بی آر ریسرچ

مانیٹری پالیسی، اطمینان قبل از وقت ہے؟

  • اگرچہ جون میں ہیڈ لائن مہنگائی کم ہو کر 11.1 فیصد پر آ گئی، لیکن یہ اب بھی اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے خاصی زیادہ ہے
شائع اپ ڈیٹ

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پیر کے روز پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا۔ اس میں کوئی خاص حیرت کی بات نہیں تھی۔ لیکن اصل قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ تھا۔گزشتہ اجلاس میں ایک رکن نے شرحِ سود بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اس کے بعد سے سرخیوں میں آنے والی (ہیڈ لائن) مہنگائی دو ہندسوں میں برقرار ہے، بنیادی (کور) مہنگائی اب بھی درمیانی مدت کے ہدفی دائرہ کار سے اوپر ہے، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں تیزی آئی ہے، اور مالیاتی حالات میں نرمی پیدا ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، یہ توقع کرنے کے بجائے کہ سخت گیر مؤقف رکھنے والے اراکین کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اختلافی رائے ہی مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ بظاہر مانیٹری پالیسی کمیٹی اب مہنگائی کے موجودہ رجحان کے بارے میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مطمئن دکھائی دیتی ہے۔

شاید اس کے پاس ایسا کرنے کی معقول وجوہات بھی ہوں۔ 10 جولائی تک وسیع پیمانے پر بروڈ منی کی سالانہ شرحِ نمو کم ہو کر 13.2 فیصد رہ گئی، جو گزشتہ اجلاس کے وقت 15.2 فیصد تھی۔ اسی طرح ریزرو منی کی شرحِ نمو بھی سست پڑ گئی ہے، جبکہ عید کے بعد گردش میں موجود کرنسی میں معمول کے مطابق آنے والی کمی اور بینک ڈپازٹس میں مضبوط اضافے نے کرنسی بمقابلہ ڈپازٹس کے تناسب کو بھی کم کر دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تازہ ترین سرویز کے مطابق صارفین اور کاروباری اداروں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں بھی کمی آئی ہے۔ ایک ایسے مرکزی بینک کے لیے جو مہنگائی کو ہدف بنا کر پالیسی مرتب کرتا ہے، یہ آخری نکتہ خاصی اہمیت رکھتا ہے۔

لیکن کیا یہ کافی ہے؟اگرچہ جون میں ہیڈ لائن مہنگائی کم ہو کر 11.1 فیصد پر آ گئی، لیکن یہ اب بھی اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے خاصی زیادہ ہے۔ اسی طرح 8.4 فیصد پر موجود کور مہنگائی بھی ہدفی حد کے اندر نہیں آئی۔ خود اسٹیٹ بینک کا اندازہ ہے کہ آئندہ چند ماہ تک مہنگائی ہدف سے اوپر رہے گی، جس کے بعد بتدریج کم ہو کر جون 2027 تک ہدفی حد کی بالائی سطح کے قریب پہنچے گی۔ اس لیے اب بحث اس بات پر نہیں رہی کہ مہنگائی واپس آ چکی ہے یا نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ کیا موجودہ اعداد و شمار اتنے عارضی ہیں کہ مالیاتی حالات میں مسلسل نرمی کے باوجود مہنگائی سے متعلق توقعات قابو میں رہ سکیں۔

یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب اس میں نجی شعبے کے قرضوں کو بھی شامل کیا جائے۔نجی شعبے کو قرضوں کی شرحِ نمو بڑھ کر 14.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کی وجہ خود اسٹیٹ بینک کے مطابق مالیاتی حالات میں نرمی ہے۔ معاشی بحالی کے نقطۂ نظر سے اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ اضافہ صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ ورکنگ کیپیٹل، فکسڈ سرمایہ کاری اور صارفین کی فنانسنگ تینوں میں دیکھا گیا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل، ٹیلی کمیونی کیشنز اور تھوک و پرچون تجارت قرض لینے والے نمایاں شعبوں میں شامل ہیں۔تقریباً تین سال تک سخت معاشی استحکام کی پالیسی کے بعد یہی وہ بحالی ہے جس کی پالیسی سازوں کو خواہش ہونی چاہیے۔ نجی کاروباروں کو ہمیشہ کے لیے قرضوں سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، سرمایہ کاری فنانسنگ کے بغیر بحال نہیں ہو سکتی، اور نہ ہی گھرانوں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ حقیقی آمدنی میں بہتری کے بغیر صرف معاشی استحکام پر خوش ہوتے رہیں۔ اگر معاشی استحکام کے کوئی معنی ہیں تو آخرکار اسے معاشی نمو میں تبدیل ہونا ہی چاہیے۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب معاشی ترقی واپس آتی ہے تو مانیٹری پالیسی آسان نہیں بلکہ زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔استحکام کے مرحلے میں دباؤ کا شکار طلب زیادہ تر بوجھ خود اٹھا لیتی ہے۔ قرضے کم رہتے ہیں، درآمدات محدود ہوتی ہیں، سرمایہ کاری دبی رہتی ہے اور قیمتیں بڑھانے کی گنجائش بھی کم ہوتی ہے۔ جب لوگوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے پیسہ ہی نہ ہو تو مہنگائی سے متعلق توقعات کا حقیقی امتحان نہیں ہوتا۔اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب معاشی چکر کا رخ بدلتا ہے، قرضوں کی فراہمی بحال ہوتی ہے، آمدنیاں بہتر ہوتی ہیں، کاروبار دوبارہ قیمتیں بڑھانے کی قوت حاصل کرتے ہیں، اور اخراجات بڑھانے کا دباؤ پیدا ہونے لگتا ہے۔

ممکن ہے کہ یہ مرحلہ اب شروع ہو چکا ہو۔جون کے دوران گاڑیوں کی فروخت، سیمنٹ کی ترسیل، کھاد کی فروخت اور کاروباری اعتماد کے اشاریے سب معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2027 میں بجٹ میں دی گئی مراعات، ٹیرف میں اصلاحات اور نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ معیشت کو مزید سہارا دیں گے، جبکہ حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔حتیٰ کہ کرنٹ اکائونٹ بھی اسی سمت میں بڑھنے کی توقع ہے۔ مالی سال 2026 صرف 139 ملین ڈالر کے معمولی خسارے کے ساتھ ختم ہوا، لیکن اب معاشی سرگرمیوں اور درآمدات میں اضافے کے باعث اس خسارے کے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔یہ سب کوئی بری خبر نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس، معیشت بہت طویل عرصے تک انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں رہ چکی ہے، اور اگر ایک اور سال کمزور طلب کو ہی معاشی استحکام کا نام دے دیا جائے تو اسے کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔

تاہم وقت کا تعین مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔وفاقی بجٹ شاید روایتی معنوں میں مالیاتی توسیع نہیں کہلا سکتا۔ حکومت اب بھی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2 فیصد کے بنیادی سرپلس اور 3.6 فیصد کے مجموعی مالیاتی خسارے کا ہدف برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط اب بھی اس بات پر قدغن لگائے ہوئے ہیں کہ کیو بلاک مالیاتی اخراجات میں کس حد تک نرمی لا سکتا ہے۔اس کے باوجود، پالیسی کی مجموعی سمت میں تبدیلی واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ بجٹ میں دی گئی مراعات کا مقصد ایسے وقت میں معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے جب مضبوط طلب، اجرتوں میں بحالی، ترقیاتی اخراجات اور نسبتاً آسان مالیاتی سہولتوں کے لیے مجموعی دباؤ پہلے ہی بڑھ رہا ہے۔

