی شقوں پر عمل نہ کرنا شامل تھا۔
اسی طرح نان بینکنگ فنانس کمپنیوں (این بی ایف سیز) کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 53 کارروائیاں مکمل کی گئیں، جن کے نتیجے میں 14 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔
ان کارروائیوں کا تعلق صارفین کی تصدیق میں خامیوں، ہدفی مالی پابندیوں سے متعلق تقاضوں، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور دیگر ضابطہ جاتی ضروریات پر عمل درآمد نہ کرنے سے تھا۔
انشورنس شعبے میں 25 کارروائیاں مکمل کی گئیں، جن کے نتیجے میں 21 لاکھ روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ ان خلاف ورزیوں میں پالیسی ہولڈرز کے کلیمز کی بروقت ادائیگی، بیمہ کمپنیوں کی مالی استطاعت، ری انشورنس انتظامات، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور دیگر ضابطہ جاتی تقاضوں کی خلاف ورزیاں شامل تھیں۔
نجی اور غیر فہرست شدہ کمپنیوں کے خلاف رپورٹنگ مدت کے دوران 285 عدالتی کارروائیاں مکمل کی گئیں، جن کے نتیجے میں 4.7 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
ایس ای سی پی کے مطابق ان میں تین کمپنیوں اور ان کے ڈائریکٹرز کے خلاف کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 84 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ڈپازٹس وصول کرنے پر جرمانے کے احکامات بھی شامل تھے۔
کمیشن نے سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی جانب سے کمپنیز ایکٹ 2017 کی شقوں پر عمل درآمد یقینی بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی۔
ایس ای سی پی نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایس او ایز کے خلاف 117 عدالتی احکامات جاری کیے گئے، جن میں سے 87 میں جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ 30 کمپنیوں کو کارروائی کے دوران خامیاں دور کرنے پر تنبیہ جاری کی گئی۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے بیان میں کہا،”قانون پر عمل درآمد اختیاری نہیں۔ ہماری کارروائیاں واضح پیغام دیتی ہیں کہ خلاف ورزیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ ہم کارپوریٹ گورننس کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور شفاف، منصفانہ اور جوابدہ مارکیٹ یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔“