دنیا

ایتھنول سے متعلق پوسٹس پر بھارتی وزیر کا میٹا اور دیگر کمپنیوں کے خلاف مقدمہ

  • بھارتی وزیرِ ٹرانسپورٹ نے میٹا اور دیگر ٹیک کمپنیوں پر 11.4 لاکھ (1.14 ملین) ڈالر کا ہرجانے کا دعویٰ کر دیا، "ڈیپ فیک" پوسٹس کے ذریعے E20 ایتھنول پروگرام اور ذاتی منافع سے غلط انتساب کا الزام عائد
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کے وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے میٹا اور دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے 11.4 لاکھ (1.14 ملین) ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف توہین آمیز پوسٹس شیئر کی گئیں جن میں انہیں ملک کے ایتھنول ملاوٹ والے ایندھن کے پروگرام سے غلط طور پر جوڑا گیا۔

یہ قانون سازی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی حکومت اپنے ای 20 بائیو فیول اسٹریٹجی کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، جس کا مقصد برآمد شدہ تیل پر انحصار کم کرنا اور زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی لانا ہے۔20 فیصد ایتھنول پر مشتمل ای 20 پیٹرول اس وقت تنقید کی زد میں آیا جب سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس وائرل ہوئیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ایندھن گاڑیوں کے انجن کو نقصان پہنچاتا ہے اور کم ایتھنول کی گنجائش رکھنے والی گاڑیوں کی دیکھ بھال کی لاگت میں اضافہ کرتا ہے۔نتن گڈکری کے دفتر نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے بمبئی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے مواد میں انہیں غلط طور پر حکومت کی ای 20 پالیسی کا ذاتی طور پر ذمہ دار دکھایا گیا ہے۔مقدمے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پوسٹس میں گڈکری اور ان کے اہلخانہ پر اس اقدام سے ذاتی منافع کمانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔نتن گڈکری نے 11 کروڑ بھارتی روپے (1.14 ملین ڈالر) کے ہرجانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ڈیپ فیک پوسٹس اور ویڈیوز سے ان کی شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

اے ایف پی کی جانب سے موقف مانگنے پر میٹا کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام کی مالکانہ کمپنی میٹا کے علاوہ اس مقدمے میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، گوگل اور دیگر اداروں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔بھارت دنیا بھر میں فیس بک اور انسٹاگرام کے سب سے زیادہ صارفین رکھتا ہے، جس کی وجہ سے یہ صارفین کی تعداد اور مصروفیت کے لحاظ سے میٹا کی اہم ترین مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔دوسری جانب بھارتی حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کنٹرول کرنے والے قوانین کو مسلسل سخت کر رہی ہے اور ان سے متنازع مواد ہٹانے اور سرکاری احکامات پر عمل کرنے کا تقاضا کر رہی ہے۔