آخرکار معاشی استحکام اپنی بھاری قیمت پہلے ہی وصول کر چکا ہے۔ کاروبار دوبارہ طلب کی واپسی چاہتے ہیں، گھرانے اپنی آمدنی میں بحالی کے خواہاں ہیں، صوبے ترقیاتی اخراجات میں اضافہ چاہتے ہیں، اور صنعت چاہتی ہے کہ اس کی پیداواری صلاحیت کا استعمال بڑھایا جائے۔ دوسری جانب حکومت اپنی آئینی مدت کے نصف سے زیادہ عرصہ مکمل کر چکی ہے۔ اگر ماضی سے کوئی سبق لیا جائے تو سیاسی دور کے دوسرے نصف کی سیاسی معیشت پہلے نصف سے خاصی مختلف ہوتی ہے۔ حکومتیں اقتدار میں آتے وقت اصلاحات اور معاشی استحکام کے وعدے کرتی ہیں، لیکن انتخابات کے قریب پہنچ کر بہت کم حکومتیں کفایت شعاری کو اپنا انتخابی نعرہ بناتی ہیں۔ اس کے برعکس، معاشی ترقی، روزگار، اجرتوں میں اضافہ، رہائش اور ترقیاتی منصوبے کہیں زیادہ مؤثر انتخابی موضوعات ہوتے ہیں۔ کیا مانیٹری پالیسی کمیٹی واقعی یہ توقع رکھتی ہے کہ آئندہ اٹھارہ ماہ کے دوران مالیاتی نرمی کے لیے دباؤ کم ہو جائے گا؟

اسی لیے صرف پالیسی ریٹ پوری کہانی بیان نہیں کرتا۔ 11.5 فیصد کی شرحِ سود کاغذ پر اب بھی کافی حد تک سخت دکھائی دے سکتی ہے، لیکن مارکیٹ کی شرحِ سود پہلے ہی نیچے آ چکی ہے، فنانسنگ کے حالات آسان ہو گئے ہیں، اور نجی شعبے کے قرضے اس کا مثبت جواب دے رہے ہیں۔ دوسری جانب مہنگائی بھی سال کے آغاز میں ریکارڈ ہونے والی غیر معمولی کم سطح سے نمایاں طور پر اوپر آ چکی ہے۔ چنانچہ مزید شرحِ سود میں کمی کیے بغیر بھی مانیٹری پالیسی کی حقیقی سختی پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ اس لیے آج کا 11.5 فیصد پالیسی ریٹ وہی مالیاتی مؤقف ظاہر نہیں کرتا جو چند ماہ پہلے یہی شرح ظاہر کرتی تھی۔ اصل اہمیت صرف اس بات کی نہیں کہ پالیسی ریٹ کہاں کھڑا ہے، بلکہ اس بات کی ہے کہ اس کے اردگرد مارکیٹ ریٹس، منی گروتھ ، نجی قرضوں کی نمو، نومینل ڈیمانڈ اور مہنگائی کس سطح پر موجود ہیں۔

یہ بحث دوبارہ توقعات کے مسئلے کی طرف لے آتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سرویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اور کاروباری اداروں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں کمی آئی ہے۔ یہ ایک اہم ثبوت ہے اور اسے صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ دیگر اشاریے زیادہ سنسنی خیز کہانی بیان کرتے ہیں۔ لیکن آخرکار توقعات کی تصدیق صرف سرویز سے نہیں بلکہ حقیقی رویّوں اور نتائج سے ہوتی ہے۔ اگر گھرانے، کاروباری ادارے اور مالیاتی منڈیاں واقعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مہنگائی پائیدار انداز میں دوبارہ 5 سے 7 فیصد کی حد میں واپس آ جائے گی، تو اجرتوں کا تعین، قیمتوں کا رویہ، قرض لینے کی طلب اور اخراجات بھی بالآخر اسی اعتماد کی عکاسی کریں گے۔

فی الحال شواہد ملے جلے ہیں۔ ہیڈ لائن مہنگائی 11.1 فیصد، بنیادی (کور) مہنگائی 8.4 فیصد، وسیع زرِ گردش اب بھی دو ہندسوں میں بڑھ رہا ہے، نجی شعبے کے قرضے 14.9 فیصد کی رفتار سے بڑھ رہے ہیں، اور مالیاتی حالات ایسے وقت میں نرم ہو رہے ہیں جب معاشی سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوئی ہیں۔ اگر اس کے ساتھ ایسا بجٹ بھی شامل کر لیا جائے جو کسی حد تک معاشی ترقی کی طرف جھکاؤ رکھتا ہو، آمدنی اور ترقیاتی اخراجات میں اضافے کے مطالبات بڑھ رہے ہوں، اور سیاسی دور اپنے دوسرے نصف میں داخل ہو چکا ہو، تو مہنگائی کی مساوات کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر آرام دہ ہو جاتی ہے۔

قریب المدت مہنگائی کے دباؤ یقیناً رسد سے متعلق رہ سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے اپنے جائزے میں عالمی اجناس کی قیمتیں، ملکی غذائی اشیا کی قیمتیں، حکومت کی جانب سے مقرر کردہ توانائی ٹیرف، پیداواری لاگت، موسمیاتی خطرات اور مالیاتی نظم و ضبط میں ممکنہ کمزوریاں نمایاں عوامل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ لیکن مانیٹری پالیسی کے لیے اس سے زیادہ اہم یہ نہیں کہ پہلا جھٹکا تیل، گندم یا بجلی سے آیا، بلکہ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ رسدی جھٹکے اتنی مضبوط طلب سے ٹکرا جائیں کہ وہ دوسرے مرحلے کی مہنگائی پیدا کرنے لگیں۔ اس لیے سوال یہ نہیں کہ آج کی مہنگائی طلب سے پیدا ہوئی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا موجودہ مالیاتی حالات اتنے سخت رہیں گے کہ آج کے رسدی جھٹکے کل کی طلب سے چلنے والی مہنگائی میں تبدیل نہ ہو جائیں۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی واضح طور پر سمجھتی ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔ اس کے مطابق آئندہ چند ماہ تک مہنگائی ہدف سے اوپر رہے گی، جس کے بعد بتدریج کم ہو کر جون 2027 تک 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے کی بالائی حد کے قریب پہنچ جائے گی۔ گزشتہ اجلاس کے برعکس، اس مرتبہ ہر رکن اس اندازے سے اتنا مطمئن نظر آتا ہے کہ شرحِ سود کو بغیر تبدیلی برقرار رکھنے پر متفق ہو گیا۔ شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ قابلِ دفاع ہے، بلکہ ایک اور کٹوتی کا جواز پیش کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا۔ تاہم، اس متفقہ فیصلے سے ظاہر ہونے والا اطمینان مزید گہرے جائزے کا متقاضی ہے۔

مانیٹری حکام نے گزشتہ معاشی چکر کا بڑا حصہ اس وقت مہنگائی سے لڑتے ہوئے گزارا جب نومینل ڈیمانڈ پہلے ہی قابو سے باہر جا چکی تھی۔ اس بار ان کے پاس یہ سہولت موجود ہے کہ معاشی بحالی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور وہ ابتدائی اشارے بروقت دیکھ سکتے ہیں۔ وسیع زرِ گردش، نجی شعبے کے قرضے، مارکیٹ کی شرحِ سود، حقیقی شرحِ سود، درآمدات اور مہنگائی سے متعلق توقعات جلد ہی واضح کر دیں گی کہ موجودہ مالیاتی مؤقف درست انداز میں متعین کیا گیا ہے یا نہیں۔ فی الحال، مانیٹری پالیسی کمیٹی کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ شرحِ سود برقرار رکھنے کے قابلِ دفاع فیصلے کو اس بات کا ثبوت نہ سمجھ بیٹھے کہ مشکل مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